نبی کریم ﷺ نے بیان فرمایا کہ روزِقیامت اللہ کے ہاں مرتبے کے لحاظ سے بدترین شخص وہ ہو گا، جو اس خیانت سے متصف ہو گا، یعنی وہ شخص جو ایسے گھریلو ازدواجی راز کو افشا کرتا ہے، جس سے صرف میاں بیوی ہی آگاہ ہوتے ہیں۔ اس حدیث میں مرد اور اس کی بیوی کے مابین جنسی لطف اندوزی سے متعلقہ امور اور ان کی تفاصیل اور اس دوران بیوی کی طرف سےجو باتیں یا افعال وغیرہ ہوتے ہیں، انھیں بیان کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ جہاں تک محض جماع کا تعلق ہے، تو بنا کسی فائدے اور ضرورت کے بس یوں ہی اس کا ذکر کرنا مکروہ ہے؛ کیوں کہ یہ بات مروت کے خلاف ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ یا تو اچھی بات کہے یا پھر چپ رہے“۔ اگر اس کے ذکر کرنے کی ضرورت ہویا پھر ایسا کرنے میں کوئی فائدہ ہو، بایں طور کہ اسے ملامت کیا جا رہا ہو کہ وہ اپنی بیوی سے بے گانگی برتتا ہے یا پھر اس کے خلاف یہ دعوی دائر کر دیا جائے کہ وہ جماع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا یا ایسی کسی اور غرض کی بنا پر اس کا ذکر کرنے میں کوئی کراہت نہیں؛ کیوں کہ ان صورتوں میں اس کے ذکر کرنے کی مصلحت پائی جا رہی ہے اور سنت بھی اس کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ. تطريز رياض الصالحين، للشيخ فيصل المبارك، ط1، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة، الرياض، 1423هـ. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد علي بن محمد بن علان، ط4، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، 1425 ه. رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428 هـ. رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ. المعجم الأوسط للطبراني، تحقيق: طارق بن عوض الله بن محمد , عبد المحسن بن إبراهيم الحسيني، دار الحرمين، القاهرة. شرح رياض الصالحين للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.