قیامت تب تک نہ آئے گی جب تک کہ مکہ و مدینہ اور اس کے گرد و نواح سے ایسی آگ نمودار نہ ہو جائے جو شام میں واقع بُصریٰ شہر میں موجود اونٹوں کی گردنیں روشن کر دے گی۔ مدینہ میں سن چھ سو چَوّن (654) ہجری میں ایک آگ ظاہر ہوئی تھی جو بہت بڑی تھی۔ یہ مدینہ کے مشرقی جانب مقامِ حرہ کے پیچھے سے نمودار ہوئی تھی۔ شام اور باقی تمام علاقوں کے رہنے والے لوگ اس آگ کے بارے میں تواتر کے ساتھ جانتے ہیں اور اس وقت کے علماء نے بھی اپنی کتابوں میں اس کا تذکرہ کیا ہے جیسے امام نووی، امام قرطبی اور امام ابو شامہ رحمہم اللہ۔
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، أبو زكريا محيي الدين النووي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: الثانية 1399هـ. مرقاة المفاتيح، علي بن سلطان القاري ، دار الفكر، بيروت، لبنان، الطبعة: الأولى 1422هـ، 2002م. منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، حمزة محمد قاسم، راجعه: عبد القادر الأرناؤوط، عني بتصحيحه ونشره: بشير محمد عيون، الناشر: مكتبة دار البيان، دمشق، مكتبة المؤيد، الطائف، عام النشر: 1410هـ، 1990م.