سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

نبی اکرم ﷺ نے ایک قبر پر دفن کیے جانے کے بعد اس میت کی نماز جنازہ پڑھی اور اس میں چار تکبیریں کہیں۔

عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما : «أن النبي صلى الله عليه وسلم صلَّى على قبر بعدَ ما دُفِنَ، فَكَبَّرَ عليه أَرْبَعاً».
عبد الله بن عباس رضي الله عنهما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک قبر پر دفن کیے جانے کے بعد اس میت کی نمازِ جنازہ پڑھی اور اس میں چار تکبیریں کہیں۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ کی فطرت میں محاسن اخلاق ودیعت کردیے گیے اور انھیں اوصاف میں سے رحمت اور نرم دلی ہے، اگر آپ ﷺ اپنے کسی صحابی کو نہ پاتے تو ان کے بارے میں ضرور دریافت فرماتے اور ان کے احوال کی خیرخبر لیتے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے صاحبِ قبر کے تئیں دریافت کیا تو صحابہ کرام نے آپ کو ان کی وفات کی خبردی اور آپ کی خواہش تھی کہ اگر انھوں نے آپ ﷺ کو خبر دی ہوتی تو ان کی نماز جنازہ پڑھاتے کیوں کہ آپ ﷺ کی نماز میت کے لیے سکون کا باعث ہوتی ہے اور اس سے اُس کو ایسی روشنی میسر آتی ہے جو قبر کی تاریکی کا خاتمہ کردیتی ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے ان کی قبر پر نماز جنازہ ادا فرمائی جس طرح کسی موجود میت کی نمازِ جنازہ ادا کی جاتی ہے۔ نبی ﷺ کی جانب سے قبر پر نماز جنازہ ادا کرنے سے یہ مفہوم مستنبط نہ کیا جائے کہ آپ نے قبر کے اوپر چڑھ کر نماز ادا فرمائی، بلکہ اس کا یہ معنی ہے کہ آپ نے عام نمازِ جنازہ کی طرح اس قبر کے ایک کنارے کھڑے ہوکر، اس کی طرف رُخ کرکے ان کی نمازِ جنازہ ادا کی۔

حوالہ

- صحيح البخاري، أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري, تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر- الناشر: دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. - العمدة في الأحكام, لعبد الغني بن عبد الواحد بن علي الحنبلي, المحقق: سمير بن أمين الزهيري, الناشر: مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية, الطبعة الأولى، 1419هـ - 1998م. - تنبيه الأفهام، للعثيمين، طبعة مكتبة الصحابة الامارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة الأولى، 1426ه. - تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي- دار المنهاج، القاهرة، مصر، الطبعة الأولى. - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام, المؤلف: أبو عبد الرحمن عبد الله بن عبد الرحمن البسام, حققه: محمد صبحي بن حسن حلاق, الناشر: مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة, الطبعة العاشرة، 1426هـ - 2006م. - فتاوى اللجنة الدائمة، رئاسة البحوث العلمية والإفتاء.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
جنازوں میں آپ ﷺ کا طریقہ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com