سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

طلاق کے الفاظ

1 احادیث

اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے ان خیالات کو معاف کر دیا ہے، جو ان کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں، جب تک ان پر عمل نہ کر لیا جائے یا زبان سے ادا نہ کر دیا جائے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَتَكَلَّمْ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے ان خیالات کو معاف کر دیا ہے، جو ان کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں، جب تک ان پر عمل نہ کر لیا جائے یا زبان سے ادا نہ کر دیا جائے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ ایک مسلمان کے دل میں آنے والے برے خیالات کی بنا پر اس وقت تک اس کا مواخذہ نہيں ہوگا، جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے یا ان کو بولا نہ جائے۔ کیوں کہ اس طرح کے خیالات معاف ہيں۔ یہ اللہ کا فضل و کرم ہے کہ امت محمدیہ کے افراد کے ذہن و دماغ میں گردش کرنے والے اور ان کے دل میں پیدا ہونے والے خیالات کو اس وقت تک قابل مواخذہ قرار نہيں دیا ہے، جب تک دل کے اندر بیٹھ نہ جائیں اور دل ان سے مطمئن نہ ہو جائے۔ ہاں جس کے دل میں تکبر، گھمنڈ اور نفاق وغیرہ برے خیالات بیٹھ جائيں اور جگہ بنالیں، یا جو اپنے اعضاء سے ان پر عمل کر لے یا زبان سے ان کا اظہار کر دے، تو پھر وہ قابل مواخذہ ہوگا۔

فوائد
  1. اللہ تبارک وتعالی نے ان افکار و خیالات کو معاف کردیا ہے، جو دل میں پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی انسان اپنے دل میں ان کے بارے میں سوچتا ہے اور اس کے ذہن میں وہ خیالات گزرتے ہيں۔
  2. اگر انسان کے ذہن میں طلاق کا خیال آئے لیکن نہ وہ زبان سے بولے اور نہ قلم سے تحریر کرے تو اس کا اپنے دل میں طلاق کی بات کرنا اور اس بارے میں سوچنا طلاق شمار نہیں کیا جائے گا۔
  3. دل سے گزرنے والے خیالات چاہے جتنے بڑے ہوں، اس وقت تک قابل مواخذہ نہيں ہیں، جب تک دل کے اندر جاگزیں نہ ہو جائيں اور انسان ان پر عمل نہ کرے یا زبان سے ان کو نہ بولے۔
  4. امت محمدیہ کی ایک بہت بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس سے دل میں آنے والے برے خیالات کی بازپرس نہيں ہوگی۔ جب کہ پہلے کی تمام امتوں سے باز پرس ہونی ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (7/ 46) (5269). صحيح مسلم (1/ 116) (127). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (7/ 560). فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (5/ 46). توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام (5/ 502). حاشية السندي على سنن ابن ماجه، للسندي (6/ 157). البدرُ التمام شرح بلوغ المرام، للمغربي (8/ 49).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com