سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

Jurisprudence for Muslim Women

1 احادیث

”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو، لیکن انہیں چاہیے کہ وہ خوشبو لگائے بغیر نکلیں۔“

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ، وَلَكِنْ لِيَخْرُجْنَ وَهُنَّ تَفِلَاتٌ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو، لیکن انہیں چاہیے کہ وہ خوشبو لگائے بغیر نکلیں۔“
رواه أبو داوددرجہحسن
تشریح

نبی ﷺ نے عورت کے ولی اور ذمہ دار کو عورتوں کو مساجد سے روکنے سے منع فرمایا، اور عورتوں کو حکم دیا کہ نکلتے وقت خوشبو نہ لگائیں اور زینت کا اظہار نہ کریں؛ تاکہ وہ مردوں کے لیے فتنے کا سبب نہ بنیں۔

فوائد
  1. اگر فتنہ کا خوف نہ ہو اور عورت زیب وزینت اور خوشبو کے بغیر نکلے، تو اسے مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔
  2. اس سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ عورت شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے باہر نہ نکلے، کیونکہ اجازت دینے کا حکم شوہروں کو دیا گیا ہے۔
  3. اسلام نے عورتوں کا خاص خیال رکھا ہے، اور انہیں ان امور سے منع نہیں کیا جن میں ان کے لیے خیر و بھلائی ہو، جیسے طلبِ علم وغیرہ کے لیے باہر نکلنا۔
  4. عورت پر مرد کی سرپرستی اور اس کی نگرانی کا ثبوت۔
حوالہ

سنن أبي داود (1/ 423) (565). شرح سنن أبي داود للعباد (78/ 6). شرح أبي داود للعيني (3/ 50). النهاية في غريب الحديث والأثر ص(109).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com