عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا قرأتم: الحمد لله فاقرءوا: ﴿بسم الله الرحمن الرحيم﴾ إنها أم القرآن، وأم الكتاب، والسبع المثاني، و﴿بسم الله الرحمن الرحيم﴾ إحداها.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم الحمد للہ (سورہ فاتحہ) پڑھو تو بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی پڑھو کیوں کہ یہ (سورہ فاتحہ) ام القرآن، ام الکتاب اور سبع مثانی ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم اس کی ایک آیت ہے۔
اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارقطنی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں نماز میں سورہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کی مشروعیت بیان کی جا رہی ہے اور اس کی توجیہ یہ بیان کی جا رہی ہے کہ یہ سورہ فاتحہ کا جز ہے۔ اس کی قرأت سے مراد سرّی ہے جہری نہیں ہے کیوں کہ بلند آواز سے نہ پڑھنے کے بارے میں بہت ساری صحیح حدیثیں آئی ہوئی ہیں۔ امام طحاوی فرماتے ہیں: نماز میں بسم اللہ کو بلند آواز سے نہ پڑھنا رسول اللہ ﷺ اور خلفاء سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔
حوالہ
سنن الدارقطني، تحقيق: شعيب الأرنؤوط وآخرون، ط1، مؤسسة الرسالة، بيروت، لبنان، 1424 هـ.
صحيح الجامع الصغير وزيادته للألباني، ط3، المكتب الإسلامي، بيروت، 1408هـ.
سنن البيهقي الكبرى، أحمد بن الحسين أبو بكر البيهقي، مكتبة دار الباز، مكة المكرمة، 1414هـ – 1994م، تحقيق: محمد عبد القادر عطا.
توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبدالله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، ط الخامسة 1423هـ.
عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه أنه قال: «أنا أَوَّلُ من يَجْثُو بين يَدَيِ الرحمن للخُصُومة يوم القيامة» وقال قيس بن عباد: وفيهم أُنْزِلَتْ : {هذان خصمان اخْتَصَمُوا في ربهم} [الحج: 19] قال: "هم الذين تَبَارَزُوا يوم بَدْرٍ: حمزة، وعلي، وَعُبَيْدَةُ، أو أبو عبيدة بن الحارث، وَشَيْبَةُ بن رَبِيعَةَ، وعتبة بن رَبِيعَةَ، والوليد بن عُتْبَةُ".
علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: "میں پہلا آدمی ہوں گا، جو قیامت کے دن رحمن کے سامنے جھگڑنے کے لیے گھٹنوں پر بیٹھے گا"۔ قیس بن عباد کہتے ہیں: انہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی : {هذان خصمان اخْتَصَمُوا في ربهم} [الحج: 19] (یہ دو فریق ہیں، جو اپنے رب کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں)۔ وہ کہتے ہیں: یہی لوگہیں جو بدر کے دن جنگ سے پہلے مقابلہ آرائی کے لیے سامنے آئے تھے۔ یعنی حمزہ، علی، عبیدہ یا ابو عبیدہ بن حارث، شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس اثر سے یہ معلوم ہوا کہ علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بارے میں یہ بتایا ہے کہ وہ پہلے شخص ہوں گے، جو قیامت کے دن اللہ رب العالمین کے سامنے جھگڑنے کے لیے گھٹنوں پر بیٹھیں گے۔ ساتھ ہی یہ کہ آیت کریمہ {هذان خصمان اختصموا في ربهم} ان کے نیز حمزہ اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جب وہ غزوۂ بدر کے موقعے پر کفر کے سرغنوں یعنی شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ سے مقابلے کے لیے سامنے آئے تھے۔ یہ اثر مبارزت یعنی معرکہ شروع ہونے سے پہلے دو لوگوں کے بیچ تلوار کی جنگ کے جائز ہونے کی دلیل ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري -الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
البدرُ التمام شرح بلوغ المرام، الحسين بن محمد بن سعيد، المعروف بالمَغرِبي، المحقق: علي بن عبد الله الزبن: دار هجر الطبعة: الأولى، 1414 هـ - 1994 م.
إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، أحمد بن محمد بن أبى بكر القسطلاني القتيبي المصري، المطبعة الكبرى الأميرية، مصر- الطبعة: السابعة، 1323 هـ.
منحة العلام في شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله الفوزان، طبعة دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى 1428.
توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م.
تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام: تأليف الشيخ صالح الفوزان، عناية عبد السلام السليمان، مؤسسة الرسالة الطبعة الأولى.
فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية بالقاهرة، تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي، الطبعة الأولى 1427.
عن عقبة بن عامر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على المنبر، يقول: "{وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة} [الأنفال: 60]، ألا إن القُوَّةَ الرَّميُ، ألا إن القوة الرمي، ألا إن القوة الرمي".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر کھڑے ہوکر کہتے ہوئے سنا ہے:" {وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة} [سورہ الأنفال: 60] (تم ان کے مقابلے میں طاقت بھر قوت کی تیاری کرو), سن لو! قوت تیر اندازی ہے۔ سن لو! قوت تیر اندازی ہے۔ سن لو! قوت تیر اندازی ہے"۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قوت کی تفسیر بیان کی ہے، جسے دشمنوں اور کافروں کے مقابلے کی خاطر تیار رکھنے کا حکم دیا گيا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس قوت سے مراد تیر اندازی ہے، کیونکہ یہ دشمن پر زیادہ کاری ضرب لگانے کے ساتھ ساتھ اس کے خطرے سے کہیں زیادہ محفوظ بھی رکھتی ہے۔ حدیث میں "الرمي" یعنی پھینکنے اور چلانے کا لفظ آیا ہے اور جس وقت یہ آیت اتری تھی، اس وقت میدان جنگ میں تیر چلائے جاتے تھے۔ لیکن اس آیت کا اعجاز دیکھیے کہ اس میں مطلق قوت کا لفظ آيا ہے، تاکہ زمان و مکان کی قیود سے ماورا ساری قوتیں اس میں شامل ہو جائیں۔ اسی طرح حدیث کا بھی علمی اعجاز دیکھیے کہ اس میں مطلق "الرمي" یعنی پھینکنے اور چلانے کا لفظ آیا ہے، جس میں پھینکنے اور چلانے کی ساری شکلیں شامل ہیں، چاہے وہ نئی سے نئی ہی کیوں نہ ہوں اور جدید سے جدید ہتھیاروں کے ذریعے ہی کیوں نہ ہوں۔
حوالہ
- صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
- منحة العلام في شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله الفوزان، طبعة دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى 1428.
- توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م.
- تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام:تأليف الشيخ صالح الفوزان- عناية عبد السلام السليمان - مؤسسة الرسالة الطبعة الأولى.
- فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية القاهرة، تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي، الطبعة الأولى 1427.
- بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک سورج اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکل نہ آئے۔ جب سورج اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکل آئے گا اور لوگ دیکھ لیں گے، تو سب لوگ ایمان لے آئیں گے۔ لیکن یہ وہ وقت ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالی نے کہا ہے : "کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے کام نہ آئے گا، جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو۔"[الانعام: 158] قیامت اس قدر جلد آ جائے گی کہ دو آدمیوں نے کپڑا پھیلا رکھا ہوگا، لیکن نہ تو وہ خرید و فروخت کرسکیں گے اور نہ اسے لپیٹ ہی سکیں گے۔ قیامت اس قدر جلد آئے گی کہ ایک آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر آ رہا ہوگا اور وہ اسے پی نہیں سکے گا۔ قیامت اس طرح آجائے گی کہ ایک شخص اپنا حوض تیار کر رہا ہوگا اور اس سے پانی پی نہیں سکے گا۔ قیامت اس طرح آجائے گی کہ ایک آدمی اپنا لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھائے گا اور وہ اس کو کھا نہیں سکے گا"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہوگا اور جب لوگ ایسا ہوتا ہوا دیکھ لیں گے، تو سب کے سب ایمان لے آئیں گے۔ لیکن اس وقت کافر کو ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا اور نہ عمل صالح اور توبہ ہی کچھ کام دے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا کہ قیامت اچانک قائم ہوگی۔ ہوگا یہ کہ لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے اور قیامت قائم ہوجائے گی۔ چنانچہ قیامت اس طرح آ جائے گی کہ خرید وفروخت کرنے والے دو لوگ اپنے درمیان دیکھنے دکھانے کے لیے کپڑا پھیلا چکے ہوں گے، لیکن نہ تو خرید و فروخت کر پائیں گے اور نہ ہی اسے لپیٹ سکیں گے۔ قیامت اس طرح آ جائے گی کہ انسان اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر آچکا ہوگا، لیکن اسے پی نہ سکے گا۔ قیامت اس طرح قائم ہوجائے گی کہ انسان اپنا حوض درست اور تیارکر رہا ہوگا، لیکن اس سے پانی نہیں پی سکے گا۔ قیامت اس طرح قائم ہوگی کہ انسان اپنا لقمہ منہ تک اٹھا چکا ہوگا، لیکن کھا نہیں سکے گا۔
فوائد
اسلام اور توبہ اسی وقت تک قابل قبول ہیں، جب تک کہ سورج اپنے ڈوبنے کی جگہ سے طلوع نہ ہو جائے۔
ایمان اور عمل صالح کے ذریعہ قیامت کی تیاری کرنے کی ترغیب، کیوں کہ قیامت اچانک آ جائے گی۔
حوالہ
صحيح البخاري (8/ 106) (6506)، صحيح مسلم (1/ 137) (157)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري (23/ 92).
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’موت کو ایک سفید و سیاہ رنگ کے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا۔ پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا: اے اہل جنت! وہ گردنیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے۔ وہ کہے گا : کیا تم اس کو پہچانتے ہو؟ وہ جواب دیں گے: جی ہاں! یہ موت ہے۔ ان میں سے ہر شخص اسے دیکھ چکا ہو گا۔ پھر وہ منادی کرنے والا آواز دے گا : اے اہل جہنم! وہ گردنیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے۔ وہ کہے گا : تم اس کو پہچانتے ہو؟ وہ اس کو پہچانتے ہوئے جواب دیں گے : جی ہاں، یہ موت ہے۔ ان میں سے ہر شخص اسے دیکھ چکا ہو گا۔ پھر اس مینڈھے کو ذبح کیا جائے گا اور اعلان کرنے والا آواز دے گا : اے اہل جنت! ہمیشہ جنت میں رہو، تمھیں موت نہيں آنی ہے۔ اور اے اہل دوزخ! تم ہمیشہ دوزخ میں رہو، اب تمھیں موت نہيں آنی ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ ٱلْحَسْرَةِ إِذْ قُضِىَ ٱلْأَمْرُ وَهُمْ فِى غَفْلَةٍ} [سورۃ مریم: 39] یعنی یہ دنیا دار غفلت میں پڑے ہیں اور یہ ایمان نہیں لا رہے۔‘‘
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ موت کو قیامت کے دن نر مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا، جس کا رنگ سفید و سیاہ ہوگا۔ پھر ندا لگائے جائے گی: اے جنت والو! چنانچہ وہ آواز سن کر اپنی گردن اور سر اٹھا کر دیکھنے لگیں گے۔ منادی ان سے پوچھے گا: کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، یہ موت ہے۔ دراصل وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے اور پہچان رہے ہوں گے۔ پھر ندا لگانے والا ندا لگائے گا: اے جہنمیو! یہ سن کر وہ اپنی گردن اور سر اٹھا کر دیکھنے لگیں گے۔ منادی کہے گا: کیا تم اسے جانتے ہو؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، یہ موت ہے۔ دراصل وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے۔ پھر اس مینڈھے کو ذبح کر دیا جائے گا اور منادی کہے گا : اے جنتیو! تم ہمیشہ ہمیش کے لیے جنت میں رہو۔ اب تمھیں موت نہیں آنے والی۔ اے جہنمیو! ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہو۔ اب تمھیں موت نہیں آنے والی۔ یہ اعلان اس لیے کیا جائے گا کہ ایمان والے نعمتوں کا لطف لے سکیں اور کافروں کے عذاب میں سختى پیدا ہو جائے۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {تو انہیں اس رنج و افسوس کے دن کا ڈر سنا دے، جب کہ کام انجام کو پہنچا دیا جائے گا اور یہ لوگ غفلت اور بے ایمانی میں ہی ره جائیں گے.} معلوم ہوا کہ قیامت کے دن جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا اور ہر ایک اپنے اپنے ٹھکانے کو پہنچ جائے گا اور وہاں ہمیشگی کی زندگی گزارے گا۔ اس دن بدکار کو حسرت وندامت ہوگی کہ اس نے نیکی نہیں کی اور کوتاہی کرنے والے کو حسرت وپشیمانی ہوگی کہ اس نے خیر کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لیا۔
فوائد
آخرت میں انسان کا آخری ٹھکانہ یا تو ہمیشہ کے لیے جنت ہوگا یا ہمیشہ کے لیے جہنم۔
قیامت کے ہولناکی سے بہت زیادہ ڈرایا گیا ہے اور یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ حسرت وندامت کا دن ہوگا۔
یہ وضاحت کی گئی ہے کہ اہل جنت ہمیشہ خوش و خرم رہیں گے اور اہل جہنم ہمیشہ حزن و ملال میں رہیں گے۔
حوالہ
صحيح البخاري (6/ 93) (4730)، صحيح مسلم (4/ 2188) (2849)، التوضيح شرح الجامع الصحيح (22/595)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري (19/ 52)، البحر المحيط الثجاج (43/686).
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "یہودی وہ لوگ ہیں، جو اللہ کے غضب کے شکار ہوئے اور نصاری وہ لوگ ہيں، جو گمراہی میں پڑ گئے۔"
رواه الترمذيدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ یہودی ایک ایسی قوم ہے، جو اللہ کے غضب کی شکار ہوئی، کیوں کہ اس نے حق کو جاننے کے باجود اس پر عمل نہیں کیا۔ جب کہ نصاری ایک گمراہ قوم ہے، کیوں کہ ان کا عمل علم کی روشنی سے محروم تھا۔
فوائد
علم اور عمل دونوں ایک ساتھ جمع ہو جانا غضب کے شکار ہونے والے اور گمراہ لوگوں کے راستے سے نجات کا باعث ہے۔
اس حدیث میں یہود و نصاری کے راستے پر چلنے سے خبردار کیا گیا ہے اور سیدھے راستے یعنی اسلام پر گامزن رہنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
ویسے تو یہود و نصاری دونوں گمراہ اور اللہ کے غضب کی شکار قومیں ہیں، لیکن یہودیوں کا سب سے خاص وصف اللہ کے غضب کا شکار ہونا اور عیسائیوں کا سب سے خاص وصف گمراہی ہے۔
حوالہ
سنن الترمذي (5/ 71) (2954)، النهاية في غريب الحديث و الأثر ( ص 548)، المنهل العذب المورود (5/250)، البحر المحيط الثجاج (9/248).
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: "وہی تو ہے جس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور کچھ دوسری متشابہات۔ پھر جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور انہیں معنی پہنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے حقیقی معنی اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ ہاں جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان پر ایمان ہے۔ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق تو صرف دانش مند ہی حاصل کرتے ہیں۔" [آل عمران: 7]. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآن کریم کی متشابہ آیات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، تو سمجھ لو کہ یہی وہ لوگ ہیں، جن کا نام اللہ تعالٰی نے اصحاب زیغ (کجی والے) رکھا ہے۔ ایسے لوگوں سے اجتناب کرو۔‘‘
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: "وہی تو ہے جس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور کچھ دوسری متشابہات، یعنی ملتی جلتی ہیں۔ پھر جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور انہیں معنی پہنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالاں کہ ان کے حقیقی معنی اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ ہاں جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان پر ایمان ہے۔ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق تو صرف دانش مند ہی حاصل کرتے ہیں۔" اس آیت میں اللہ پاک نے یہ بتایا ہے کہ اسی نے اپنے نبی پر قرآن نازل فرمایا، جس میں کچھ واضح طور پر دلالت کرنے والی آیتیں ہیں، جن کے احکام معروف ومشہور ہیں اور ان میں کوئی التباس نہیں ہے۔ یہ آیتیں ہی قرآن کی اصل اور مرجع ہیں۔ اختلاف کے وقت انہی آیتوں کی طرف لوٹنا چاہیے۔ جب کہ قرآن کی کچھ آیتیں ایسی بھی ہیں، جن میں ایک سے زیادہ معانی کا احتمال پایا جاتا ہے۔ بعض لوگوں پر ان کے معانی کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے یا وہ یہ گمان کر بیٹھتے ہیں ان آیتوں کا دوسری آیتوں سے تعارض وتصادم ہے۔ پھر اللہ تعالی نے ان آیتوں کے تئیں لوگوں کے تعامل کی وضاحت فرمائی۔ چنانچہ جن لوگوں کے دل حق سے پھرے ہوئے ہیں، وہ محکم آیتوں کو چھوڑ دیتے اور (ایک سے زائد معانی پر محتمل) متشابہ آیتوں کو لےلیتے ہیں۔ اس سے ان کا مقصد شبہات پھیلانا اور لوگوں کو گمراہ کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف جو لوگ علم میں پختہ ہیں وہ ان متشابہ آیتوں کو سمجھتے ہیں اور انہیں محکم آیتوں کی طرف لوٹاتے ہیں، ان پر ایمان لاتے ہیں اور یہ اقرار کرتے ہیں کہ وہ اللہ پاک کی جانب سے ہیں، اس لیے ان کے درمیان تعارض اور التباس ناممکن ہے۔ لیکن اس سے نصیحت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو عقل سلیم کے حامل ہیں۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ اگر انہیں متشابہ آیتوں کی جستجو میں پڑے ہوئے لوگ نظر آئیں، تو جان لیں کہ یہی وہ لوگ ہیں، جن کا نام اللہ تعالی نے اس آيت میں لیا ہے : "جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے"، اس لیے ان سے دور رہیں اور ان کی باتوں پر کان نہ دھریں۔
فوائد
قرآن مجید کی محکم آیتیں وہ ہیں، جن کى دلالت واضح اور جن کے معانی ظاہر ہیں اور متشابہ آیتیں وہ ہیں، جو ایک سے زائد معانی کا احتمال رکھتی ہوں اور (ان کو سمجھنے کے لیے) غور وفکر اور فہم وبصیرت کی ضرورت ہو۔
گمراہ، بدعتی اور لوگوں کو گمراہی اور شک وشبہ میں مبتلا کرنے کی غرض سے شبہات پیدا کرنے والوں کی صحبت میں رہنے کی ممانعت۔
آیت کا اختتام اللہ کے فرمان "کسی چیز سے صحیح سبق تو صرف دانش مند ہی حاصل کرتے ہیں" سے کر کے دراصل گمراہ لوگوں کی مذمت اور گہرے علم والے لوگوں کی تعریف کی گئی ہے۔ یعنی یہ کہا گیا ہے کہ جس نے نصیحت حاصل نہیں کی اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلتا رہا، وہ عقل مندوں میں سے نہیں ہے۔
متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑنا دل کی گمراہی کا سبب ہے۔
جن متشابہ آیتوں کا معنی و مفہوم سمجھنے میں دشواری ہو، انہیں محکم آیتوں کی طرف لوٹانا واجب ہے۔
اللہ پاک نے قرآن کی بعض آیتوں کو محکم اور بعض کو متشابہ بنایا ہے، تاکہ لوگوں کی آزمائش ہوسکے اور اہل ایمان اور اہل ضلالت میں فرق ہو سکے۔
قرآن میں متشابہ آیتوں کے پیچھے یہ مصلحت کار فرما ہے کہ عام لوگوں کی مقابلہ میں علماء کی فضیلت آشکارا ہو سکے اور لوگوں کو اپنی عقل کی کوتاہی معلوم ہوسکے، تاکہ وہ اپنے رب کے سامنے سر تسلیم خم کردیں اور اپنی عاجزی کا اعتراف کریں۔
علم میں پختگی کی فضیلت اور اس پر ثابت قدم رہنے کی ضرورت۔
{ وما يعلم تأويله إلا الله والراسخون في العلم } اس آیت میں (اللہ) پر وقف کرنے سے متعلق مفسرین کے دو اقوال ہیں۔ جو (اللہ) پر وقف کے قائل ہیں، ان کے نزید تاویل سے مراد چیز کی حقیقت و کیفیت اور اس چیز کا علم ہے، جس کا حصول ناممکن ہے۔ جیسے روح اور قیامت جیسی چیزیں، جن کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ علم میں پختگی رکھنے والے اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی حقیقت کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔ اس طرح وہ (بے جا تاویل سے) بچ جاتے ہیں اور (دوسروں کو بھی گمراہی سے) بچا لیتے ہیں۔ البتہ جو وصل کے قائل ہیں اور (اللہ) پر وقف نہیں کرتے، ان کے نزدیک تاویل سے مراد تفسیر اور وضاحت ہے۔ ان کے نزدیک معنی یہ ہے کہ اللہ اسے جانتا ہے اور علم میں پختگی رکھنے والے بھی اسے جانتے ہیں۔ چناں چہ وہ ان پر ایمان رکھتے اور انہیں محکم آیتوں کی طرف لوٹاتے ہیں۔
حوالہ
صحيح البخاري (6/ 33) (4547)، صحيح مسلم (4/ 2053) (2665)، فتح الباري (8/211)، شرح النووي على مسلم (16/217)، النهاية في غريب الحديث والأثر (ص 407، 465)، فتح الودود في شرح سنن أبي داود (4/415)، تحفة الأبرار شرح مصابيح السنّة (1/129)، البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (41/ 559).
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی اکرمﷺ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول! میرے دو غلام ہیں، جومجھ سے جھوٹ بولتے ہیں، میرے مال میں خیانت کرتے ہیں اور میری نافرمانی کرتے ہیں۔ جب کہ میں انہیں گالیاں دیتا ہوں اور مارتا ہوں۔ میرا ان کا نپٹارا کیسے ہو گا؟ آپﷺ نے فرمایا : ’’انہوں نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہے، تمہاری نافرمانی کی ہے اور تم سے جو جھوٹ بولا ہے، ان سب کا شمار و حساب ہو گا اور تم نے انہیں جو سزائیں دی ہیں ان کا بھی شمار و حساب ہو گا۔ اب اگر تمہاری سزائیں ان کے گناہوں کے بقدر ہوئیں تو تم اور وہ برابر برابر چھوٹ جاؤ گے۔ نہ تمہارا حق ان پر رہے گا اور نہ ان کا حق تم پر۔ اور ا گر تمہاری سزا ان کے قصور سے کم ہوئی تو تمہارا فضل و احسان ہو گا۔ اور اگر تمہاری سزا ان کے گناہوں سے زیادہ ہوئی تو تجھ سے ان کے ساتھ زیادتی کا بدلہ لیا جائے گا"۔ (یہ سن کر) وہ شخص زور زور سے روتا ہوا واپس ہو گیا، تو آپﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم کتاب اللہ نہیں پڑھتے؟ (جس میں لکھا ہے : ) "قیامت کے دن ہم درمیان میں لا رکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازو کو۔ پھر کسی پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا"۔ اس شخص نے کہا: قسم اللہ کی! میں اپنے اور ان کے لیے اس سے بہتر اورکوئی بات نہیں پاتا کہ ہم ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں۔ میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وہ سب آزاد ہیں۔
رواه الترمذيدرجہضعيف
تشریح
ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے غلاموں کی نازیبا حرکتوں کی شکایت کرنے لگا کہ اس کے غلام بات کرتے وقت اس سے جھوٹ بولتے ہیں، امانت میں اس کی خیانت کرتے ہیں، معاملات میں اس کے ساتھ فریب کرتے ہیں اور اس کا حکم نہیں مانتے۔ جب کہ ان کو راہ راست پر لانے اور ان کی سرزنش کرنے کے لیے انہیں گالی دیتا اور مارتا پیٹتا ہے۔ اس شخص نے آپ سے دریافت کیا کہ قیامت کے دن ان غلاموں کے ساتھ اس کی کیا حالت ہوگی؟ تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: انہوں نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہے، تمہاری نافرمانی کی ہے اور تم سے جو جھوٹ بولا ہے، لہذا ان سب کا شمار و حساب ہو گا اور تم نے انہیں جو سزائیں دی ہیں ان کا بھی شمار و حساب ہو گا۔ اب اگر تمہاری سزائیں ان کے گناہوں کے بقدر ہوئیں، تو نہ تمہارا حق ان پر رہے گا اور نہ ان کا حق تم پر۔ جب کہ ا گر تمہاری سزا ان کے قصور سے کم ہوئی، تو یہ تمھارے اجر و ثواب میں اضافے کا باعث بنے گا۔ لیکن اگر تمہاری سزا ان کے گناہوں سے زیادہ ہوئی، تو تجھ سے قدر زائد لے کر ان کو دے دیا جائے گا۔ (یہ سن کر) وہ شخص زور زور سے رونے لگا۔ اس کی یہ حالت دیکھ آپﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم کتاب اللہ نہیں پڑھتے؟ (اللہ نے فرمایا ہے ): {قیامت کے دن ہم درمیان میں لا رکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازو کو۔ پھر کسی پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا، تو ہم اسے لا حاضر کریں گے اور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے۔" [الأنبياء: 47] یہ سن کر اس شخص نے کہا: قسم اللہ کی! میں اپنے اور ان کے لیے اس سے بہتر اور کوئی بات نہیں پاتا کہ میں ان سے جدا ہو جاؤں اور انہیں چھوڑ دوں۔ میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وہ سب اللہ کی رضا کی خاطر آزاد ہیں، فقط اس لیے کہ حساب وکتاب اور عذاب سے محفوظ رہ سکوں۔
فوائد
عذاب الہی کے خوف سے اس صحابی نے اپنے غلاموں کو صدق دلی کے ساتھ آزاد کر دیا۔
ظالم سے اس کے ظلم کے برابر یا اس سے کم قصاص (بدلہ) لینا جائز ہے، لیکن زیادتی کرنا حرام ہے۔
خادموں اور کمزور وناتواں لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ترغیب۔
حوالہ
سنن الترمذي (5/ 227) (3165)، النهاية في غريب الحديث والأثر (ص 804)، مرقاة المفاتيح (8/3533)، تحفة الأحوذي (9/3).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com