سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جب آدم علیہ السلام وفات پا گئے تو فرشتوں نے انہیں پانی سے طاق مرتبہ غسل دیا اور ان کے لیے قبر تیار کی اور کہا کہ یہی سنت ان کی اولاد میں باقی رہے گی۔

عن أبي بن كعب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لما تُوُفِّيَ آدمُ غَسَّلَتْه الملائكةُ بالماء وِتْرًا، وأَلْحَدُوا له، وقالوا: هذه سُنَّةُ آدَمَ في وَلَدِه».
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب آدم علیہ السلام وفات پا گئے تو فرشتوں نے انہیں پانی سے طاق مرتبہ غسل دیا اور ان کے لیے قبر تیار کی اور کہا کہ یہی سنت ان کی اولاد میں باقی رہے گی“۔
اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

جب آدم علیہ السلام وفات پا گئے تو فرشتوں نے انہیں پانی سے طاق مرتبہ غسل دیا، ایک مرتبہ، یا تین مرتبہ ،یا پانچ مرتبہ۔ ان کے لیے قبر کھودی گئی اور اس میں ہی ایک جانب شگاف کر کے اسی میں انہیں دفن کر دیا اور فرشتوں نے کہا کہ یہی سنت ان کی اولاد میں باقی رہے گی“۔ یعنی غسل اور مذکورہ کیفیت پر تدفین ان کی اولاد کے ساتھ بھی کی جائے گی جیسا کہ ان کے باپ کے ساتھ کیا گیا ہے اور یہی طریقہ ان کے ہدایت یافتہ اولاد اختیار کریں گے ۔

حوالہ

-المستدرك على الصحيحين، تحقيق: مصطفى عبد القادر عطا، نشر: دار الكتب العلمية – بيروت، لبنان، الطبعة: الأولى، 1411ه – 1990م. -المعجم الأوسط، لسليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي الطبراني، المحقق: طارق بن عوض الله بن محمد , عبد المحسن بن إبراهيم الحسيني، الناشر: دار الحرمين – القاهرة. -صحيح الجامع الصغير وزياداته، للألباني، نشر: المكتب الإسلامي. -النهاية في غريب الحديث والأثر، لابن الأثير، نشر: المكتبة العلمية - بيروت، 1399هـ - 1979م، تحقيق: طاهر أحمد الزاوى - محمود محمد الطناحي. -مختار الصحاح، لزين الدين أبو عبد الله محمد بن أبي بكر بن عبد القادر الحنفي الرازي، تحقيق: يوسف الشيخ محمد، نشر: المكتبة العصرية - الدار النموذجية، بيروت – صيدا، لطبعة: الخامسة، 1420هـ / 1999م. -مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
فرشتے

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com