”وہ لوگ سب سے برے لوگوں میں سے ہیں، جو قیامت کے وقوع کے وقت باحیات رہيں گے اور جو قبروں کو مسجد بنا لیں گے“۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن مسعودٍ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكُهُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ، وَمَنْ يَتَّخِذُ الْقُبُورَ مَسَاجِدَ».
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا : ”وہ لوگ سب سے برے لوگوں میں سے ہیں، جو قیامت کے وقوع کے وقت باحیات رہيں گے اور جو قبروں کو مسجد بنا لیں گے“۔
رواه أحمددرجہحسن
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ سب سے برے لوگ کون ہیں؟ آپ نے بتایا کہ سب سے برے لوگ وہ لوگ ہيں، جو اس وقت باحیات رہیں گے، جب قیامت قائم ہوگی۔ اسی طرح سب سے برے لوگوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں، جو قبروں کو مسجد بنا لیں گے۔ یعنی قبروں کے پاس یا قبروں کی جانب منہ کرکے نماز پڑھیں گے۔
فوائد
قبروں پر مسجد بنانا حرام ہے، کیوں کہ اس سے شرک کے دروازے کھلتے ہيں۔
مسجد بنائے بغیر بھی قبروں کے پاس نماز پڑھنا حرام ہے۔ کیوں کہ مسجد اس جگہ کا نام ہے، جہاں سجدہ کیا جائے، چاہے وہاں کوئی تعمیر نہ بھی ہو۔
نیک لوگوں کی قبروں کو، وہاں نماز پڑھنے کے ارادے سے مسجد بنانے والا سب سے برے لوگوں میں سے ایک ہے، چاہے اس کا دعوی اللہ کا تقرب حاصل کرنے ہی کا کیوں نہ ہو۔
حوالہ
مسند أحمد (6/ 394) (3844).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص191).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص176).
أحكام الجنائز، للألباني (1/ 217).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com