نبی ﷺ کی اخلاقی صفات میں سے ایک یہ بھی تھی کہ آپ ﷺ نے کبھی نہ تو جانوروں کو ہاتھ سے مارا تھا اور نہ ہی کسی عورت یا نوکر کو۔اکثر لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ عورت یا نوکر کو مارتے ہیں۔باوجود عمومی عادت کے جب آپ ﷺ نے ان دونوں کو نہیں مارا تو معلوم ہوا کہ ان کے علاوہ دوسری اشیاء کو تو بدرجۂ اولی نہیں مارنا چاہیے جنہیں عام طور پر نہیں مارا جاتا۔ تاہم آپ ﷺ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کیا کرتے تھے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی نے آپ ﷺ کو نقصان پہنچایا ہو اور آپ ﷺ نے اس سے انتقام لیا ہو۔ جیسے جنگ احد میں کفار نے آپ ﷺ کے سر مبارک کو زخمی کیا اور آپ کے سامنے کے دندان مبارک شہید کردیے لیکن آپ ﷺ پھر بھی ان کے ساتھ معافی و درگزر اور بردباری ہی کا معاملہ کرتے رہے۔ لیکن جب اللہ کی حدود کی خلاف ورزی ہوتی تھی تو یوں نہیں ہوتا تھا کہ کسی کو آپ ﷺ ایسا کرتے رہنے دیں۔ (بلکہ آپ ﷺ بزور اسے روکتے تھے۔)
صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين, مؤسسة الرسالة, الطبعة الرابعة عشر, 1407ه. كنوز رياض الصالحين بإشراف حمد العمار, دار كنوز إشبيليا, الطبعة الأولى, 1430ه. تطريز رياض الصالحين لفيصل بن عبد العزيز المبارك النجدي, تحقيق: عبد العزيز آل حمد, دار العاصمة , الطبعة: الأولى، 1423 هـ. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي, دار ابن الجوزي. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد بن علان الصديقي, دار الكتاب العربي. شرح رياض الصالحين لابن عثيمين , دار مدار الوطن للنشر، الرياض, الطبعة : 1426 هـ.