”وہ شرط پوری کی جانے کی سب سے زیادہ مستحق ہے، جس کے ذریعہ تم نے عورتوں کی شرم گاہوں کو حلال کیا “۔
عن عقبة بن عامر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أَحَقُّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوفُوا بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ».
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”وہ شرط پوری کی جانے کی سب سے زیادہ مستحق ہے، جس کے ذریعہ تم نے عورتوں کی شرم گاہوں کو حلال کیا “۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ پورا کیے جانے کی سب سے زیادہ حق دار شرط وہ شرط ہے، جو عورت کی شرم گاہ کو حلال کرنے کا سبب ہو۔ اس سے مراد وہ جائز شرطیں ہيں، جو نکاح کے وقت بیوی رکھتی ہے۔
فوائد
- نکاح کے وقت شوہر بیوی میں سے کوئی جو شرطیں رکھے، ان کو پورا کرنا واجب ہے۔ ہاں! اگر وہ شرط کسی حلال کو حرام یا کسی حرام کو حلال ٹھہراتی ہو، تو اس کا پورا کرنا واجب نہيں ہوگا۔
- نکاح کی شرطوں کو پورا کرنا دیگر شرطوں کو پورا کرنے کے مقابلے میں زیادہ ضروری ہے، کیوں کہ ان کے ذریعے شرم گاہوں کو حلال کیا جاتا ہے۔
- اسلام میں شادی کی اہمیت کہ اس نے شادی کی شرطوں کو پورا کرنے کی تاکید کی ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (3/ 190) (2721). صحيح مسلم (2/ 1035) (1418). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (2/ 63). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص573).