سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «لا يجُمَعُ بين المرأة وعمتها، ولا بين المرأة وخالتها».
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

شریعتِ مطہرہ خیر اور بھلائی لے کر آئی ہے اور ہر اس چیز کو دور کیا جس میں نقصان اور فساد ہو۔ اسی میں سے یہ بھی ہےکہ اس نے الفت، محبت اور ہمدردی کرنے پر ابھارا اور ایک دوسرے سے دوری، قطع تعلقی اور بغض سے منع فرمایا۔ جب شارع (اللہ تعالی) نے تعددِ ازدواج کو مصلحتوں کے پیش نظر جائز قرار دیا - چونکہ عام طور پر ایک سے زائد بیویاں آدمی کے پاس آپس میں غیرت کی وجہ سے بغض وعداوت کا باعث ہوتی ہیں چنانچہ قطع تعلقات کا اندیشہ رکھتے ہوئے باہم ایک دوسری کی قریبی رشتے دار عورتوں کے درمیان تعدد ازدواج (انہیں نکاح میں جمع کرنے) سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ بیوی کی بہن سے نکاح کرنے سے منع فرمایا، بھتیجی کے ہوتے ہوئے پھوپھی سے، بھانجی کے ہوتے ہوئے خالہ سے نکاح کرنے سے منع فرمایا، اس کے علاوہ ہر وہ دو عورتیں کہ جن میں سے ایک مرد تصور کرلیا جائے اور دوسری کو عورت تو نسبی رشتوں مین ایک کا دوسرے سے نکاح حرام ہو، ان کو ایک ساتھ اور ایک وقت میں زوجیت میں رکھنا جائز نہیں۔ یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے قول: وأحِلَّ لكم ما وَرَاءَ ذلِكم۔ (اور ان عورتوں کے سوا اور عورتیں تمہارے لیے حلال کی گئیں) کے عموم میں تخصیص پیدا کرتی ہے۔

حوالہ

- صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - الإلمام بشرح عمدة الأحكام للشيخ إسماعيل الأنصاري-مطبعة السعادة-الطبعة الثانية 1392ه. - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام-عبد الله البسام-تحقيق محمد صبحي حسن حلاق- مكتبة الصحابة- الشارقة- الطبعة العاشرة- 1426ه. - خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام- فيصل بن عبد العزيز بن فيصل ابن حمد المبارك الحريملي النجدي - الطبعة: الثانية، 1412 هـ - 1992 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
وہ عورتیں جن سے نکاح کرنا حرام ہے

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com