سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

سنت کی اہمیت اور مقام

9 احادیث

سب سے بڑا بہتان یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے، یا اپنی آنکھ کو وہ کچھ دکھائے جو اس نے نہیں دیکھا، یا رسول اللہ ﷺ کی طرف ایسی بات منسوب کرے جو آپ نے نہ فرمائی ہو۔

عن وَاثِلَةَ بن الأَسْقَعِ ـ رضي الله عنه ـ مرفوعاً: «إن من أعظم الفِرَى أن يَدَّعِيَ الرجلُ إلى غير أبيه، أو يُرِي عَيْنَهُ ما لم تَرَ، أو يقول على رسول الله صلى الله عليه وسلم ما لم يَقْلْ».
واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے بڑا بہتان یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے، یا اپنی آنکھ کو وہ کچھ دکھائے جو اس نے نہیں دیکھا(یعنی بغیر کچھ دیکھے من گھڑت خواب بیان کرے)، یا رسول اللہ ﷺ کی طرف ایسی بات منسوب کرے جو آپ نے نہ فرمائی ہو“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

یہ اللہ تعالیٰ پر سخت ترین جھوٹ ہے کہ: آدمی خود کو اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے یا پھر کوئی دوسرا شخص اسے اس کے باپ کے علاوہ کسی غیر کی طرف منسوب کرے اور وہ اس پر صاد کرے۔ یہ جھوٹ کی بد ترين قسموں ميں سے ہے۔ اسی طرح اللہ کے نزدیک بد ترین اور سنگین ترین جھوٹ یہ بھی ہے کہ انسان دعوی کرے کہ اس نے خواب میں کچھ دیکھا ہے حالانکہ اس نے اسے بالکل نہیں دیکھا۔ نیز اللہ کے نزدیک یہ بھی بد ترین اور سخت ترین جھوٹ ہے کہ آدمی رسول اللہ ﷺ کی طرف کسی قول یا فعل یا تقریر کی نسبت کرے حالانکہ آپ ﷺ سے اس کا کوئی ثبوت نہ ہو۔

حوالہ

- صحيح البخاري، للإمام محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق محمد الناصر، دار طوق النجاة. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ. - كنوز رياض الصالحين»، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه. - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد علي بن محمد بن علان بن إبراهيم البكري الصديقي الشافعي اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة . - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”میری طرف سے لوگوں کو پہنچا دو، اگرچہ ایک آیت ہی ہو۔ بنی اسرائیل سے روایت کرو، ان سے بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے“۔

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً، وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ».
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”میری طرف سے لوگوں کو پہنچا دو، اگرچہ ایک آیت ہی ہو۔ بنی اسرائیل سے روایت کرو، ان سے بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے“۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم آپ سے نقل شدہ علم کو پہنچانے کا حکم دے رہے ہیں، چاہے وہ قرآن کی صورت میں ہو یا حدیث کی صورت میں۔ وہ علم کم، مثلا قرآن کی ایک آیت یا ایک حدیث ہی کیوں نہ ہو۔ بس شرط یہ ہے کہ انسان جو کچھ پہنچا رہا ہے اور جس کی دعوت دے رہا ہے، اس کے پاس اس کی جان کاری ہو۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ بنی اسرائیل کے زمانے میں وقوع پزیر ہونے والے ایسے واقعات کو بیان کرنے میں کوئی حرج نہيں ہے، جو ہماری شریعت سے ٹکراتی نہ ہوں۔ اس کے بعد آپ نے اپنی طرف جھوٹ کی نسبت کرنے سے ڈرایا ہے اور بتایا ہے کہ جس نے آپ کی جانب جان بوجھ کر جھوٹ کی نسبت کی، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔

فوائد
  1. اللہ کی شریعت کو پہنچانے کی ترغیب اور اس بات کی نشان دہی کہ انسان کی ذمے داری بنتی ہے کہ اس نے جو کچھ یاد کیا ہے اور سمجھ رکھا ہے، اسے دوسروں کو پہنچا دے، چاہے وہ کم ہی کیوں نہ ہو۔
  2. شرعی علم طلب کرنے کا وجوب، تاکہ بندہ اللہ کی عبادت اور اس کی شریعت کی تبیلغ جیسے کام صحیح طریقے سے کر سکے۔
  3. کسی بھی حدیث کو دوسروں تک پہنچانے یا اسے عام کرنے سے پہلے اس کی صحت کا یقین حاصل کر لینا ضروری ہے، تاکہ انسان اس سخت وعید کی چپیٹ میں نہ آ جائے۔
  4. بات کرتے وقت سچ بولنے اور حدیث نقل کرتے وقت احتیاط سے کام لینے کی ترغیب۔ خاص طور سے اللہ کی شریعت کے معاملے میں‘ تاکہ انسان جھوٹ میں نہ پڑ جائے۔
حوالہ

صحيح البخاري (4/ 170) (3461). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 464). نزهة المتقين، لمصطفى الخن وغيره (2/ 951). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 429).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جس نے میری طرف منسوب کر کے کوئی حدیث بیان کی، حالاں کہ اسے لگ رہا ہو کہ وہ جھوٹ ہے، تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ہو گا۔

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رضي الله عنهما قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَدَّثَ عَنِّي بِحَدِيثٍ يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ».
سمرہ بن جندب اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، دونوں کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جس نے میری طرف منسوب کر کے کوئی حدیث بیان کی، حالاں کہ اسے لگ رہا ہو کہ وہ جھوٹ ہے، تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ہو گا۔"
رواه مسلم في مقدمتهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے آپ کے حوالے سے کوئی حدیث نقل کی اور وہ جانتا ہو، اسے لگتا ہو یا پھر اس کا غالب گمان ہو کہ اس حدیث کی نسبت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب جھوٹی ہے، تو روایت کرنے والا بھی اس جھوٹ کے آغاز کرنے والے کا شریک ہے۔

فوائد
  1. نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی گئی احادیث کی چھان بین کرنا اور انھیں روایت کرنے سے پہلے ان کے صحیح ہونے کا یقین حاصل کرنا ضروری ہے۔
  2. جھوٹ ایجاد کرنے والے کے ساتھ ساتھ اسے نقل کرنے والا اور پھیلانے والا بھی جھوٹا ہے۔
  3. کسی حدیث کے موضوع ہونے کا علم یا غالب گمان ہونے کے باوجود اسے نقل کرنا حرام ہے۔ ہاں، اس سے خبردار کرنے کے لیے نقل کیا جائے، تو بات الگ ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 8).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

خبردار رہو! قریب ہے کہ کوئی آدمی اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس کے پاس میری حدیث پہنچے تو کہے: ہمارے اور تمہارے درمیان (فیصلے کی چیز) بس اللہ کی کتاب ہے

عن المقدام بن معدِيْكَرِب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أَلَا هَلْ عَسَى رَجُلٌ يَبْلُغُهُ الْحَدِيثُ عَنِّي وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ فَيَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللهِ، فَمَا وَجَدْنَا فِيهِ حَلَالًا اسْتَحْلَلْنَاهُ، وَمَا وَجَدْنَا فِيهِ حَرَامًا حَرَّمْنَاهُ، وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا حَرَّمَ اللهُ».
مقداد بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "خبردار رہو! قریب ہے کہ کوئی آدمی اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس کے پاس میری حدیث پہنچے تو کہے: ہمارے اور تمہارے درمیان (فیصلے کی چیز) بس اللہ کی کتاب ہے۔ اس میں جو چیز ہم حلال پائیں گے اسی کو حلال سمجھیں گے اور اس میں جو چیز حرام پائیں گے اسی کو ہم حرام جانیں گے۔ یاد رکھو! بلاشک و شبہ رسول اللہ ﷺ نے جو چیز حرام قرار دے دی ہے، وہ ویسے ہی حرام ہے، جیسے کہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیز"۔
رواه أبو داود والترمذي وابن ماجهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں بتایا ہے کہ وہ وقت قریب آچکا ہے، جب ایسے لوگ ظاہر ہوں گے کہ ان میں سے ایک آدمی اپنی مسند پر بیٹھا ہوگا اور جب اس کے پاس اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پہنچے گی، تو وہ کہے گا کہ تمام معاملات میں ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والی چیز قرآن مجید ہے۔ وہی ہمارے لیے کافی ہے۔ ہم اس میں جو چیز حلال پائیں گے، اسی پر عمل کریں گے اور اس میں جو چیز حرام پائیں گے، اسی سے اجتناب کریں گے۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرما دی کہ ہر وہ چیز جسے آپ نے اپنی سنت میں حرام ٹھہرایا یا اس سے منع فرمایا، اس کا بھی حکم وہی ہے، جو حکم قرآن میں اللہ کی حرام کردہ چیزوں کا ہے، کیوں کہ آپ اپنے رب کی جانب سے دین پہنچانے والے کی حیثیت سے آئے تھے۔

فوائد
  1. حدیث کی تعظیم بھی اسی طرح کی جائے گی جس طرح قرآن کی کی جاتی ہے اور اس پر عمل بھی قرآن ہی طرح کیا جائے گا۔
  2. رسول کی اطاعت در اصل اللہ کی اطاعت ہے اور رسول کی نافرمانی در اصل اللہ تعالی کی نافرمانی ہے۔
  3. حدیث کی حجیت کا ثبوت اور احادیث کا رد یا انکار کرنے والے کی تردید۔
  4. جو شخص حدیث سے اعراض کرے اور صرف قرآن پر اکتفا کرنے کا دعوی کرے، وہ در اصل قرآن و حدیث دونوں سے اعراض کرنے والا ہے اور اتباع قرآن کے دعوے میں جھوٹا ہے۔
  5. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آپ نے مستقبل میں کسی چیز کے واقع ہونے کی پیشین گوئی فرمائی اور وہ چیز ہوبہو اسی طرح واقع ہو بھی گئی۔
حوالہ

سنن أبي داود (7/ 13) (4604)، سنن الترمذي (4/ 399) (2664)، سنن ابن ماجه (1/ 9) (12)، نخب الأفكار في تنقيح مباني الأخبار في شرح معاني الآثار (13/ 154).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس نے آپ پر جھوٹ بولا، یعنی کسی قول یا عمل کی جھوٹی نسبت آپ کی طرف کر دی، اسے اس جھوٹ کے بدلے میں آخرت میں جہنم میں جگہ دی جائے گی۔

فوائد
  1. جان بوجھ کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر جھوٹ بولنا جہنم میں دخول کا سبب ہے۔
  2. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر جھوٹ بولنا دیگر لوگوں پر جھوٹ بولنے کی طرح نہيں ہے۔ کیوں کہ آپ پر بولی جانے والی جھوٹ کے نتیجے میں دین اور دنیا میں بہت سارے مفاسد ظاہر ہوجاتے ہیں۔
  3. پوری چھان بین اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب نسبت کے صحیح ہونے کا اطمینان حاصل کیے بغیر حدیثوں کو عام کرنے کی ممانعت۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 33) (110)، صحيح مسلم (1/ 10) (3)، إكمال المعلم (1/111)، شرح النووي على مسلم (1/65)، المفهم (1/32)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري (2/ 151)، شرح مقدمة سنن ابن ماجه (5/ 8).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

تم اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے حکمرانوں کا حکم سننا اور ماننا۔ خواہ حکمراں ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ تم میرے بعد بہت زیادہ اختلاف دیکھو گے۔ لہذا تم میری سنت اور میرے نیک اور ہدایت یاب خلفاء کی سنت پر چلتے رہنا

عن العِرْباضِ بن ساريةَ رضي الله عنه قال: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم، فوَعَظَنا مَوعظةً بليغةً وَجِلتْ منها القلوبُ، وذَرَفتْ منها العيونُ، فقيل: يا رسول الله، وعظتَنَا موعظةَ مُودِّعٍ فاعهد إلينا بعهد. فقال: «عليكم بتقوى الله، والسمع والطاعة، وإن عبدًا حبشيًّا، وسترون من بعدي اختلافًا شديدًا، فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين، عَضُّوا عليها بالنواجِذ، وإياكم والأمور المحدثات، فإن كل بدعة ضلالة».
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے بیچ کھڑے ہوئے اور ایسا متاثر کرنے والا وعظ فرمایا کہ ہمارے دل دہل گئے اور آنکھیں بہہ پڑیں۔ لہذا کسی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا وعظ فرمایا ہے، جو الوداعی وعظ معلوم ہوتا ہے۔ لہذا آپ ہمیں کچھ وصیت فرمائ‏یں۔ چنانچہ فرمایا : "تم اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے حکمرانوں کا حکم سننا اور ماننا۔ خواہ حکمراں ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ تم میرے بعد بہت زیادہ اختلاف دیکھو گے۔ لہذا تم میری سنت اور میرے نیک اور ہدایت یاب خلفاء کی سنت پر چلتے رہنا۔ اسے اپنے داڑھوں سے پکڑے رہنا۔ اور دیکھو، دین کے نام پر سامنے آنے والی نت نئی چیزوں سے دور رہنا۔ کیوں کہ ہر بدعت (دین کے نام پر سامنے آنے والی نئی چیز) گمراہی ہے۔"
رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمددرجہصحيح
تشریح

ایک دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے وعظ فرمایا۔ وعظ اتنا متاثر کرنے والا تھا کہ اس سے لوگوں کے دل دہل گئے اور آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔ یہ منظر دیکھ کر صحابہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک الوداع کہنے والے کی جانب سے پیش کیا جانے والا خطاب ہے۔ کیوں کہ انھوں نے دیکھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خطاب کرتے وقت اپنا کلیجہ نکال کر رکھ دیا۔ لہذا انھوں نے آپ سے کچھ وصیت کرنے کو کہا، تاکہ آپ کے بعد اسے مضبوطی سے پکڑے رہیں۔ چنانچہ آپ نے کہا: میں تم کو اللہ عز وجل کا خوف رکھنے کی وصیت کرتا ہوں۔ یہاں یہ یاد رہے کہ اللہ سے ڈرنے کا مطلب ہے واجبات کو ادا کرنا اور محرمات سے اجتناب کرنا۔ اسی طرح میں تم کو حکمرانوں کا حکم سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں۔ خواہ تمھارا حکمراں کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ یعنی ایک معمولی سے معمولی انسان بھی اگر تمھارا حکمراں بن جائے، تو تم اس سے بدک کر دور مت ہٹو۔ تم اس کی بات مانو، تاکہ فتنے سر نہ اٹھا سکیں۔ کیوں کہ تم میں سے جو لوگ زندہ رہيں گے، وہ بہت سارا اختلاف دیکھیں گے۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ سلم نے اپنے صحابہ کو اس اختلاف سے نکلنے کا راستہ بتایا۔ راستہ یہ ہے کہ آپ کی سنت اور آپ کے بعد مسند خلافت سنبھالنے والے نیک ہدایت یاب خلفا؛ ابو بکر صدیق، عمر بن خطاب، عثمان بن عفان اور علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہم کی سنت کو مضبوطی سے تھام کر رکھا جائے۔ آپ نے اسے داڑھوں سے پکڑنے کا حکم دیا۔ یعنی ہر حال میں سنت کو لازم پکڑا جائے اور اس پر قائم رہا جائے۔ اس کے بعد آپ نے ان کو دین کے نام پر سامنے آنے والی نت نئی چیزوں یعنی بدعات و محدثات سے خبردار کیا۔ کیوں کہ دین کے نام پر سامنے آنے والی ہر نئی چیز گمراہی ہے۔

فوائد
  1. سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنے اور اس کا اتباع کرنے کی اہمیت۔
  2. پند و موعظت اور دلوں کو نرم کرنے پر توجہ۔
  3. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد مسند خلافت پر فائز ہونے والے چاروں صالح اور ہدایت یاب خلفا یعنی ابو بکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم کے اتباع کا حکم۔
  4. دین کے نام پر نئی چیزیں ایجاد کرنے کی ممانعت اور اس بات کا اعلان کہ دین کے نام پر سامنے آنے والی ہر نئی چیز بدعت ہے۔
  5. مسلمانوں کی زمام حکومت سنبھالنے والے لوگوں کی بات سننا اور ماننا ضروری ہے، جب تک کہ وہ کسی گناہ کے کام کا حکم نہ دیں۔
  6. ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کا خوف رکھنے کی اہمیت۔
  7. اس امت میں اختلافات سامنے آتے رہيں گے اور اس طرح کے حالات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور خلفائے راشدین کی سنت کی جانب لوٹنا لازم ہوگا۔
حوالہ

الأربعون النووية (ص: 89) (ح28)، سنن أبي داود (7/ 16) (4607)، سنن الترمذي (4/ 408) (2676)، سنن ابن ماجه (1/ 28) (42)، مسند أحمد (28/ 367) (17142)، تحفة الأحوذي (7/ 366)، عون المعبود وحاشية ابن القيم (12/ 235)، شرح الأربعين النووية للعثيمين (ص: 278).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میری امت کے آخر میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو ایسی باتیں بتائیں گے، جو نہ تم نے سنی ہوگی اور نہ تمھارے باپ دادوں نے سنی ہوگی۔ لہذا تم ان سے خبردار رہنا۔

عَنْ ‌أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «سَيَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي أُنَاسٌ يُحَدِّثُونَكُمْ مَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "میری امت کے آخر میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو ایسی باتیں بتائیں گے، جو نہ تم نے سنی ہوگی اور نہ تمھارے باپ دادوں نے سنی ہوگی۔ لہذا تم ان سے خبردار رہنا۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ آپ کی امت کے آخر میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے حوالے سے گھڑ کر جھوٹی باتیں بتائیں گے اور ایسی باتیں کہیں گے، جو ان سے پہلے کسی نے نہيں کہی ہوگی۔ وہ سرعام جھوٹی باتیں کہتے پھریں گے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا ہے کہ ہم اس طرح کے لوگوں سے دور رہيں، ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے گریز کریں اور ان کی بات نہ سنیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی بتائی ہوئی جھوٹی حدیثیں دلوں میں بیٹھ جائیں اور ان سے دامن چھڑانا مشکل ہوجائے۔

فوائد
  1. اس حدیث میں نبوت کی ایک بہت بڑی نشانی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہم دیکھتے ہيں کہ اس میں آپ نے مستقبل میں سامنے آنے والی ایک بات کی اطلاع دی اور وہ ہو بہو اسی طرح سامنے بھی آئی۔
  2. ایسے لوگوں سے دور رہنا اور ان کی جھوٹی باتیں سننے سے گریز کرنا چاہیے، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب منسوب کرکے اور اسلام کے بارے میں جھوٹی باتیں پھیلاتے ہوں۔
  3. اس حدیث میں صحیح اور ثابت ہونے کی تصدیق کیے بغیر حدیثوں کو قبول کرنے یا عام کرنے سے خبردار کیا گیا ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 12) (6)، قرة عين المحتاج في شرح مقدمة صحيح مسلم بن الحجاج (2/ 8).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

لکھا کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس سے سوائے حق کے کچھ اور نہیں نکلتا"۔

عن عبدِ الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: كنتُ أكتبُ كلَّ شيءٍ أسمعُه من رسولِ الله صلَّى الله عليه وسلم أُريدُ حفْظَه، فنهتْني قريشٌ، وقالوا: أتكْتبُ كلَّ شيءٍ تَسمَعُه من رسول الله صلَّى الله عليه وسلم، ورسولُ الله صلَّى الله عليه وسلم بَشَرٌ يتكلَّمُ في الغضَبِ والرِّضا؟ فأمسَكتُ عن الكتاب، فذكرتُ ذلك لرسول الله صلَّى الله عليه وسلم، فأومأ بإصبَعِه إلى فيه، فقال: «اكتُبْ، فوالذي نفسي بيدِه، ما يَخرُجُ منه إلا حقٌّ».
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے میں جو کچھ سنتا سب لکھ لیا کرتا تھا، تاکہ ان کو محفوظ رکھا جا سکے۔ لہذا قریش کے کچھ لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا اور کہا کہ کیا تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے سنی ہوئی ہر بات لکھ لیا کرتے ہو، جب کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم انسان ہیں، غصہ اور خوشی دونوں حالتوں میں گفتگو کرتے ہیں؟ لہذا میں نے لکھنا موقوف کردیا اور یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : "لکھا کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس سے سوائے حق کے کچھ اور نہیں نکلتا"۔
رواه أبو داوددرجہصحيح
تشریح

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہيں کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے سنی ہوئی ہر بات کو لکھ لیا کرتا تھا، تاکہ اسے تحریری شکل میں محفوظ رکھا جا سکے۔ لیکن قریش کے کچھ لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا اور کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ایک انسان ہیں اور غصہ اور خوشی دونوں حالتوں میں گفتگو کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ غلطی بھی کر بیٹھیں۔ (اس لیے آپ کی ہر بات کو لکھا مت کرو۔) چنانچہ میں نے لکھنا بند کر دیا۔ پھر میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے ان کی اس بات کا ذکر کیا، تو آپ نے اپنے دہن مبارک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تم لکھا کرو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس سے ہر حال میں حق ہی نکلتا ہے۔ خوشی کی حالت میں بھی اور غصے کی حالت میں بھی۔ اللہ تعالی نے بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں فرمایا: {وَمَا یَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰۤ۔ إِنۡ هُوَ إِلَّا وَحۡیࣱ یُوحَىٰ} (اور نہ وه اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں. وه تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے.) [سورہ نجم : 3-4]

فوائد
  1. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کا پیغام پہنچانے کے معاملے میں معصوم تھے۔ خوشی کی حالت میں بھی اور غصے کی حالت میں بھی۔
  2. صحابۂ کرام سنت کی حفاظت اور اس کی تبلیغ کے حریص تھے۔
  3. کسی مصلحت کے پیش نظر، جیسے کسی بات کی تاکید کے لیے قسم کے مطالبے کے بغیر بھی قسم کھانا جائز ہے۔
  4. علم کو لکھ لینا اسے محفوظ رکھنے کا ایک اہم ترین سبب ہے۔
حوالہ

سنن أبي داود (5/ 489) (3646)، شرح سنن أبي داود للعباد (412/ 21).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
9 میں سے 8
9 احادیث
  1. سب سے بڑا بہتان یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے، یا اپنی آنکھ کو وہ کچھ دکھائے جو اس نے نہیں دیکھا، یا رسول اللہ ﷺ کی طرف ایسی بات منسوب کرے جو آپ نے نہ فرمائی ہو۔
  2. ”میری طرف سے لوگوں کو پہنچا دو، اگرچہ ایک آیت ہی ہو۔ بنی اسرائیل سے روایت کرو، ان سے بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے“۔
  3. جس نے میری طرف منسوب کر کے کوئی حدیث بیان کی، حالاں کہ اسے لگ رہا ہو کہ وہ جھوٹ ہے، تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ہو گا۔
  4. خبردار رہو! قریب ہے کہ کوئی آدمی اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس کے پاس میری حدیث پہنچے تو کہے: ہمارے اور تمہارے درمیان (فیصلے کی چیز) بس اللہ کی کتاب ہے
  5. جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔
  6. تم اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے حکمرانوں کا حکم سننا اور ماننا۔ خواہ حکمراں ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ تم میرے بعد بہت زیادہ اختلاف دیکھو گے۔ لہذا تم میری سنت اور میرے نیک اور ہدایت یاب خلفاء کی سنت پر چلتے رہنا
  7. میری امت کے آخر میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو ایسی باتیں بتائیں گے، جو نہ تم نے سنی ہوگی اور نہ تمھارے باپ دادوں نے سنی ہوگی۔ لہذا تم ان سے خبردار رہنا۔
  8. لکھا کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس سے سوائے حق کے کچھ اور نہیں نکلتا"۔
  9. ”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور (امیر کی بات) سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام امیر بن جائے۔ (یاد رکھو!)تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ یقینا بہت اختلاف دیکھے گا۔ چنانچہ تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com