”رسول اللہ ﷺ کا سب سے پسندیدہ لباس قمیص تھا“ کیوں کہ اس میں ازار اور چادر کی بہ نسبت زیادہ ستر پوشی ہوتی ہے اور اس لیے بھی کہ یہ ایک ہی کپڑا ہوتا ہے، جسے انسان ایک ہی بار پہن لیتا ہے۔ چنانچہ اس کا پہننا اس کی بہ نسبت زیادہ آسان ہے کہ پہلے ازار پہنی جائے اور پھر چادر۔ تاہم اس سب کے باوجود اگرآپ کسی ایسے علاقے میں ہیں، جہاں لوگ ازار باندھتے اور چادریں پہنتے ہیں اور آپ بھی وہاں یہی لباس استعمال کریں، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ قابل لحاظ امر یہ ہے کہ آپ اپنے علاقے کے باشندوں کے لباس سے مختلف لباس نہ پہنیں؛ کیوں کہ اس سے آپ چرچے میں آ جائیں گے اور نبی ﷺ نے ایسا لباس پہننے سے منع فرمایا ہے جو شہرت کا باعث ہو۔
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407ه 1987م. شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426ه. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي.ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415ه. سنن الترمذي، نشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ - 1975م. سنن أبي داود، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، نشر: المكتبة العصرية، صيدا – بيروت. مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م. مختصر الشمائل المحمدية، للألباني، نشر: المكتبة الإسلامية – عمان – الأردن.