رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی انسان تھے اور آپ سب سے زیادہ سخی رمضان میں ہوا کرتے تھے، جب جبریل عليہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سب سے سخی انسان تھے اور آپ کی سخاوت کو ماہ رمضان میں اور زیادہ جلا مل جاتی تھی۔ جس کو جو دینا چاہیے، اس ماہ میں آپ خوب دیتے تھے۔ اس کے دو اسباب تھے: 1- جبریل سے آپ کی ملاقات ہوتے رہنا۔ 2- قرآن کا دور کرنا یعنی اسے زبانی پڑھنا۔ جبریل آپ کے ساتھ قرآن کے نازل شدہ حصے کا دور کرتے تھے اور اس دوران اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم فیاضی، داد و دہش، خیر کے کاموں اور لوگوں کو فیض یاب کرنے میں اس خوش گوار ہوا سے بھی تیز ہوا کرتے تھے، جسے اللہ بارش اور رحمت کے ساتھ بھیجتا ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت اور فیاضی کا بیان، خاص طور پر رمضان میں؛ کیوں کہ یہ اطاعت کا مہینہ اور نیک اعمال کا موسم ہے۔
- ہر وقت فیاضی دکھانے کی ترغیب۔ لیکن ماہ رمضان کے اندر اس میں زیادہ سرگرم رہنا مستحب ہے۔
- ماہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا، لوگوں کو دینا، دوسروں کا بھلا کرنا اور قرآن پڑھنا چاہیے۔
- علم کی حفاظت کا ایک اہم ترین سبب طالب علموں اور علما کے ساتھ علم کے درس وتدریس میں لگا ہے۔
صحيح البخاري (1/ 8) (6). صحيح مسلم (4/ 1803) (2308). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 275). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (2/ 870). بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (2/ 364). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين.