سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جس نے تیر اندازی کا فن سیکھا، پھر اس نے اسے چھوڑ دیا، وہ ہم میں سے نہیں، یا (فرمایا:) اس نے یقیناً نافرمانی کی.

عن عقبة بن عامر رضي الله عنه مرفوعاً: «من عَلِمَ الرمي، ثم تركه، فليس منا، أو فقد عصى».
عقبہ ابن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے تیر اندازی کا فن سیکھا، پھر اس نے اسے چھوڑ دیا، وہ ہم میں سے نہیں،یا (فرمایا:) اس نے یقیناً نافرمانی کی“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث کا مفہوم: جس نے تیراندازی یا پھر جدید آلات جنگ جیسے بندوق وغیرہ کے ذریعے سے نشانہ بازی سیکھی اور پھر اس نے اسے چھوڑ دیا اور اس سلسلے میں لاپرواہی برتی تو اس نے اپنے آپ کو گناہ میں ملوث کردیا اور نبیﷺ کی سنت سے دور ہوگیا۔ ”وہ ہم میں سے نہیں ہے“ یعنی وہ ہمارے طرزِعمل اور ہمارے طریقے پر قائم نہیں ہے۔ ”یا اس نے نافرمانی کی“ راوی کو اس میں شک ہے کہ آپ ﷺ نے وہ ہم میں سے نہیں ہے کہا تھا یا پھر اس نے نافرمانی کی کہا تھا۔

حوالہ

صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين, مؤسسة الرسالة, الطبعة الرابعة عشر, 1407ه . بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي, دار ابن الجوزي. تطريز رياض الصالحين لفيصل بن عبد العزيز المبارك النجدي, تحقيق: عبد العزيز آل حمد, دار العاصمة، الطبعة: الأولى، 1423 هـ شرح رياض الصالحين لابن عثيمين، دار مدار الوطن للنشر، الرياض, الطبعة : 1426 هـ. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد بن علان الصديقي, دار الكتاب العربي. مصابيح التنوير على صحيح الجامع الصغير، تأليف الألباني، إعداد معتز أحمد.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
جہاد کے احکام اور مسائل

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com