یہ بیع ان بیوع میں سے ہے، جو حرام ہیں۔ اس کی مشہور دو تفسیریں ہیں: 1- اس کا معنیٰ تعلیق ہے، یعنی کوئی چیز اس طرح ادھار پر بیچنا کہ جانور کے پیٹ میں موجود بچے کی ولادت، پھر اس کے بچے کی ولادت پر اس کی مدت ختم ہو۔ اس سے منع کیا گیا ہے، اس لیے کہ اس میں قیمت مجہول ہے اور جس مدت کے ساتھ قیمت کو معلق کیاگیا ہے، وہ لمبی بھی ہوسکتی ہے اور مختصر بھی۔ 2- اس کے معنی معدوم اور مجہول چیز کو بیچنے کے ہیں۔ یعنی ایک سالہ جانور کے پیٹ میں موجود حمل سے پیدا ہونے والے بچے کو بیچنا۔ اس سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ اس میں بہت زیادہ ضرر اور غرر (غیریقینی صورتحال) ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ وہ بچہ مادہ ہی ہوگا، ایک ہوگا یا دو، مردہ ہوگا یا زندہ اور کتنے عرصے میں پیدا ہوگا؟ یہ مجہول بیوع میں سے ہے، جس کا ضرر بہت زیادہ ہوتا ہے اور جھگڑے کا سبب بنتا ہے۔ یعنی مسئلے کی چار صورتیں ہیں: پہلی یہ کہ جانور کے حمل کو بیچنا۔ دوسری یہ کہ جانور کے حمل کے حمل کو بیچنا۔ اس میں بیچی جانے والی چیز مجھول ہے۔ تیسری یہ کہ بیچی جانے والی چیز مؤجل ہو، یعنی جس مدت میں وہ چیز مشتری کی ملکیت ہوگی، وہ جانور کا بچہ ہونے یا اس کے بچے کا بچہ ہونے تک مؤخر ہو۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ مبیع غیر معلق (دستیاب) ہو ،لیکن قیمت مؤجل ہو جس کی مدت مجہول ہو۔
- صحيح البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - الإلمام بشرح عمدة الأحكام، للشيخ إسماعيل الأنصاري -مطبعة السعادة- الطبعة الثانية 1392هـ. -تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام، تحقيق محمد صبحي حسن حلاق- مكتبة الصحابة- الشارقة- الطبعة العاشرة- 1426هـ. -فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين -المكتبة الإسلامية القاهرة- تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي، الطبعة الأولى 1427ه-.