نبی ﷺ کی فطرت میں محاسن اخلاق ودیعت کردیے گیے اور انھیں اوصاف میں سے رحمت اور نرم دلی ہے، اگر آپ ﷺ اپنے کسی صحابی کو نہ پاتے تو ان کے بارے میں ضرور دریافت فرماتے اور ان کے احوال کی خیرخبر لیتے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے صاحبِ قبر کے تئیں دریافت کیا تو صحابہ کرام نے آپ کو ان کی وفات کی خبردی اور آپ کی خواہش تھی کہ اگر انھوں نے آپ ﷺ کو خبر دی ہوتی تو ان کی نماز جنازہ پڑھاتے کیوں کہ آپ ﷺ کی نماز میت کے لیے سکون کا باعث ہوتی ہے اور اس سے اُس کو ایسی روشنی میسر آتی ہے جو قبر کی تاریکی کا خاتمہ کردیتی ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے ان کی قبر پر نماز جنازہ ادا فرمائی جس طرح کسی موجود میت کی نمازِ جنازہ ادا کی جاتی ہے۔ نبی ﷺ کی جانب سے قبر پر نماز جنازہ ادا کرنے سے یہ مفہوم مستنبط نہ کیا جائے کہ آپ نے قبر کے اوپر چڑھ کر نماز ادا فرمائی، بلکہ اس کا یہ معنی ہے کہ آپ نے عام نمازِ جنازہ کی طرح اس قبر کے ایک کنارے کھڑے ہوکر، اس کی طرف رُخ کرکے ان کی نمازِ جنازہ ادا کی۔
- صحيح البخاري، أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري, تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر- الناشر: دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. - العمدة في الأحكام, لعبد الغني بن عبد الواحد بن علي الحنبلي, المحقق: سمير بن أمين الزهيري, الناشر: مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية, الطبعة الأولى، 1419هـ - 1998م. - تنبيه الأفهام، للعثيمين، طبعة مكتبة الصحابة الامارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة الأولى، 1426ه. - تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي- دار المنهاج، القاهرة، مصر، الطبعة الأولى. - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام, المؤلف: أبو عبد الرحمن عبد الله بن عبد الرحمن البسام, حققه: محمد صبحي بن حسن حلاق, الناشر: مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة, الطبعة العاشرة، 1426هـ - 2006م. - فتاوى اللجنة الدائمة، رئاسة البحوث العلمية والإفتاء.