سیدھے مواد پر جائیں
سنن ابن ماجہ

نمبر 367

نمبر 367کتاب 1، نمبر 101
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبٍ، وَكَانَتْ، تَحْتَ بَعْضِ وَلَدِ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهَا صَبَّتْ لأَبِي قَتَادَةَ مَاءً يَتَوَضَّأُ بِهِ فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ فَأَصْغَى لَهَا الإِنَاءَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا ابْنَةَ أَخِي أَتَعْجَبِينَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ أَوِ الطَّوَّافَاتِ ‏"‏ ‏.‏
کبشہ بنت کعب رضی اللہ عنہما جو ابوقتادہ کی بہو تھیں کہتی ہیں کہ انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے وضو کے لیے پانی نکالا تو ایک بلی آئی اور اس میں سے پینے لگی، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے برتن جھکا دیا، میں ان کی جانب حیرت سے دیکھنے لگی تو انہوں نے کہا: بھتیجی! تمہیں تعجب ہو رہا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: بلی ناپاک نہیں ہے وہ گھروں میں گھومنے پھرنے والوں یا والیوں میں سے ہے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAl-Albani
  • SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi
  • Hasan SahihShuaib Al Arnaut
  • Isnaad SahihZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 1 · The Book of Purification and its Sunnah

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔