جو چیز اس کو نہیں دی گئی، اس کا جھوٹ موٹ اظہار کرنے والا، جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے
ايک عورت نے نبی ﷺ سے عرض کيا کہ: اس کی ايک سوکن ہے، اور وہ چاہتی ہے کہ اپنے سوکن سے کہے: ميرے شوہر نے مجھے فلاں فلاں چيزیں دی ہیں حالانکہ وہ اپنی بات میں جھوٹی ہے، لیکن اس سے اپنی سوکن کو تکلیف دے کر غصہ دلانا چاہتی ہے، تو کيا اس عمل کی وجہ سے اس پر کوئی گناہ ہے؟ تو نبی ﷺ نے بتلایا کہ: جس کے پاس کوئی چيز نہیں ہے اور وہ اسے بڑھا چڑھا کر بيان کرے تو وہ جھوٹھا اور دروغ گو ہے۔
1-رياض الصالحين للنووي، تحقيق: ماهر الفحل، دار ابن كثير.دمشق.ط1 .2007م. 2-صحيح مسلم، بتحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي/بيروت. 3-صحيح البخاري، بترقيم محمد فؤاد عبد الباقي. 4-دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لابن علان، دار الكتاب العربي/بيروت. 5-نزهة المتقين شرح رياض الصاحين، شرح الدكتور مصطفى الخن وآخرين، مؤسسة الرسالة، ط.1 1987م. 6-كنوز رياض الصالحين، المجلس العلمي كنوز دار إشبيليا، الرياض.ط1. 2009م.