تم (سالم کو) دودھ پلا دو ، تم اس کے اوپر حرام ہو جاؤ گی اور وہ (کراہت) جو ابو حذیفہ کے دل میں ہے ختم ہو جائے گی۔
سہل کی بیٹی سہلہ جو ابو حذیفہ رضی اللہ عنہما کی بیوی تھیں وہ آئیں، ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم کے بارے میں فتوی پوچھ رہی تھیں، سالم رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے، ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے انہیں گود لے لیا تھا جس وقت کہ گود لینا جائز تھا یہ واقعہ منسوخ ہونے سے پہلے کا ہے، ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی گود میں پلے بڑھے اور ان کی بیوی نے لڑکے کی طرح پرورش کی ، چنانچہ جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ﴾ یعنی ان کے باپوں کی طرف نسبت کر کے انہیں پکارو، جس کی بنا پر گود لینے کا حکم باطل ہو گیا، اور سالم بچپن کی طرح ان کے یہاں آتے جاتے رہے پھر وہ اسی طرح بدستور ان کے نیز اُن کی بیوی سہلہ کے پاس آیا جایا کرتے تھے اور انہیں دیکھتے تھے، یہاں تک کہ وہ بالغ ہو گئے، جس کی وجہ سے ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کو نا گوار گزرتا تھا، اور سابقہ الفت کی بنا پر انہیں منع بھی نہیں کر سکتے تھے ،اسی وجہ سے ان دونوں نےنبی ﷺ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نےان سے فرمایا کہ تم سالم کو دودھ پلا دو ،تم اس کے اوپر حرام ہو جاؤ گی اور وہ کراہت جو ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے دل میں ہے ختم ہو جائے گی، چنانچہ انہوں نے کہا کہ اسے دودھ پلا دیا اور ایسا ہی ہوا، یہ حکم خاص تھا ان کے لیے ، لہذا جس کسی نے مدت رضاعت ختم ہونے کے بعد کسی عورت کا دودھ پیا تو وہ اس کی رضاعی ماں نہیں ہوگی جیسا کہ لجنہ دائمہ(سعودی عرب) نے اس کا فتوی دیا ہے۔
صحيح مسلم بن الحجاج، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، صالح الفوزان، اعتناء عبد السلام السلمان، الرياض، الطبعة الأولى، 1427. فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427هـ. توضيح الأحكام من بلوغ المرام، البسام، مكة، مكتبة الأسدي، الطبعة الخامسة، 1423. منحة العلام شرح بلوغ المرام، عبد الله الفوزان، دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1428. بلوغ المرام من أدلة الأحكام، أحمد بن علي بن حجر العسقلاني -تحقيق وتخريج وتعليق: سمير بن أمين الزهيري - الناشر: دار الفلق - الرياض - الطبعة: السابعة، 1424 هـ. سبل السلام، محمد بن إسماعيل الصنعاني، دار الحديث- بدون طبعة وبدون تاريخ.