سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اگر تمہارے پاس مشکیزے میں رات کا پانی ہے تو لاؤ ورنہ پھر ہم منہ لگا کر ہی پانی پی لیتے ہیں۔

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما أَنَّ رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ على رجلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، ومعه صاحبٌ له، فقال رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : «إِنْ كان عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هذه الليلةَ في شَنَّةٍ وإِلَّا كَرَعْنَا».
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری کے پاس اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ تشریف لے گئے اور فرمایا: ”اگر تمہارے پاس مشکیزے میں رات کا پانی ہے تو لاؤ ورنہ پھر ہم منہ لگا کر ہی پانی پی لیتے ہیں“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری شخص کے ہاں تشریف لائے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ انصاری ابو الہیثم ابن التھیان انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ ﷺ کے ہمراہ آپ کے ساتھی ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ نبی ﷺ نے اس انصاری صحابی سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس کوئی مشکیزے میں رات سے باسى پانی ہے؟ یہ دراصل گرمی کا وقت تھا۔ اس میں حکمت یہ تھی کہ رات سے پڑا ہوا پانی ٹھنڈا ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر نہیں ہے تو پھر ہم بنا برتن اور چُلّو کے، منہ لگا کر ہی پانی پی لیں گے۔

حوالہ

رياض الصالحين، للنووي، نشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، الطبعة الأولى، 1428هـ - 2007م. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لابن علان، نشر دار الكتاب العربي، بدون تاريخ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ - 1987م. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1418هـ. صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة الأولى، 1422هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
آپ ﷺ کا کھانا پینا

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com