عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بىان كررہے ہیں کہ نبی ﷺ نے مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے گھوڑے کے دو حصے اور آدمی کا ایک حصہ رکھا؛ یعنی وہ مجاہد جو جنگ میں اپنے گھوڑے کے ساتھ شریک ہوتا ہے وہ تین گنا زیادہ حصہ لیتا ہے اس مجاہد کے بنسبت جو بغیر گھوڑے کے شریک ہوتا ہے۔ کیوںکہ جنگ میں گھوڑا اس آدمی کی بہ نسبت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے اور زیادہ لڑتا ہے جس کے پاس گھوڑا نہ ہو۔ قرآن کریم میں بھی اس بات کی طرف اشارہ موجود ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ”فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحاً فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعاً فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعاً“ (العاديات: 3-5) ترجمہ: پھر صبح کے وقت دھاوا بولنے والوں کی قسم، پس اس وقت گرد وغبار اڑاتے ہیں، پھر اسی کے ساتھ فوجیوں کے درمیان گھس جاتے ہیں۔ اس آیت میں گھوڑے کی تعریف ہے اور جنگ میں اس کے فائدے کی طرف اشارہ ہے۔ اور نبی ﷺ نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لئے بھلائی رکھ دی گئی ہے“۔ ان الفاظ کے ساتھ اس حدیث کو امام بخاری (حدیث نمبر: 2849) اور امام مسلم (حديث نمبر: 1871) نے روایت کیا ہے۔
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار علماء السلف، الطبعة: الثانية 1414هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ. الإلمام بشرح عمدة الأحكام، إسماعيل بن محمد الأنصاري، دار الفكر، دمشق، الطبعة: الأولى 1381هـ.