سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جبریل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس تشریف لائے اور پوچھا: آپ اپنے یہاں اہل بدر کو کیسا سمجھتے ہیں؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا: وہ (ہمارے ہاں ) سب سے بہتر مسلمانوں میں سے ہیں۔

عن رفاعة بن رافع الزرقي رضي الله عنه قال: جاء جبريل إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال: ما تَعُدُّونَ أهل بدر فيكم؟ قال: «من أفضل المسلمين» أو كلمة نحوها. قال: وكذلك من شهد بدرا من الملائكة.
رفاعہ بن رافع الزرقی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس تشریف لائے اور پوچھا: آپ اپنے یہاں اہل بدر کو کیسا سمجھتے ہیں؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا: وہ (ہمارے ہاں) سب سے بہتر مسلمانوں میں سے ہیں۔ یا آپ ﷺ نے کوئی ایسی ہی بات کہی۔ اس پر جبریل علیہ السلام نے کہا کہ فرشتوں میں سے جنھوں نے جنگ بدر میں شرکت کی تھی، وہ بھی ایسے ہی ہیں۔ (یعنی فرشتوں میں سب سے افضل ہیں۔)
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ایک جلیل القدر صحابی رفاعہ رضی اللہ عنہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور پوچھا کہ جن لوگوں نے بدر کے جہاد میں شرکت کی تھی ان کا کیا مرتبہ ہے؟۔ جب کہ اللہ نے اس جنگ میں اپنے نبی اور ان مؤمنین کی بھرپور نصرت کی تھی، جو آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ ہمارے ہاں سب سے بہتر مسلمانوں سے ہیں۔ جبریل علیہ السلام نے اس کے جواب میں کہا کہ اسی طرح وہ فرشتے بھی (سب سے افضل فرشتے) ہیں، جنھوں نے جنگ بدر میں شرکت کی تھی اور قتال کیا تھا۔

حوالہ

- صحيح البخاري، للإمام محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق محمد الناصر، دار طوق النجاة،الطبعة الأولى، 1422هـ. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418هـ. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ. - مرقاة المفاتيح :علي بن سلطان محمد الهروي القاري -دار الفكر، بيروت – لبنان الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. -التوضيح لشرح الجامع الصحيح/ عمر بن علي بن الملقن -المحقق: دار الفلاح للبحث العلمي وتحقيق التراث- دار النوادر، دمشق – سوريا- الطبعة الأولى، 1429 هـ - 2008 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
فرشتے

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com