وہ جہنم میں ہے۔ لوگ اسے دیکھنے کے لیے گئے تو انہیں اس کے ہاں ایک چادر ملی جو اس نے (مال غنیمت سے) چرائی تھی۔
عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: كان على ثَقَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ يُقالُ له كِرْكِرَةٌ، فماتَ، فقال رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : «هو في النَّارِ». فذهبوا ينظرونَ إليهِ، فَوَجَدُوا عَبَاءَةً قَدْ غَلَّهَا
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے سامان پر ایک شخص متعین تھا جسے کِرْکِرہ کہا جاتا تھا۔ وہ مر گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ:وہ جہنم میں ہے۔ لوگ اسے دیکھنے کے لیے گئے تو انہیں اس کے ہاں ایک چادر ملی جو اس نے (مال غنیمت سے) چرائی تھی۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ کے سامان کا ایک شخص ذمہ دار تھا جس کا نام کِرْکِرہ تھا۔ وہ مرگیا تو رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ وہ جہنم میں گیا ہے اور اسے اس کے گناہ پر عذاب دیا جا رہا ہے اور اگر اللہ نے اسے معاف نہ کیا تو وہ جہنم ہی میں رہے گا۔ اس پر صحابہ کرام اس کے جہنم میں جانے کا سبب جاننے کے لیے اس کے ٹھکانے کی طرف گئے تو انہیں اس کے پاس سے ایک چادر برآمد ہوئی جسے اس نے مال غنیمت میں سے چرایا تھا۔
حوالہ
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لابن علان، نشر دار الكتاب العربي.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407ه 1987م.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415ه.
صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com