مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : میں ایک سفر میں اللہ کے نبی ﷺ کے ساتھ تھا۔ میں نے آپ ﷺ کے موزے اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : "انہیں رہنے دو۔ میں نے ان کے اندر اپنے پاؤں طہارت کی حالت میں داخل کیے تھے"۔ پھر آپ نے موزوں پر مسح فرمایا۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک سفر میں تھے۔ سفر کے دوران آپ نے وضو کیا۔ وضو کرتے ہوئے جب پاؤں دھونے کی باری آئی، تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے موزوں کو اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، تاکہ آپ اپنے پیروں کو دھو سکیں۔ ان کو ہاتھ بڑھاتے ہوئے دیکھ کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: انھیں رہنے دو۔ ان کو مت اتارو۔ کیوں کہ جب میں نے موزے پہنے تھے، اس وقت میں باوضو تھا۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پیروں کو دھونے کے بجائے ان پر مسح کیا۔
فوائد
وضو کے وقت موزوں پر مسح کی اجازت صرف حدث اصغر دور کرنے کے لیے ہے۔ رہی بات حدث اکبر کی، جس میں غسل واجب ہوتا ہے، تو اس میں دونوں پیروں کو دھونا ضروری ہے۔
مسح کرتے وقت تر ہاتھوں کو موزے کے اوپری حصے پر ایک بار پھیرنا ہے۔ ہاتھوں کو موزوں کے نچلے حصے پر نہيں پھیرنا ہے۔
موزوں پر مسح کرنے کے لیے شرط یہ ہے کہ موزوں کو مکمل وضو، جس میں قدموں کو دھویا گیا ہو، کے بعد پہنا گیا ہو، موزے پاک ہوں، قدم کے اس حصے کو چھپاتے ہوں جسے وضو کرتے وقت دھونا ضروری ہے، مسح حدث اکبر نہیں بلکہ حدث اصغر دور کرنے کے لیے کیا جائے اور شریعت کی جانب سے متعین وقت کے اندر کیا جائے۔ شریعت نے مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات، جب کہ مسافر کے لیے تین دن اور تین رات مسح کرنے کی اجازت دی ہے۔
"خفین" یعنی چمڑے کے موزوں پر قیاس کرتے ہوئے دوسری چیزوں سے بنے ہوئے موزوں پر بھی مسح کرنا جائز ہوگا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا حسن اخلاق اور حسن تعلیم کہ مغیرہ رضی اللہ عنہ کو موزے اتارنے سے منع کیا، تو ساتھ میں اس کی وجہ بھی بتا دی کہ موزے طہارت کی حالت میں پہنے گئے ہیں، تاکہ ان کو اطمینان ہو جائے اور مسئلہ بھی معلوم ہو جائے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 52) (206).
صحيح مسلم (1/ 230) (274).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص50).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 36).
خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص27).
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ موجود تھا۔ آپ لوگوں کے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ پر آئے اور کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔ میں ذرا دور ہٹ کر کھڑا ہو گیا، تو فرمایا : "قریب آ جاؤ۔" چنانجہ میں قریب آکر آپ کی دونوں ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا۔ چنانچہ آپ نے وضو کیا اور دونوں موزوں پر مسح کیا۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما کہتے ہيں کہ وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھے۔ اسی دوران آپ نے پیشاب کرنے کا ارادہ کیا، تو ایک جگہ گئے، جہاں لوگ گھروں میں جھاڑو لگانے کے بعد جمع ہونے والا کوڑا اور مٹی پھینکا کرتے تھے اور وہاں کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ جب کہ عام طور پر آپ بیٹھ کر ہی پیشاب کیا کرتے تھے۔
یہ دیکھ کر حذیفہ رضی اللہ عنہ آپ سے دور ہٹنے لگے، تو آپ نے پاس آنے کے لئے کہا۔ چنانچہ وہ بالکل پاس جاکر آپ کے پیچھے ایڑیوں کے پاس کھڑے ہو گئے، تاکہ ایک طرح سے سترہ بن جائيں اور کوئی آپ کو اس حالت میں دیکھ نہ سکے۔
اس کے بعد آپ نے وضو کیا اور جب پاؤں دھونے کی باری آئی، تو دونوں موزوں کو دھونے کے بجائے ان پر مسح کر لیا۔ موزوں سے مراد چمڑے وغیرہ سے بنى ہوئے پیروں میں پہننے والى چیزیں ہيں، جو دونوں قدموں کو ڈھانپ کر رکھتى ہیں۔
فوائد
موزوں پر مسح کی مشروعیت۔
کھڑے ہوکر پیشاب کرنا جائز ہے، بشرطیکہ جسم یا کپڑے پر چھینٹے نہ پڑیں۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کوڑا پھینکنے کی جگہ کا انتخاب اس لیے کیا کہ عام طور پر وہ جگہ نرم ہوتی ہے اور پیشاب کے چھینٹے پیشاب کرنے والے پر پڑنے کا اندیشہ نہيں رہتا۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 54) (224).
صحيح مسلم (1/ 228) (273).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص51).
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 61).
زِرّ بن حُبَیش سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس موزوں پر مسح کرنے کا مسئلہ پوچھنے کے لیے آیا، انھوں نے پوچھا: اے زر! کیسے آئے ہو؟ میں نے کہا: حصولِ علم کے لیے۔ آپ نے فرمایا: فرشتے طالب علم کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، اس علم سے خوش ہو کر جو وہ حاصل کرتا ہے۔ میں نے کہا: پیشاب پاخانے کے بعد موزوں پر مسح کرنے کی بابت میرے سینے میں اشتباہ پیدا ہو گیا ہے۔ آپ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ہیں، اس لیے میں آپ سے پوچھنے کے لیے آیا ہوں: کیا آپ نے اس کے بارے میں نبی کریم ﷺ کو کچھ بیان کرتے سنا ہے؟ انھوں نے فرمایا: ہاں۔ جب ہم مسافر ہوتے یا سفر کرنے والے ہوتے تو آپ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اپنے موزے تین دن اور تین راتیں نہ اتاریں الا یہ کہ جنابت لاحق ہو، لیکن پیشاب، پاخانے اور نیند سے نہیں ۔ میں نے کہا: کیا آپ نے آپ ﷺ کو محبت کے بارے میں بھی کچھ بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں۔ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ہم آپ کے پاس ہی تھے کہ ایک اعرابی نے آپ کو نہایت اونچی آواز سے پکارا: یا محمد! تو رسول اللہ ﷺ نے بھی اسی کی آواز کی طرح جواب دیا: ’’میں یہاں ہوں۔‘‘ اور ہم نے اس سے کہا: افسوس ہے تجھ پر! اپنی آواز پست کرو، کیونکہ تو نبی ﷺ کے پاس ہے اور تجھے اس سے منع کیا گیا ہے۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں آواز پست نہیں کروں گا۔ اعرابی نے کہا: آدمی کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن ابھی ان (کے مرتبے) تک نہیں پہنچا؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’آدمی قیامت کے روز اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔‘‘ پھر آپ ہم سے گفتگو فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ نے مغرب کی جانب سے ایک دروازے کا ذکر فرمایا جس کی چوڑائی کی مسافت، یا (یوں فرمایا کہ) ایک سوار اس کی چوڑائی میں چالیس یا ستر سال تک چلتا رہے۔
رواه الترمذي وابن ماجه وأحمددرجہصحيح
تشریح
زِرّ بن حُبَیش، صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کے پاس موزوں پر مسح کرنے کا مسئلہ پوچھنے آئے۔ صفوان نے پوچھا: اے زِر! کون سا جذبہ تمہیں یہاں لے کر آیا ہے؟ زِر نے کہا: علم کی تلاش وجستجو نے۔ انہوں نے کہا: فرشتے طالبِ علم کے لیے اپنے پر بچھادیتے ہیں، طالب علم کے اس عمل سے خوش ہو کر اور اس کی تعظیم میں۔ زِر نے کہا: میرے دل میں پیشاب اور پاخانے کے بعد موزوں پر مسح کرنے کی بابت تردد پیدا ہو گیا ہے، آپ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ہیں، لہذا میں آپ سے یہ پوچھنےکے لیے آیا ہوں کہ کیا آپ نے نبی ﷺ کو اس سلسلے میں کوئی بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ صفوان نے کہا: ہاں، وہ ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم مسافر ہوں تو حدث اصغر یعنی پاخانہ، پیشاب اور نیند کی وجہ سے تین دن اور تین راتیں اپنے موزے نہ اتاریں، البتہ جنابت کی صورت میں انہیں اتارنا واجب ہے۔ تو میں نے کہا: کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو محبت کے بارے میں کچھ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ اسی اثنا میں کہ ہم آپ ﷺ کے پاس تھے، ایک دیہاتی نے بلند آواز سے پکارا: اے محمد! تو آپ ﷺ نے بھی اسی کی آواز جیسی بلند آواز میں جواب دیا: ادھر آؤ۔ ہم نے اس سے کہا: تجھ پر افسوس! اپنی آواز پست کرو، کیونکہ تم نبی ﷺ کی بارگاہ میں ہو اور آپ ﷺ کے سامنے آواز بلند کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس نے اپنی درشت مزاجی کی وجہ سے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنی آواز پست نہیں کروں گا۔ اعرابی نے کہا: یا رسول اللہ! آدمی نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسے عمل نہیں کر پاتا؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’آدمی قیامت کے دن ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن سے اس کو محبت ہوگی۔‘‘ زر کہتے ہیں: پھر صفوان ہم سے حدیث بیان کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے شام کی جانب توبہ کے ایک دروازے کا ذکر کیا، جسے اللہ نے اسی دن بنایا تھا جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، ایک سوار اس کی چوڑائی میں چالیس یا ستر سال تک چلتا رہے گا، اور وہ اس وقت تک بند نہیں ہوگا جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے۔
فوائد
علم حاصل کرنے کی فضیلت، طالب علم کی عظمت ومنزلت، اور فرشتوں کا اس کی عزت وتکریم کرنا۔
تابعین کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے علم حاصل کرنے کا شوق اور حرص۔
چمڑے کے موزوں پر مسح کا جواز، اور اس کی مدت: مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات۔
موزوں پر مسح صرف حدث اصغر میں ہوتا ہے۔
سائل کا عالم سے اس کی دلیل کے بارے میں مطالبہ کرنا جائز ہے کہ آیا وہ نص ہے یا اس کا اپنا استدلال واجتہاد، اور عالم کو چاہیے کہ وہ اس سے حرج محسوس نہ کرے۔
علماء اور صالحین کے ساتھ ادب کا لحاظ رکھنا، اور علمی مجالس میں آواز کو پست رکھنا۔
جاہل کو حسنِ ادب اور سلوک کے قواعد سکھانا۔
حلم وبردباری، حسنِ اخلاق اور لوگوں سے ان کے علم وعقل کے مطابق مخاطب ہونے میں نبی ﷺ کی اقتدا کرنے کی ترغیب۔
مبارکپوری فرماتے ہیں: آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنی آواز صرف اس پر شفقت فرماتے ہوئے بلند کی تاکہ اللہ تعالی کے فرمان {لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} کی وجہ سے اس کا عمل ضائع نہ ہو جائے؛ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کی جہالت کی بنا پر اس کا عذر قبول فرمایا، اور اس پر کمالِ شفقت ورافت کی وجہ سے نبی ﷺ نے اپنی آواز اتنی بلند فرمائی کہ وہ اس کی آواز کے مثل یا اس سے بھی بلند ہوگئی۔
صالحین کی ہم نشینی اختیار کرنے، ان کی قربت حاصل کرنے اور ان سے محبت کرنے کی حرص رکھنا۔
نووی کہتے ہيں: ان کے ساتھ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کا مرتبہ اور بدلہ ہر لحاظ سے ان جیسا ہو۔
امید اور رجا کا دروازہ کھولنا، نجات کی بشارت دینا اور موعظت میں نرمی برتنا۔
اللہ عزیز وبرتر کی بے پایاں رحمت، اور توبہ کا دروازہ کھلا رکھنا۔
توبہ میں جلدی کرنے، نفس کا محاسبہ کرنے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی ترغیب۔
حوالہ
سنن الترمذي (5/ 505) (3535).
سنن ابن ماجه (1/ 302) (478).
مسند أحمد (30/ 18) (18095).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 36).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (1/ 107).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 57).
المعجم الوسيط (2/ 968).
عن عبد خير، عن علي رضي الله عنه ، قال: لو كان الدين بالرأي لكان أسفل الخُفِّ أولى بالمسح من أعلاه، وقد «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح على ظَاهر خُفَيْهِ».
عبد بن خیر علی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے کہا اگر دین (کا معاملہ) رائے اور قیاس پر ہوتا، تو موزے کے نچلے حصے پر مسح کرنا اوپری حصے پر مسح کرنے سے بہتر ہوتا، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
علی رضی الله عنہ خبر دے رہے ہیں کہ اگر دین وحی کو چھوڑ کر عقل اور رائے سے لیا جاتا تو موزوں کے نیچے والے حصے پر مسح کرنا اوپری حصہ سے اَوْلیٰ ہوتا کیونکہ موزے کے نیچے کا حصہ زمین اور گندگیوں سے ملا ہوا رہتا ہے چنانچہ عقلی طور پر یہ مسح کا زیادہ حقدار ہے، لیکن شریعت نے اس کے خلاف حکم دیا ہے، لہذا شریعت پر عمل کرنا ضروری ہے اور وہ رائے اور نظریہ جو نصوصِ شرعیہ کے مخالف ہو اسے ترک کرنا ضروی ہے اور یہ کہ آپ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کرتے دیکھا ہے۔ (اگر دیکھا جائے تو) رسول اللہ ﷺ نے جو کیا وہ دوسرے ناحیہ سے عقل کے عین موافق ہے کیونکہ جب موزوں کے نچلے حصہ کو پانی سے مسح کیا جائے تو وہ نجاست کے لگ جانے کا سبب بنتا ہے چنانچہ اوپری حصہ پر مسح کرنے کا حکم دیا تاکہ اوپری حصہ میں جو گرد وغبار ہے زائل ہو جائے، اور چونکہ موزے کے اوپر والا حصہ ہی نظر آتا ہے اسی بنا پر موزے کے اوپر والے حصہ پر مسح کرنا اولی ہے اور شریعت کے جتنے بھی احکام ہیں وہ عقل سلیم کے مخالف نہیں ہوتے ہیں، لیکن بعض صورتوں میں یہ عقل والوں پر پوشیدہ رہ جاتی ہیں۔
حوالہ
سنن أبي داود، تأليف: سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، تأليف: علي بن سلطان القاري، الناشر: دار الفكر، الطبعة: الأولى، 1422هـ.
مشكاة المصابيح، تأليف: محمد بن عبد الله التبريزي، تحقيق : محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي، الطبعة: الثالثة، 1985م.
تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ - 2006 م.
توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م.
سبل السلام شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن إسماعيل بن صلاح الصنعاني، الناشر: دار الحديث الطبعة: بدون طبعة وبدون تاريخ.
شرح سنن أبي داود، تأليف: عبد المحسن بن حمد بن عبد المحسن العباد، نسخة الإلكترونية.
عن ثوبان رضي الله عنه ، قال: «بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً، فأصابهم البَرْد فلما قَدِموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم أمَرَهُم أن يَمْسَحوا على الْعَصَائِب والتَّسَاخِين».
ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ بھیجا تو ان لوگوں کو سردی نے آلیا۔ جب یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی پگڑیوں اور موزوں پر مسح کرلیا کریں۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
ثوبان رضی الله عنہ خبر دے رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کی ایک جماعت کافروں سے مد بھیڑ کے لیے روانہ فرمائی چنانچہ سفر کے دوران انہیں ٹھنڈ موسم کی وجہ سے پگڑیوں اور موزوں کو نکالنا گراں گزرا جب وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس مدینہ آئے تو آپ ﷺ کو انہوں نے ٹھنڈ موسم کے بارے میں جانکاری دی، چنانچہ نبیﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ پگڑیوں اور موزوں پر مسح کریں، بندوں کی آسانی اور سہولت کے لیے پھر چاہے وہ موزے چمڑے یا اون یا چیتھڑوں کے ہوں چنانچہ یہ سفر اور حضر، معذور وغیر معذور سب کے لیے سنت ثابتہ مقرر پائی۔
حوالہ
سنن أبي داود، تأليف: سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا.
مسند الإمام أحمد، تأليف: أحمد بن محمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرناؤوط وغيره، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ.
صحيح أبي داود - الأم، للألباني، نشر: مؤسسة غراس للنشر والتوزيع، الكويت، الطبعة: الأولى، 1423هـ - 2002 م.
توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة، الطبعة الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م.
فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: المكتبة الإسلامية، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة.
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر: دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى ، 1427 هـ - 1431 هـ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور (اس کے بعد) موزے پہنے، تو ان کو پہن کر نماز پڑھے اور ان پر مسح کرے اور چاہے تو انہیں جنابت لاحق ہونے کے علاوہ کسی صورت میں نہ اتارے۔"
رواه الدارقطنيدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جب کوئی مسلمان وضو کرنے کے بعد موزے پہنے اور اس کے بعد وضو ٹوٹ جانے کی وجہ سے دوبارہ وضو کرنا چاہے، تو اسے اس بات کی اجازت ہے کہ ایک متعینہ مدت تک موزوں کو اتارنے کی بجائے ان پر مسح کر لے۔ البتہ جنبی ہو جانے کی صورت میں موزے اتار کر غسل کرنا پڑے گا۔
فوائد
موزوں پر مسح اسی صورت میں جائز ہے، جب ان کو مکمل طہارت کے بعد پہنا جائے۔
مسح کی مدت مقیم کے لیے ایک دن ایک رات ہے اور مسافر کے لیے تین دن تین رات۔
موزوں پر مسح صرف چھوٹی نجاست کے لیے خاص ہے، بڑی نجاست کے لیے نہیں۔ بڑی نجاست کے وقت موزوں پر مسح کرنا جائز نہیں ہے۔ اس حالت میں موزوں کو اتار کر پاؤں دھونا ضروری ہے۔ کیوں کہ اس حديث میں آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: "ما سوا اس کے کہ اسے جنابت لاحق ہو جائے۔"
یہودیوں کی مخالفت کے طور پر جوتا اور موزہ پہن کر نماز پڑھنا مستحب ہے۔ لیکن یہ اسی صورت میں ہے جب دونوں پاک ہوں اور اس سے مصلیوں کو اذیت یا مسجد گندی نہ ہوتی ہو۔ مثلا فرش والی مسجدوں میں جوتا پہن کر نماز نہيں پڑھی جائے گی۔
موزوں پر مسح دراصل اس امت کے لیے آسانی پیدا کرنے اور اس کا بوجھ ہلکا کرنے کی ایک صورت ہے۔
حوالہ
سنن الدارقطني (1/ 376) (781).
توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، لعبد الله البسام (1/ 274).
سبل السلام شرح بلوغ المرام، للصنعاني (1/ 86).
عن جابر رضي الله عنه قال: خرجنا في سَفَر فأصاب رجُلا مِنَّا حَجَرٌ فَشَجَّهُ في رأسه، ثم احتلم فسأل أصحابه فقال: هل تجدون لي رُخْصَة في التَّيمم؟ فقالوا: ما نَجِد لك رُخْصَة وأنت تَقْدِرُ على الماء فاغْتَسَل فمات، فلمَّا قَدِمْنَا على النبي صلى الله عليه وسلم أخبر بذلك فقال: «قَتَلُوه قَتَلَهُم الله ألا سَألُوا إذ لم يعلموا فإنَّما شِفَاء العِيِّ السؤال، إنما كان يَكفيه أن يَتيمَّم ويَعْصِر-أو يَعْصِب- على جُرحِه خِرقَة، ثم يمسح عليها، ويَغسل سائر جسده».
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ: ہم ایک سفر پر نکلے تو ہم میں سے ایک شخص کو پتھر لگ گیا جس سے اس کے سر پر زخم آ گیا۔ پھر (اسی رات) اسے احتلام ہو گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: کیا تم سمجھتے ہو کہ میرے لیے تیمم کرنے کی رخصت ہے؟ انہوں نے جواب دیا:چونکہ تم پانی کے استعمال پر قادر ہو، اس لئے ہمارے نزدیک تمہارے لئے کوئی رخصت نہیں۔ لہٰذا اس نے غسل کر لیا اور اس کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ جب ہم نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو اس کی خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: انہوں نے اسے قتل کر دیا، اللہ انہیں قتل کرے۔ جب انہیں علم نہیں تھا تو (کسی سے) سوال کیوں نہ کیا؟ کیونکہ لا علمی کا علاج سوال ہی تو ہے۔ اس شخص کے لئے تو اتنا ہی کافی تھا کہ وہ تیمم کرلیتا اور اپنے زخم پر کپڑے کا کوئی ٹکڑا (پٹی) باندھ کر اس پر مسح کرلیتا اور بقیہ جسم کو دھو لیتا۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَن لغيره
تشریح
جابر رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ وہ ایک سفر پر نکلے، تو ان میں سے ایک آدمی کو پتھر لگ گیا جس سے اس کا سر پھٹ گیا۔ پھر اسے احتلام ہو گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا عضو کو دھونے کے بجائے تیمم کرنا کافی ہے؟
’’انہوں نے جواب دیا کہ چونکہ تم پانی کے استعمال پر قادر ہو، اس لئے ہمیں تو تمہارے لئے کوئی رخصت نظرنہیں آتی۔ لہٰذا اس نے غسل کر لیا اور وہ مرگیا۔‘‘
یعنی اس حال میں تیمم کرنا کفایت نہیں کرے گا کیونکہ پانی موجود ہے۔ اور تیمم کی رخصت تو اس شخص کے لئے ہے جسے پانی نہ ملے۔ لیکن جب پانی موجود ہے تو تمھارے لیے کوئی رخصت نہیں۔ پھر اس شخص نے غسل کر لیا اور پانی کی وجہ سے اس کا زخم متاثر ہوا اور اس کی موت واقع ہو گئی ۔ رضی اللہ عنہ ۔
جب وہ لوگ مدینہ آئے تو آپ ﷺ کو یہ قصہ سنایا، تو آپ ﷺ نے ان کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:
’’انہوں نے اسے قتل کر دیا، اللہ انہیں قتل کرے۔‘‘ نبی ﷺ نے انہیں بددعا دی کیونکہ وہ اپنے غلط فتوے کی وجہ سےاس کی موت کا سبب بنے تھے۔
’’جب وہ جانتے نہیں تھے تو انہوں نے پوچھ کیوں نہ لیا‘‘
یعنی ان کے لئے ضروری تھا کہ وہ کسی سے پوچھ لیتے اور فتوی دینے میں جلدی نہ کرتے۔.کیونکہ ایسا کرنے میں دوسرے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے اور یہاں درحقیقت یہی ہوا ہے۔
’’لا علمی کا علاج تو پوچھ لینا ہے۔‘‘
’’العی‘‘ کا معنی ہے لاعلمی، مفہوم یہ ہے کہ جب وہ جانتے نہ تھے تو انہوں نے پوچھ کیوں نہ لیا۔ کیونکہ لاعلمی کا علاج تو پوچھ لینا ہے۔ جب انسان کسی حکم شرعی سے نا واقف ہو تو اس جہالت کا علاج یہ ہے کہ وہ پوچھ لے اور کسی ایسی بات کا فتوی نہ دے جس سے نقصان ہو، یا لوگ ہلاکت کا شکار ہوں۔
پھر آپ ﷺ نے اس مسئلہ کے بارے میں شرعی حکم کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’اس شخص کے لئے کافی تھا کہ وہ تیمم کرلیتا اور اپنے زخم پر کپڑے کا کوئی ٹکڑا یا پٹی باندھ لیتا اور پھر اس پر مسح کرلیتا اور بقیہ جسم کو دھو لیتا۔‘‘
بس اس قدر کرنا اس پر لازم تھا اور یہ شریعت کے اصولوں کے مطابق ہے۔ البتہ اس پر غسل کو لازم کرنا جب کہ اس کے نتیجے میں جسمانی نقصان یا ہلاکت یا شفایابی میں تاخیر ہوتی ہے، تو یہ بات شریعت کے اصولوں کے خلاف ہے۔
اس بنا پر جس شخص کے بدن پر یا سر پر زخم لگا ہو اس کے لئے رخصت ہے کہ وہ اپنے باقی سارے جسم کو پانی سے دھو لے اور پٹی پر مسح کر لے۔ اتنا کرلینا کافی ہے۔ البتہ پٹی کے ہوتے ہوئے تیمم کرنا مشروع نہیں ہے، کیونکہ ایک ہی عضو کے لئے دو طہارت واجب کرنا شریعت کے قواعد کے خلاف ہے۔ اور اس حدیث کو اس بات پر محمول کیا جائے گا (اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے) کہ پٹی زائد از ضرورت تھی اور اس کا اتارنا مشقت کا باعث یا نقصان دہ تھا۔ اس لئے زائد از ضرورت پٹی کے لئے تیمم مشروع کیا گیا یا پھر اسے اس بات پر محمول کیا جائے گا کہ وضو کے اعضاء زخم آلود تھے، چنانچہ ان تک پانی نہیں پہنچایا جا سکتا تھا۔ اس لئے عضو کو دھونے کے بجائے تیمم کو اختیار کیا گیا۔
حوالہ
سنن أبي داود، تأليف: سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا.
سنن ابن ماجه، تأليف: محمد بن يزيد بن ماجه القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: الناشر: دار إحياء الكتب العربية.
مشكاة المصابيح، تأليف: محمد بن عبد الله، التبريزي، تحقيق: محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي، الطبعة: الثالثة، 1985م.
معالم السنن، تأليف: حمد بن محمد بن إبراهيم الخطابي، الناشر: المطبعة العلمية، الطبعة: الأولى 1351 هـ.
النهاية في غريب الحديث والأثر، تأليف: مجد الدين أبو السعادات المعروف بابن الأثير، الناشر: المكتبة العلمية - بيروت، 1399هـ - 1979م، تحقيق: طاهر أحمد الزاوى - محمود محمد الطناحي.
معجم اللغة العربية المعاصرة، تأليف: د/ أحمد مختار عبد الحميد عمر، بمساعدة فريق عمل، الناشر: عالم الكتب، الطبعة: الأولى، 1429 هـ - 2008م.
تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ - 2006 م.
توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م.
فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: المكتبة الإسلامية، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة.
سبل السلام شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن إسماعيل بن صلاح الصنعاني، الناشر: دار الحديث، الطبعة: بدون طبعة وبدون تاريخ.
شرح سنن أبي داود، تأليف: عبد المحسن بن حمد بن عبد المحسن العباد، نسخة الإلكترونية.
عن شريح بن هانئ، قال: أتيتُ عائشة أسألها عن المسح على الخُفَّين، فقالت: عَلَيْكَ بِابْنِ أبِي طالب، فَسَلْهُ فإِنَّه كان يُسَافِرُ مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فسألناه فقال: «جَعَلَ رسول الله صلى الله عليه وسلم ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ للمسافر، ويوما وليلة للمُقيم».
شریح بن ہانی بیان بیان کرتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں پوچھنے آیا (کہ اس کی مدت کتنی ہے؟)، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ابن ابی طالب کے پاس جا کر پوچھو کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مسافر کے لیے (موزوں پر مسح کرنے کی مدت)تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر فرمائی ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
شریح بن ہانی علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے تھے۔ وہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس موزوں پر مسح کرنے کی مدت کے بارے میں استفسار کے لئے آئے۔ یہ استفسار اس وقت ہوا جب کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں علی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا؛ کیونکہ وہ مسح کی سنت کو زیادہ جاننے والے تھے۔ شریح ابن ہانی کہتے ہیں کہ: ”ہم نے ان سے مسح کے بارے میں پوچھا“یعنی اس کی مدت کے بارے میں دریافت کیا۔ مسح کا معنی ہے عضو پر گیلا ہاتھ پھیرنا۔ خُف (موزہ) چمڑے سے بنا جوتا ہوتا ہے جو ٹخنوں کو ڈھانپ لیتا ہے اور ’جَورَب (پائتابہ) کسی بھی شے سے بنے ہوئے پاؤں کے غلاف کو کہتے ہیں چاہے وہ بال کا ہو یا اون کا، چاہے وہ موٹا ہو یا پتلا، یہ ٹخنوں سے اوپر تک ہوتا ہے اور سردی سے بچاؤ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، مسح کرنے میں جورب کا حکم بھی وہی ہے جو خُف کا ہے۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس کی مدت مسافر کے لئے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات ہے۔ اس میں جمہور علماء کے مسلک کی دلیل ہے کہ مسح کی مدت مسافر کے لئے تین دن اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات ہے۔ مسافر کی مدت زیادہ اس لیے رکھی گئی ہے کیونکہ سفر کی مشقت کی وجہ سے وہ مقیم کی بنسبت رخصت کا زیادہ حق دار ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423 هـ.
توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة 1423هـ، 2003م.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com