سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

رسول اللہ ﷺ کے پاس پانی ملا ہوا دودھ لایا گیا۔ آپ ﷺ کی دائیں طرف ایک اعرابی تھا اور بائیں طرف ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ ﷺ نے پی کر اسے اعرابی کو دے دیا اور فرمایا: دائیں طرف والا زیادہ حق دار ہے۔ پھر وہ جو اس کی داہنی طرف ہے۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه أَنَّ رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِلَبَنٍ قد شِيبَ بماءٍ، وعن يمينهِ أَعْرَابِيٌّ، وعن يَسَارِه أبو بكرٍ رضي الله عنه فَشَرِبَ، ثم أَعْطَى الأَعْرَابِيَّ، وقال: «الأَيْمَنَ فَالأَيْمَنَ».
انس ابن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پانی ملا ہوا دودھ لایا گیا۔ آپ ﷺ کی دائیں طرف ایک اعرابی تھا اور بائیں طرف ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ ﷺ نے پی کر اسے اعرابی کو دے دیا اور فرمایا: ”دائیں طرف والا زیادہ حق دار ہے۔ پھر وہ جو اس کی داہنی طرف ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ کے پاس پانی ملا ہوا دودھ لایا گیا۔ آپ ﷺ کی دائیں جانب ایک اعرابی آدمی تھا اور بائیں طرف ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔ نبی ﷺ نے دودھ خود نوش کرنے کے بعد اعرابی کو دے دیا۔ اس نے برتن اٹھایا اور اسے پی لیا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ اعرابی سے افضل تھے، لیکن نبی ﷺ نے اعرابی کو ترجیح دی کیوںکہ وہ آپ ﷺ کی دائیں جانب تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”االْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ“ یعنی دائیں طرف والے کو مقدم رکھو اور اسے دو اور پھر اس کے بعد جو اس کے دائیں جانب ہو، اسے دو۔

حوالہ

صحيح البخاري، دار ابن كثير، اليمامة، بيروت، الطبعة الثالثة، 1407ه. صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت. تطريز رياض الصالحين، لفيصل بن عبد العزيز المبارك النجدي, تحقيق: عبد العزيز آل حمد, دار العاصمة, الطبعة الأولى، 1423هـ. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415ه. شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين, دار مدار الوطن للنشر، الرياض, الطبعة، 1426هـ. رياض الصالحين، للنووي، تحقيق: ماهر الفحل، دار ابن كثير - بيروت، الطبعة الأولى، 1428ه - 2007م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
آپ ﷺ کا کھانا پینا

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com