سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

نکاح کے احکام اور شرطیں

4 احادیث

اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں خطبۂ حاجت سکھایا

عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: عَلَّمَنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةَ الحَاجَةِ: إِنَّ الحَمْدَ للهِ، نَسْتَعِيْنُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوْذُ بِهِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ، {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ والأرحام إن الله كان عليكم رقيبا} [النساء: 1]، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 102]، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} [الأحزاب:70 - 71].
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں خطبۂ حاجت سکھایا، جو اس طرح ہے : "إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءَ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ والأرْحامَ إن اللهَ كانَ عليكم رقيبا۔} [النساء: 1]، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ۔} [آل عمران: 102]، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا، يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا۔} [الأحزاب: 70 - 71]۔ ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ ہم اسی سے مدد اور (اپنے گناہوں کی) معافی چاہتے ہیں اور اپنے نفس کی برائیوں سے اس کی پناہ چاہتے ہیں۔ جسے وہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( ﷺ ) اس کے بندے اور رسول ہیں“ ۔”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تم کو ایک نفس (آدم علیہ السلام) سے پیدا کیا ہے اور اس ایک نفس سے اس کے جوڑے (حوا) کو پیدا کیا اور ان دونوں سے بے شمار مرد وعورت کو پھیلا دیا, اور اس اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم سوال کرتے ہو، اور رشتے ناتے توڑنےسے بچو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے“۔[النساء: 1] ”اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم پر موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو“۔ [آل عمران : 102] ”اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور بات ہمیشہ صاف سیدھی کیا کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال درست فرما دے گا اور تمہاری خطائیں معاف کر دے گا اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی، بلاشبہ وہ عظیم کامیابی سے ہم کنار ہوا“۔ [الأحزاب : 70 - 71]
رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمددرجہصحيح
تشریح

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو خطبۂ حاجت سکھایا۔ دراصل خطبۂ حاجت سے مراد وہ کلمات ہیں، جو خطبوں اور ضروری کاموں کے آغاز کے وقت کہے جاتے ہیں۔ مثلا خطبۂ جمعہ اور خطبۂ نکاح وغیرہ۔ اس خطبے کے اندر کئی غیر معمولی باتیں موجود ہیں۔ مثلا اللہ کا ہر طرح کی تعریف کا حق دار ہونا، صرف اسی سے مدد اور مغفرت طلب کرنا، گناہوں پر پردہ ڈالنے اور درگزر کرنے کی گزارش کرنا، تمام برائیوں اور نفس کی برائیوں سے اللہ کی پناہ میں جانا وغیرہ۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جسے وہ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دے نہیں سکتا۔ پھر اللہ کے ایک ہونے کی گواہی اور اس بات کا ذکر کیا کہ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ ساتھ ہی رسالت کی گواہی اور اس بات کا ذکر کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس خطبے کو تین آیتوں کے ساتھ ختم کیا، جن کے اندر اللہ عز و جل سے ڈرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ کے احکام کی تعمیل کی جائے اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہا جائے۔ وہ بھی، اللہ کی خوش نودی کے حصول کے لیے۔ ان آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ جو شخص یہ کام کر لے گا، اس کے نتیجے میں اس کے اقوال و اعمال درست ہو جائیں گے، اس کے گناہ مٹا دیے جائيں گے اور اسے دنیا میں خوش گوار زندگی اور آخرت میں جنت نصیب ہوگی۔

فوائد
  1. نکاح اور جمعہ کے خطبوں کا آغاز اس خطبے کے ذریعے کرنا مستحب ہے۔
  2. خطبے کے اندر اللہ کی تعریف، دونوں گواہیاں اور بعض قرآنی آیات ہونی چاہئیں۔
  3. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے صحابہ کو دین سے متعلق سبھی ضروری باتیں سکھا دی۔
حوالہ

سنن أبي داود (3/ 456) (2118). سنن الترمذي (2/ 398) (1105). سنن النسائي (3/ 104) (1404). سنن ابن ماجه (3/ 87) (1892). مسند أحمد (6/ 262) (3720). ذخيرة العقبى في شرح المجتبى، للإثيوبي (16/ 231). عون المعبود شرح سنن أبي داود، للعظيم آبادي (6/ 108). توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام (5/ 241).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب نبی کریم ﷺ نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ حالتِ احرام میں تھے اور جب ان سے خلوت کی تو آپ احرام کھول چکے تھے اور ان کا انتقال بھی مقام سرف میں ہوا۔

عن ابن عباس، قال: "تَزَوَّج النبيُّ صلى الله عليه وسلم مَيْمُونَة وهو مُحْرِمٌ، وبَنَى بِها وهو حَلالٌ، وماتَتْ بِسَرِف".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ نے اُمّ المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ محرم (حالتِ احرام میں) تھے اور جب ان سے خلوت کی تو آپ احرام کھول چکے تھے اور ان کا انتقال بھی مقام سرف میں ہوا۔
متفق علیہدرجہاس حدیث کی سند صحیح ہے۔
تشریح

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی اس حدیث سے یہ فوائد مستفاد ہوتے ہیں کہ جس وقت نبی ﷺ نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے نکاح فرمایا تو آپ احرام کا لباس زیب تن کیے ہوئے تھے اور ان سے خلوت فرمائی تو احرام کھول کر حلال ہوچکے تھے۔ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع 'سرف' نامی مقام پر اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنھا کی وفات ہوئی اور یہی وہ مقام ہے جہاں آپ ﷺ نے ان سے خلوت فرمائی۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی ذکر کردہ اس حدیث کے تئیں کہ نبی ﷺ نے میمونہ رضی اللہ عنھا سے حالتِ احرام میں نکاح کیا، علماء نے یہ وضاحت کی کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کو وہم ہوگیا؛ کیوں کہ اس روایت کے وہی منفرد راوی ہیں اور جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے ان کی مخالفت ثابت ہے اور اس قصہ کا سب سے زیادہ علم رکھنے والی شخصیات میمونہ رضی اللہ عنھا اور ابورافع رضی اللہ عنہ سےان کی مخالفت مروی ہے، کیوں کہ ان دونوں سے اس قصہ کا براہ راست تعلق رہا۔ ابورافع رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ میں نبی ﷺ اور میمونہ رضی اللہ عنھا کے مابین سفیر کی حیثیت سے تھا اور آپ ﷺ نے ان سے حالت حلال ہی میں نکاح فرمایا اور حالت حلال ہی میں خلوت فرمائی۔ خود ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنھا فرمایا کرتی تھیں آپ ﷺ نے مجھ سے حالت حلال ہی میں نکاح فرمایا۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کو نبی ﷺ کے میمونہ رضی اللہ عنھا سے نکاح کا علم، آپ ﷺ کے حالتِ احرام میں آنے کے بعد ہوا ہو اور انھیں یہ گمان ہوگیا کہ آپ ﷺ نے حالت احرام میں ان سے نکاح فرمایا۔ بعض اہلِ علم نے ابن عباس رضی اللہ عنھما کی حدیث کو اس بات پر محمول کیا کہ آپ ﷺ نے میمونہ رضی اللہ عنھا سے حدود حرم میں نکاح فرمایا اور آپ اس وقت حلال تھے۔

حوالہ

صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ صحيح مسلم المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. المطلع على ألفاظ المقنع, محمد بن أبي الفتح بن أبي الفضل البعلي، المحقق: محمود الأرناؤوط وياسين محمود الخطيب, مكتبة السوادي للتوزيع, الطبعة الأولى 1423هـ - 2003 م. المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، للنووي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت، الطبعة: الثانية، 1392ه. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 ه - 2006 م فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427ه. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر : دار ابن الجوزي الطبعة : الأولى ، 1427 هـ - 1431 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

بنی بیاضہ کے لوگو! ابوہند سے تم (اپنی بچیوں کی) شادی کرو اور (ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے) تم انہیں نکاح کا پیغام دو۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه ، أن أبا هِنْد، حَجَمَ النبي صلى الله عليه وسلم في اليَافُوخ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «يا بَنِي بَيَاضَةَ، أَنْكِحُوا أَبَا هِنْدٍ، وَانْكِحُوا إلَيْهِ» وقال: «وإنْ كان في شيء مِمَّا تَدَاوُون به خيرٌ فَالحِجَامة».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوہند نے نبی اکرم ﷺ کے سر کی تالو میں پچھنا لگایا تو آپ نے فرمایا: بنی بیاضہ کے لوگو! ابوہند سے تم (اپنی بچیوں کی) شادی کرو اور (ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے) تم انہیں نکاح کا پیغام دو اور فرمایا اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی میں خیر ہے تو وہ پچھنا لگانے ہی میں ہے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

اس حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ نبی ﷺ نے ابوہند رضی اللہ عنہ کے ہاں اپنے سر میں پچھنا لگوایا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ (نکاح کے لیے) حسب و نسب اور پیشے میں کفؤ (برابری) کا اعتبار نہیں ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے ایک انصاری قبیلہ (عرب کا ازدی قحطانی النسل قبیلہ) کو حکم دیا کہ وہ ابوہند سے (اپنی بچیوں کی) شادی کریں اور ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے انہیں نکاح کا پیغام دیں اور ابوہند بنی بیاضہ کے آزاد کردہ غلاموں میں سے تھے اور وہ غلامی کی وجہ سے لاحق ایذا و مصیبت کے ساتھ پیشہ کے اعتبار سے حجام (پچھنا لگانے کا کام کرتے) تھے اور عرب کے نزدیک پچھنا لگانا بہت حقیر و گھٹیا پیشہ متصور تھا، چنانچہ آپ ﷺ نے حسب و نسب یا پیشہ میں کفو و برابری کا اعتبار نہ کیا اور دیگر نصوص میں یہ دلیل ملتی ہے کہ دینداری اور اچھے اخلاق میں کفو کو ملحوظ رکھا جائے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ انسان کے علاج معالجہ میں سب سے بہتر علاج، پچھنا لگانا ہے۔

حوالہ

سنن أبي داود, أبو داود سليمان بن الأشعث الأزدي السِّجِسْتاني, المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد, المكتبة العصرية، صيدا – بيروت. صحيح أبي داود – الأم, أبو عبد الرحمن محمد ناصر الدين الألباني, مؤسسة غراس للنشر والتوزيع، الكويت, الطبعة: الأولى، 1423 هـ - 2002 م. عون المعبود شرح سنن أبي داود، ومعه حاشية ابن القيم: تهذيب سنن أبي داود وإيضاح علله ومشكلاته, محمد أشرف بن أمير بن علي بن حيدر الصديقي العظيم آبادي, دار الكتب العلمية – بيروت, الطبعة: الثانية، 1415 هـ. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 ه - 2006 م. فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427هـ. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر: دار ابن الجوزي الطبعة: الأولى، 1427 هـ - 1431. بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م. فتاوى اللجنة الدائمة -المجموعة الأولى-: اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء - جمع وترتيب: أحمد بن عبد الرزاق الدويش.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

تین کام ایسے ہیں کہ انھیں چاہے سنجیدگی سے کیا جائے یا ہنسی مذاق میں، ان کا اعتبار ہو گا؛ نکاح، طلاق اور رجعت۔

عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "ثلاث جِدُّهُنَّ جِدٌّ، وهَزْلُهُنَّ جِدٌّ: النكاح، والطلاق، والرَّجْعَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا: ”تین کام ایسے ہیں کہ انھیں چاہے سنجیدگی سے کیا جائے یا ہنسی مذاق میں، ان کا اعتبار ہو گا؛ نکاح، طلاق اور رجعت“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ گر کوئی شخص الفاظ نکاح، طلاق یا رجعت کو مذاق کے طور پر کہے، تو یہ اس کی طرف سے واقع ہو جائيں گے؛ کیوں کہ ان احکام میں قصد وارادہ، سنجیدگی اور مذاق کا حکم ایک ہی ہے۔ چنانچہ جس ولی نے اپنے ما تحت کے کسی فرد کا عقد کرایا، اپنی بیوی کو طلاق دیا یا اس (طلاق) سے رجوع کیا، تو یہ ان (کلمات) کی ادائیگی کے وقت ہی سے نافذ ہوجائے گا، چاہے اسے سنجیدگی سےکہا ہو یا مذاق یا لہو ولعب کے طور پر کہا ہو؛ کیوں کہ ان عقود میں کوئی خیارِ مجلس اور خیارِشرط کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ تینوں احکام شریعت کی نگاہ میں بہت ہی بلند مرتبہ کے حامل ہیں۔ چنانچہ ان میں کھلواڑ کرنا یا ان کے متعلق مذاق کرنا جائز نہیں۔ پس جس کسی نے ان احکام کے متعلق کوئی لفظ اپنی زبان سے نکالے گا، وہ اس پر لازم ہو جائے گی۔

حوالہ

- بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م - سنن ابن ماجه. تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي. الناشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي - سنن أبي داود. المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد. الناشر: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت. - سنن الترمذي، تحقيق بشار عواد، دار الغرب الإسلامي – بيروت، 1998 م - مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري، الناشر:دار الفكر، بيروت - لبنان. الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م - إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، للشيخ الألباني. الناشر: المكتب الإسلامي – بيروت. الطبعة: الثانية 1405 هـ - 1985م - نيل الأوطار، للشوكاني. الناشر: دار الحديث، مصر. الطبعة: الأولى، 1413هـ - 1993م - فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية - الطبعة الأولى 1427 - 2006م - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام. مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة.الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م - تسهيل الالمام، للشيخ صالح الفوزان. طبعة الرسالة. الطبعة الأولى 1427 – 2006 م فتاوى اللجنة الدائمة - المجموعة الأولى- : اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء- جمع وترتيب: أحمد بن عبد الرزاق الدويش.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com