سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

رمضان

1 احادیث

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی انسان تھے اور آپ سب سے زیادہ سخی رمضان میں ہوا کرتے تھے، جب جبریل عليہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وَكَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ القُرْآنَ، فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ المُرْسَلَةِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی انسان تھے اور آپ سب سے زیادہ سخی رمضان میں ہوا کرتے تھے، جب جبریل عليہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے۔ جبریل عليہ السلام آپ سے رمضان کی ہر رات میں ملتے تھے اور قرآن کا دور کراتے تھے۔ لہذا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خير کے کاموں میں تيز ہوا سے بھی زیادہ تیز رفتار ہوا کرتے تھے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سب سے سخی انسان تھے اور آپ کی سخاوت کو ماہ رمضان میں اور زیادہ جلا مل جاتی تھی۔ جس کو جو دینا چاہیے، اس ماہ میں آپ خوب دیتے تھے۔ اس کے دو اسباب تھے: 1- جبریل سے آپ کی ملاقات ہوتے رہنا۔ 2- قرآن کا دور کرنا یعنی اسے زبانی پڑھنا۔ جبریل آپ کے ساتھ قرآن کے نازل شدہ حصے کا دور کرتے تھے اور اس دوران اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم فیاضی، داد و دہش، خیر کے کاموں اور لوگوں کو فیض یاب کرنے میں اس خوش گوار ہوا سے بھی تیز ہوا کرتے تھے، جسے اللہ بارش اور رحمت کے ساتھ بھیجتا ہے۔

فوائد
  1. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت اور فیاضی کا بیان، خاص طور پر رمضان میں؛ کیوں کہ یہ اطاعت کا مہینہ اور نیک اعمال کا موسم ہے۔
  2. ہر وقت فیاضی دکھانے کی ترغیب۔ لیکن ماہ رمضان کے اندر اس میں زیادہ سرگرم رہنا مستحب ہے۔
  3. ماہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا، لوگوں کو دینا، دوسروں کا بھلا کرنا اور قرآن پڑھنا چاہیے۔
  4. علم کی حفاظت کا ایک اہم ترین سبب طالب علموں اور علما کے ساتھ علم کے درس وتدریس میں لگا ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 8) (6). صحيح مسلم (4/ 1803) (2308). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 275). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (2/ 870). بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (2/ 364). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com