سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

بچوں کو بوسہ دینا، ان سے رحمت وشفقت کا معاملہ کرنا

عن عائشة رضي الله عنها قالت: قَدِمَ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فقالوا: أَتُقَبِّلُونَ صِبْيَانَكُمْ؟ فقال: «نعم» قالوا: لَكِنَّا واللهِ ما نُقَبِّلُ! فقال رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : «أَوَ أَمْلِكُ إن كانَ اللهُ نَزَعَ مِنْ قُلُوبِكُم الرَّحْمَةَ!».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ اعرابی لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا تم اپنے بچوں کو بوسہ دیتے ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ اس پر وہ کہنے لگے: لیکن اللہ کی قسم! ہم تو (اپنے بچوں کو) بوسہ نہیں دیتے! اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں سے شفقت نکال لی ہو تو میں بھلا کیا کر سکتا ہوں“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

کچھ اعرابی لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں ںے دریافت کیا: کیا تم اپنے بچوں کو چومتے ہو؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ہاں ۔اور اعرابی لوگ ذرا سخت اور درشت ہوتے ہیں۔ وہ کہنے لگے کہ ہم تو اپنے بچوں کو نہیں چومتے۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا:”جب اللہ نے تمارے دلوں سے شفقت نکال دی ہے تو میں اسے تمہارے دلوں میں پیدا نہیں کر سکتا“۔

حوالہ

1- فتح الباري لابن حجر (430/10). 2- شرح صحيح مسلم(14915). 3-كنوز رياض الصالحين(610/4). 4-شرح رياض الصالحين لابن عثيمين(553/2).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
آپ ﷺ کی رحمدلی

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com