سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

سنت نبوی کی تدوین

3 احادیث

میری کسی بات کو نہ لکھو۔ جس نے مجھ سے قرآن کے علاوہ کوئی اور بات لکھی ہے وہ اسے مٹا دے، البتہ میری باتیں روایت کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن جو شخص جان بوجھ کر میری طرف كوئی جھوٹی بات منسوب کرے گا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔

عن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا تكتبوا عني، ومَن كتب عني غيرَ القرآن فَلْيَمْحُه، وحدِّثوا عنِّي ولا حَرَج، ومَن كذب عليَّ -قال همام: أحسِبه قال: مُتعمِّدًا- فَلْيَتَبوَّأ مَقْعَدَه مِن النار».
ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: میری کسی بات کو نہ لکھو۔ جس نے مجھ سے قرآن کےعلاوہ کوئی اور بات لکھی ہے وہ اسے مٹا دے، البتہ میری باتیں روایت کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن جو شخص میری طرف كوئی جھوٹی بات منسوب کرے گا -ہمام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے خیال میں انہوں نے ”جان بوجھ کر“ کے الفاظ بھی کہے تھے- وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے (شروع میں) اپنے صحابہ کو اپنی کوئی بھی بات لکھنے سے منع کر دیا اور فرمایا کہ جس نے میری کسی بات کو لکھا ہو وہ اسے مٹا دے۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں اپنی باتوں کو آگے بیان کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی کہ ایسا کرنے میں ان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ وہ آپ ﷺ سے جس بات کو بھی نقل کریں اس میں سچائی کو پیش نظر رکھیں۔ آپ ﷺ نے انہیں تنبیہ فرمائی کہ جو شخص بھی آپ ﷺ کی طرف جان بوجھ کر کوئی جھوٹی بات منسوب کرے گا اس کی جزا جہنم کی آگ ہو گی۔ حدیث کو لکھنے کی ممانعت منسوخ ہو چکی ہے کیونکہ آپ ﷺ نے اس سے شروع شروع میں منع فرمایا تھا۔ کیونکہ احادیث بہت زیادہ ہو گئیں اور ہو سکتا تھا کہ حافظہ کچھ باتوں کو محفوظ نہ رکھ سکے چنانچہ آپ ﷺ نے لکھنے کی اجازت دے دی۔ آپ ﷺ نے اپنے خطبہ (حجۃ الوادع) میں فرمایا کے لیے ”ابو شاہ کو لکھ کر دے دو“۔ آپ ﷺ نے ایسا اس وقت فرمایا جب ابو شاہ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے (خطبہ میں بیان کردہ احکام کو) لکھ کر دینے کی درخواست کی تھی۔ آپ ﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو لکھنے کی اجازت دی۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو تبلیغ کا حکم دیا ہے۔ جب لکھا نہیں جائے گا تو اس سے علم ضائع ہو جائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ اس ممانعت کا تعلق محض اس صورت کے ساتھ خاص ہے جب حدیث کو قرآن کے ساتھ ایک ہی صحیفہ میں لکھا جائے تا کہ اس کی قرآن کے ساتھ آمیزش نہ ہو جائے اور یوں قاری اشتباہ میں پڑ جائے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ممانعت صرف نزولِ قرآن کے وقت کے ساتھ خاص تھی اس اندیشے کے تحت کہ کہیں قرآن کا کسی اور شے کے ساتھ التباس نہ ہو جائے۔ بعدازاں رسول اللہ ﷺ نے اس کی اجازت دے دی۔ پہلا احتمال یعنی اس ممانعت کا منسوخ ہونا ہی زیادہ راجح ہے۔

حوالہ

- صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت. - مختار الصحاح، لزين الدين أبو عبد الله محمد بن أبي بكر بن عبد القادر الحنفي الرازي، تحقيق: يوسف الشيخ محمد، نشر: المكتبة العصرية - الدار النموذجية، بيروت – صيدا، لطبعة: الخامسة، 1420هـ - 1999م. - النهاية في غريب الحديث والأثر، لابن الأثير، نشر: المكتبة العلمية - بيروت، 1399هـ - 1979م، تحقيق: طاهر أحمد الزاوى - محمود محمد الطناحي. - إكمال المعلم بفوائد مسلم لعياض بن موسى بن عياض بن عمرون اليحصبي السبتي، المحقق: الدكتور يحيى إسماعيل، الناشر: دار الوفاء للطباعة والنشر والتوزيع، مصر، الطبعة: الأولى، 1419 هـ - 1998 م. - شرح سنن النسائي المسمى «ذخيرة العقبى في شرح المجتبى»، المؤلف: محمد بن علي بن آدم الإثيوبي الوَلَّوِي، الناشر: دار المعراج الدولية للنشر - دار آل بروم للنشر والتوزيع, الطبعة الأولى, 1416- 1424. - كشف المشكل من حديث الصحيحين، لجمال الدين أبي الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد الجوزي، المحقق: علي حسين البواب، الناشر: دار الوطن - الرياض.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میری امت کے آخر میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو ایسی باتیں بتائیں گے، جو نہ تم نے سنی ہوگی اور نہ تمھارے باپ دادوں نے سنی ہوگی۔ لہذا تم ان سے خبردار رہنا۔

عَنْ ‌أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «سَيَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي أُنَاسٌ يُحَدِّثُونَكُمْ مَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "میری امت کے آخر میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو ایسی باتیں بتائیں گے، جو نہ تم نے سنی ہوگی اور نہ تمھارے باپ دادوں نے سنی ہوگی۔ لہذا تم ان سے خبردار رہنا۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ آپ کی امت کے آخر میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے حوالے سے گھڑ کر جھوٹی باتیں بتائیں گے اور ایسی باتیں کہیں گے، جو ان سے پہلے کسی نے نہيں کہی ہوگی۔ وہ سرعام جھوٹی باتیں کہتے پھریں گے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا ہے کہ ہم اس طرح کے لوگوں سے دور رہيں، ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے گریز کریں اور ان کی بات نہ سنیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی بتائی ہوئی جھوٹی حدیثیں دلوں میں بیٹھ جائیں اور ان سے دامن چھڑانا مشکل ہوجائے۔

فوائد
  1. اس حدیث میں نبوت کی ایک بہت بڑی نشانی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہم دیکھتے ہيں کہ اس میں آپ نے مستقبل میں سامنے آنے والی ایک بات کی اطلاع دی اور وہ ہو بہو اسی طرح سامنے بھی آئی۔
  2. ایسے لوگوں سے دور رہنا اور ان کی جھوٹی باتیں سننے سے گریز کرنا چاہیے، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب منسوب کرکے اور اسلام کے بارے میں جھوٹی باتیں پھیلاتے ہوں۔
  3. اس حدیث میں صحیح اور ثابت ہونے کی تصدیق کیے بغیر حدیثوں کو قبول کرنے یا عام کرنے سے خبردار کیا گیا ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 12) (6)، قرة عين المحتاج في شرح مقدمة صحيح مسلم بن الحجاج (2/ 8).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

لکھا کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس سے سوائے حق کے کچھ اور نہیں نکلتا"۔

عن عبدِ الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: كنتُ أكتبُ كلَّ شيءٍ أسمعُه من رسولِ الله صلَّى الله عليه وسلم أُريدُ حفْظَه، فنهتْني قريشٌ، وقالوا: أتكْتبُ كلَّ شيءٍ تَسمَعُه من رسول الله صلَّى الله عليه وسلم، ورسولُ الله صلَّى الله عليه وسلم بَشَرٌ يتكلَّمُ في الغضَبِ والرِّضا؟ فأمسَكتُ عن الكتاب، فذكرتُ ذلك لرسول الله صلَّى الله عليه وسلم، فأومأ بإصبَعِه إلى فيه، فقال: «اكتُبْ، فوالذي نفسي بيدِه، ما يَخرُجُ منه إلا حقٌّ».
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے میں جو کچھ سنتا سب لکھ لیا کرتا تھا، تاکہ ان کو محفوظ رکھا جا سکے۔ لہذا قریش کے کچھ لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا اور کہا کہ کیا تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے سنی ہوئی ہر بات لکھ لیا کرتے ہو، جب کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم انسان ہیں، غصہ اور خوشی دونوں حالتوں میں گفتگو کرتے ہیں؟ لہذا میں نے لکھنا موقوف کردیا اور یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : "لکھا کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس سے سوائے حق کے کچھ اور نہیں نکلتا"۔
رواه أبو داوددرجہصحيح
تشریح

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہيں کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے سنی ہوئی ہر بات کو لکھ لیا کرتا تھا، تاکہ اسے تحریری شکل میں محفوظ رکھا جا سکے۔ لیکن قریش کے کچھ لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا اور کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ایک انسان ہیں اور غصہ اور خوشی دونوں حالتوں میں گفتگو کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ غلطی بھی کر بیٹھیں۔ (اس لیے آپ کی ہر بات کو لکھا مت کرو۔) چنانچہ میں نے لکھنا بند کر دیا۔ پھر میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے ان کی اس بات کا ذکر کیا، تو آپ نے اپنے دہن مبارک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تم لکھا کرو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس سے ہر حال میں حق ہی نکلتا ہے۔ خوشی کی حالت میں بھی اور غصے کی حالت میں بھی۔ اللہ تعالی نے بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں فرمایا: {وَمَا یَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰۤ۔ إِنۡ هُوَ إِلَّا وَحۡیࣱ یُوحَىٰ} (اور نہ وه اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں. وه تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے.) [سورہ نجم : 3-4]

فوائد
  1. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کا پیغام پہنچانے کے معاملے میں معصوم تھے۔ خوشی کی حالت میں بھی اور غصے کی حالت میں بھی۔
  2. صحابۂ کرام سنت کی حفاظت اور اس کی تبلیغ کے حریص تھے۔
  3. کسی مصلحت کے پیش نظر، جیسے کسی بات کی تاکید کے لیے قسم کے مطالبے کے بغیر بھی قسم کھانا جائز ہے۔
  4. علم کو لکھ لینا اسے محفوظ رکھنے کا ایک اہم ترین سبب ہے۔
حوالہ

سنن أبي داود (5/ 489) (3646)، شرح سنن أبي داود للعباد (412/ 21).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com