سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

طلاق رجعی اور طلاقِ بائنہ

3 احادیث

کیا تم رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہو؟ نہیں، تم اس وقت تک اس کے پاس نہیں جاسکتی، جب تک تم اس کا مزہ نہ چکھ لو اور وہ تمھارا مزہ نہ چکھ لے۔

عن عائشة- رضي الله عنها- مرفوعاً: «جاءت امرأة رفاعة القرظي إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: كنت عند رفاعة القرظي فطلقني فَبَتَّ طلاقي، فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزَّبير، وإنما معه مثل هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى تَذُوقي عُسَيْلَتَهُ، ويذوق عُسَيْلَتَكِ، قالت: وأبو بكر عنده، وخالد بن سعيد بالباب ينتظر أن يؤذن له، فنادى: يا أبا بكر، ألا تسمع إلى هذه: ما تَجْهَرُ به عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس رفاعہ القرظی کی بیوی آئی اور کہا: میں رفاعہ قرظی کے حرم میں تھی، اس نے مجھے طلاق دی اور طلاقِ بتّہ دی، اس کے بعد میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کی۔ لیکن ان کے پاس تو (شرم گاہ) اس کپڑے کی گانٹھ کی طرح ہے۔ آپ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: کیا تم رفاعہ کے ہاں واپس جانا چاہتی ہو؟ ایسا نہیں ہو سکتا، جب تک تم اس (عبد الرحمن) کا مزا نہ چکھ لو اور وہ تمھارا مزا نہ چکھ لے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس تھے اور خالد بن سعید دروازے پر اپنے لیے اجازت ملنے کا انتظار کر رہے تھے۔ تو انھوں نے (ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے)کہا: ابوبکر! آپ سن رہے ہیں نا جو یہ زور زور سے رسول اللہ ﷺ سے کہہ رہی ہے؟
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی آپ ﷺ کے پاس اپنی حالت کی شکایت لے کر آئی اور کہا کہ میں رفاعہ کے حرم میں تھی۔ اس نے مجھے آخری طلاق یعنی طلاقِ بتّہ دے دی، یہ ان کی تیسری طلاق تھی۔ اس کے بعد انھوں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کی، لیکن وہ ان کا حق ادا نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے کہ ان کا آلۂ تناسل کمزور لٹکا ہوا تھا اور اس میں تناؤ نہیں تھا۔ آپ ﷺ ان کی اونچی آواز سے گفتگو کرنے اور ایک ایسے مسئلے کی صراحت کرنے پر مسکر اٹھے، جسے بیان کرنے سے عام طور پر عورتیں شرماتی ہیں۔ آپ ﷺ ان کا ارادہ سمجھ گئے۔ یعنی وہ اپنے پہلے شوہر رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی تھیں۔ ان کے خیال میں عبدالرحمٰن کے ساتھ نکاح کرنے سے یہ رفاعہ کے لئے حلال ہو چکی ہیں۔ لیکن آپ ﷺ نے ان کی بات کا انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ رفاعہ کے لیے حلال ہونے کے لیے دوسرے شوہر کے ساتھ جماع کرنا ضروری ہے۔ آپ ﷺ کے پاس ابو بکر رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے اور خالد بن سعید دروازے پر کھڑے اجازت ملنے کا انتظار کر رہے تھے۔ خالد رضی اللہ عنہ نے اس عورت پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے، جو اس طرح کی گفتگو رسول اللہ ﷺ کے پاس کر رہی تھی، ابو بکر رضی اللہ عنہ کو آواز دی۔ یہ اس لیے کہ ان کے دلوں میں آپ ﷺ کا رعب اور جلال تھا۔ اللہ ان سے راضی ہو اور انھیں اپنے سے راضی کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی آپ ﷺ کے آداب کی رعایت اور اتباع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

حوالہ

- صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - الإلمام بشرح عمدة الأحكام للشيخ إسماعيل الأنصاري-مطبعة السعادة-الطبعة الثانية 1392ه. - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام-عبد الله البسام-تحقيق محمد صبحي حسن حلاق- مكتبة الصحابة- الشارقة- الطبعة العاشرة- 1426ه. - خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام- فيصل بن عبد العزيز بن فيصل ابن حمد المبارك الحريملي النجدي - الطبعة: الثانية، 1412 هـ - 1992 م. - الإفهام في شرح عمدة الأحكام - عبد العزيز بن عبد الله بن باز - حققه واعتنى به وخرج أحاديثه: د. سعيد بن علي بن وهف القحطاني- توزيع مؤسسة الجريسي.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

کتاب کی میعاد گزر گئی (اب رجوع کا اختیار نہیں رہا) لیکن اسے نکاح کا پیغام دے دو۔

عن الزُّبير بن العوام رضي الله عنه أنَّه كانت عنده أمُّ كُلثوم بنتُ عقبة، فقالت له وهي حاملٌ: طَيِّب نفسي بتطليقة، فطلَّقها تطليقةً، ثم خرجَ إلى الصلاة، فرجع وقد وضعت، فقال: ما لها؟ خَدَعتني، خَدَعها اللهُ، ثم أتى النبيَّ صلى الله عليه وسلم ، فقال: «سَبَقَ الكتابُ أَجَلَه، اخطِبها إلى نفسِها».
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی زوجیت میں ام کلثوم بنت عقبہ تھیں، انہوں نے حمل کی حالت میں زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا مجھے ایک طلاق دے کر میرا دل خوش کر دو، لہٰذا انہوں نے ایک طلاق دے دی، پھر وہ نماز کے لیے نکلے جب واپس آئے تو وہ بچہ جن چکی تھیں تو زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا اسے کیا ہو گیا؟ اس نے مجھ سے دھوکا دیا، اللہ اس سے دھوکا دے، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا ”کتاب کی میعاد گزر گئی (اب رجوع کا اختیار نہیں رہا) لیکن اسے نکاح کا پیغام دے دو“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

زبیر بن عوام نے امّ کلثوم بنت عقبہ کے ساتھ شادی کی تھی، بیوی نے حاملہ ہونے کی حالت میں ان سے کہا ”طيِّب نفسي بتطليقة“ یعنی مجھے ایک طلاق دے کر خوش کردو۔ ظاہری مفہوم یہ ہے کہ وہ شوہر کو پسند نہیں کرتی تھیں اور ان کے نکاح سے ایسے نکلنا چاہ رہی تھی کہ وہ دوبارہ ان سے رجوع نہ کرسکے، لیکن اس نے بچے کی ولادت قریب ہونے کی وجہ سے شوہر سے ایک طلاق کا مطالبہ کیا، وہ جانتی تھی کہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہوتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے ایک طلاق دی اور نماز کے لئے نکل گیے، واپس لوٹے تو بیوی بچہ جن چکی تھی۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا ”ما لها؟ خَدَعتني، خَدَعها اللهُ“ خداع (دھوکا دینا) اللہ تعالیٰ کی صفاتِ فعلیہ خبریہ میں سے ہے۔ لیکن علی الاطلاق اس سے اللہ تعالیٰ کو متصف نہیں کیا جاسکتا، بلکہ یہ مقابلۃً اللہ کی صفت بنتی ہے، چنانچہ اس طرح کہا جائے جو اللہ کو دھوکا دیتا ہے اللہ اسے دھوکا دیتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا منافقین کو دھوکا دینا اور مؤمنین کو دھوکا دینے والوں کو دھوکا دینا وغیرہ۔ اس کی تاویل یوں کرنا درست نہیں کہ حضرت زبیر کی مُراد یہ تھی کہ یہ اللہ تعالیٰ کا بدلہ ہے دھوکے کی شکل میں۔ بلکہ دوسری صفات کی طرح اس صفت کو بھی بغیر رد و بدل، تعطیل اور بغیر تکییف و تمثیل کے اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرنا واجب ہے۔ پھر زبیر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور وہ سارا واقعہ بتایا جو ان کے ان کی بیوی کے درمیان گزرا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا ”سَبَقَ الكتابُ أَجَلَه“ یعنی مقررہ عدت امید سے پہلے پوری ہو چکی اور طلاق واقع ہو گئی۔ پھر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ”اخطِبها إلى نفسِها“ یعنی تم بھی دوسرے لوگوں کی طرح ان کی طرف نکاح کا پیغام بھیجو، عدت گزرنے کی وجہ سے تمہیں ان کی ذات پر کوئی حق نہیں رہا۔

حوالہ

سنن ابن ماجه، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي. حاشية السندي على سنن ابن ماجه، لمحمد بن عبد الهادي التتوي نور الدين السندي، الناشر: دار الجيل – بيروت. إنجاح الحاجة شرح سنن ابن ماجه، لمحمد عبد الغني المجددي الحنفي، الناشر: قديمي كتب خانة – كراتشي. إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، للألباني، نشر: المكتب الإسلامي – بيروت، الطبعة: الثانية 1405هـ - 1985م. معجم اللغة العربية المعاصرة، للدكتور أحمد مختار عبد الحميد عمر بمساعدة فريق عمل، الناشر: عالم الكتب، الطبعة: الأولى، 1429 هـ - 2008 م. صفات الله عز وجل الواردة في الكتاب والسنة: علوي بن عبد القادر السَّقَّاف دار الهجرة الطبعة: الثالثة، 1426 هـ - 2006 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

عبد بن یزید نے جو رُکانہ اور اس کے بھائیوں کا باپ تھا ـــــــ اُم رکانہ کو طلاق دے دی اور ایک عورت جو مزینہ کے قبیلے میں سے تھی اس سے نکاح کیا، وہ عورت رسول اللہﷺ کے پاس آئی اور بولی یا رسول اللہﷺ! ابو رکانہ میرے کسی کام کے نہیں سوائے اس بال کے برابر۔

عن ابن عباس رضي الله عنهما : طلق عبد يزيد -أبو رُكَانَةَ وإخوته- أم رُكَانَةَ، ونكح امرأة من مُزَيْنَة، فجاءت النبي صلى الله عليه وسلم ، فقالت: ما يُغْنِي عني إلا كما تُغْنِي هذه الشعرة، لشعرة أخذتها من رأسها، ففرق بيني وبينه، فأخذت النبي صلى الله عليه وسلم حَمِيَّة، فدعا بركانة وإخوته، ثم قال لجلسائه: «أترون فلانا يُشْبِهُ منه كذا وكذا؟ من عبد يزيد، وفلانا يشبه منه كذا وكذا؟» قالوا: نعم، قال النبي صلى الله عليه وسلم لعبد يزيد: «طَلِّقْهَا» ففعل، ثم قال: «راجع امرأتك أم ركانة وإخوته؟» قال: إني طلقتها ثلاثا يا رسول الله، قال: «قد علمت راجِعْها» وتلا: {يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: 1]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عبد بن یزید (جو رکانہ اور اس کے بھائیوں کے والد ہیں) نے ام رکانہ کو طلاق دے دی، اور ایک عورت جو مزینہ کے قبیلے میں سے تھی اس سے نکاح کیا۔ وہ عورت رسول اللہﷺ کے پاس آئی اور بولی یارسول اللہﷺ ابو رُکانہ میرے کام کا نہیں مگر اس بال کے برابر اور ایک بال اس نے اپنے سر کا پکڑا یعنی میری حاجت روائی اس سے نہیں ہو سکتی۔ لہذا میرے اور اس کے درمیان جدائی کرادیں، رسول اللہﷺ یہ سن کر گرم ہوئے اور رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلا بھیجا پھر آپﷺ نے لوگوں سے فرمایا کیا تم فلاں لڑکے کو دیکھتے ہو کتنا مشابہ ہے ابو رکانہ سے؟ لوگوں نے کہا ہاں پھر آپﷺ نے عبد بن یزید سے کہا اسے طلاق دے دے، اور اُم رکانہ سے رجوع کرلے۔ ابو رکانہ نے کہا کہ میں نے اس کو تین طلاق دی آپﷺ نے فرمایا: میں جانتا ہوں ، تو اس سے رجوع کر لے، اور اس آیت کی تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ...﴾ ”اے نبی! (اپنی امت سے کہو کہ ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت میں انہیں طلاق دو...“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

عبد بن یزید نےجو رکانہ اور اس کے بھائیوں کا باپ تھا اپنی بیوی اُم رکانہ کو طلاق دے دی اور مزینہ کے قبیلے میں سے ایک عورت سے نکاح کیا وہ عورت رسول اللہ ﷺکے پاس آئی اور بولی یا رسول اللہﷺ! ابو رکانہ نامرد ہے اس کے پاس عورتوں سے ہمبستری کرنے کی طاقت نہیں۔ لہذا آپ میرے اور اس کے درمیان علیحدگی کرا دیں چنانچہ یہ سن کر رسول اللہﷺ بہت غصہ ہوئے اور آپ ﷺ کو غیرت آیا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلابھیجا، پھر آپﷺ نے لوگوں سے فرمایا:کیا تم رکانہ اور اس کے بھائیوں کو دیکھ رہے ہو شکل و صورت میں کس قدر مشابہ ہیں؟ یقیناً یہ سب اسی کی اولاد ہیں اور اس کی مردانگی میں کسی طرح کا شک و شبہہ نہیں جیسا کہ اُس کی قبیلہ مزینہ والی بیوی کا کہنا ہے۔ لوگوں نے کہا : ہاں ! آپ ﷺ نے عبد بن یزید سے کہا: اسے طلاق دے دو۔ اور ابو رکانہ سے آپ ﷺنےکہا کہ ام رکانہ اور رُکانہ کے بھائیوں کی ماں سے رجوع کرلو اس کو اپنی زوجیت میں واپس کر لو تو ابو رکانہ نے کہا کہ یا رسول اللہﷺ! میں نے اس کو ایک مجلس میں تین طلاق دی ہے، چنانچہ آپ ﷺنے فرمایا : میں جانتا ہوں اس کو ایک مجلس میں تین طلاق دی ہے، لیکن ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی طلاق ہوتی ہیں، لہذا تو اس سے رجوع کر لے، اور اس آیت کی تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ...﴾ ”اے نبی! (اپنی امت سے کہو کہ ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت میں انہیں طلاق دو...“۔ اور مسند احمد میں ہے کہ رکانہ نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دیں، جس کی وجہ سے بہت غمگین ہوئے، چنانچہ آپ ﷺنے فرمایا کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی طلاق ہوتی ہے۔

حوالہ

سنن أبي داود - سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت. صحيح أبي داود الأم -محمد ناصر الدين، الألباني - مؤسسة غراس للنشر والتوزيع، الكويت الطبعة: الأولى، 1423 هـ - 2002 م. منحة العلام في شرح بلوغ المرام:تأليف عبد الله الفوزان-طبعة دار ابن الجوزي-الطبعة الأولى 1428. توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام:تأليف عبد الله البسام- مكتبة الأسدي –مكة المكرمة –الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام:تأليف الشيخ صالح الفوزان- عناية عبد السلام السليمان - مؤسسة الرسالة الطبعة الأولى. فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام للشيخ محمد بن عثيمين- المكتبة الإسلامية القاهرة- تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي- الطبعة الأولى 1427. سبل السلام، لمحمد بن إسماعيل الصنعاني، - دار الحديث. بلوغ المرام من أدلة الأحكام، أحمد بن علي بن حجر العسقلاني - تحقيق وتخريج وتعليق: سمير بن أمين الزهيري-الناشر: دار الفلق – الرياض-الطبعة: السابعة، 1424 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com