اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بیوی کے دبر میں جماع کرنے سے خبردار کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ ایسا کرنے والا آدمی ملعون اور اللہ کی رحمت سے دھتکارا ہوا ہے۔ اور ایسا کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
- عورتوں کے دبر میں جماع کرنا حرام ہے۔
- دبر کے علاوہ بیوی کے سارے جسم سے لطف اندوز ہونا جائز ہے۔
- ایک مسلمان اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے عورت کے فرج میں وطی کرتا ہے۔ دبر میں نہیں۔ کیوں کہ یہ فطرت انسانی کی خلاف ورزی، نسل انسانی کی بربادی کا ذریعہ، سلیم طبیعتوں کی خلاف ورزی اور میاں بیوی کے لیے حد درجہ نقصان دہ عمل ہے۔
سنن أبي داود (3/ 489) (2162). السنن الكبرى للنسائي (8/ 200) (8966). مسند أحمد (15/ 457) (9733). نيل الأوطار، للشوكاني (6/ 237). سبل السلام، للصنعاني (2/ 202). توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام (5/ 346). فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (4/ 535).