حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے تواضع کا بیان ہے، حالاںکہ آپ ﷺ تمام انسانوں سے اشرف ہیں، بایں طور کہ مدینے کی باندیوں میں سے کوئی باندی آپ ﷺ کے پاس آتی، آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑتی اور جہاں چاہتی لے جاتی؛ تاکہ آپ ﷺ اس کے کسی کام میں اس کی مدد کردیں۔ آپ ﷺ جو اشرف الخلق ہیں، یہ تک بھی نہ پوچھتے کہ تم مجھے کہاں لے جارہی ہو؟ میری بجائے کسی اور کو لے جاؤ! بلکہ آپ ﷺ اس کے ساتھ جا کر اس کی ضرورت پوری کردیتے۔ ان سب کے باوجود اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی عزت و مرتبے میں اضافہ ہی فرمایا۔ صلوات الله وسلامه عليه۔ تنبیہ: ہاتھ پکڑنے سے مراد یہ نہیں کہ آپ ﷺ کا ہاتھ باندی کے ہاتھ سے مس ہوتا ہو۔ حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ یہاں ہاتھ پکڑنے سے مراد اس کا لازمی معنی ہے۔ یعنی آپ ﷺ اس کے ساتھ بہت نرم رویہ رکھتے اور اس کی بات مانتے۔ اس حدیث میں تواضع کے بیان میں کئی اعتبار سے مبالغہ ہے۔ ایک تو یہ کہ مرد کی بجائے عورت کا ذکر کیا گیا، پھر آزاد عورت کی بجائے باندی کا ذکر کیا گیا اور پھر ”باندیوں“ کے لفظ کے ساتھ تعمیم کا معنی پیدا کیا گیا (یعنی ایسا کسی خاص باندی کے ساتھ نہیں کرتے تھے بلکہ) کوئی بھی باندی ہوتی، (آپ ﷺ کا رویہ یہی ہوا کرتا تھا)۔
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. الجمع بين الصحيحين؛ للإمام محمد بن فتوح الحميدي، تحقيق د. علي البواب، دار ابن حزم. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن-الرياض، 1426هـ. صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. فتح الباري بشرح صحيح البخاري؛ للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، دار المعرفة-بيروت. كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.