تمتع کی آیت نازل ہوئی یعنی حج تمتع کی، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس کا حکم دیا اور پھر حج تمتع کی منسوخی پر کوئی آیت نازل نہیں ہوئی اور نہ ہی رسول اللہﷺ نے مرتے دم تک اس سے منع فرمایا۔
عن عمران بن حصين رضي الله عنهما قال: «أُنْزِلَت آيَةُ المُتْعَةِ في كتاب اللَّه تعالى ، فَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ، وَلَم يَنْزِلْ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهَا، وَلَم يَنْهَ عَنهَا حَتَّى مات، قال رجل بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ»، قال البخاري: «يقال إنه عمر».
وفي رواية: « نَزَلَت آيَةُ المُتْعَةِ -يَعْنِي مُتْعَةَ الحَجِّ- وَأَمَرَنا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ، ثُمَّ لَم تَنْزِل آيَةٌ تَنْسَخُ آيَةَ مُتْعَةِ الْحَجِّ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى مَاتَ». ولهما بمعناه.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :کتاب اللہ میں حج تمتع کے بارے میں آیت نازل ہوئی ۔ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمتع کیا اور قرآن میں اس کی حرمت اور ممانعت کی کوئی دلیل نازل نہ ہوئی یہاں تک کہ آپﷺ فوت ہو گیے۔ صرف ایک صاحب ہیں جو اپنی رائے علیحده رکھتے ہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :یہ صاحب عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔
اور دوسری روایت میں ہے:تمتع کی آیت نازل ہوئی یعنی حج تمتع کی، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس کا حکم دیا اور پھر کوئی ایسی آیت بھی نازل نہیں ہوئی جوحجِ تمتع کے حکم کو منسوخ کرتی۔ اور نہ ہی رسول اللہﷺ نے مرتے دم تک اس سے منع کیا تھا۔ (بخاری ومسلم میں اس معنی کی حدیث موجود ہے)
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ عمرہ کے ساتھ حج (حجِ تمتع) کرنے کےبارے میں ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اس کو کتاب اللہ اور سنت رسول میں مشروع قرار دیا گیا ہے۔ کتاب اللہ میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {فمن تمتع بالعمرة إلى الحج فما استيسر من الهدي}.’’جو شخص عمرے سے لے کر حج تک تمتع کرے پس اسے جو قربانی میسر ہو اسے کر ڈالے۔‘‘ جب کہ سنت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حج تمتع کیا،اس کو برقرار رکھا ،قرآن میں اس کی حرمت پر کوئی چیز نازل نہیں ہوئی اور نہ ہی رسول اللہﷺ نے اس سے منع فرمایا حتیٰ کہ رسول اللہﷺ دنیا سے چلےگیے اور یہ حکم باقی رہا اس کو منسوخ نہیں کیا گیا۔ تو پھر ایک آدمی اپنی رائے سے (ممانعت کی بات) کیسے کہہ سکتا اور اس سے (کیسے) روک سکتا ہے۔؟ اس سے ان کا اشارہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف تھا جنھوں نے ایامِ حج میں اپنی اجتہاد سے اس سے منع کر دیا تھا تاکہ پورے سال زائرینِ بیت اللہ کثرت سے آتے رہیں، اس لیے کہ ان ایام میں جس تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں موسم حج کے علاوہ اس طرح نہیں آتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا منع کرنا بطورِ تحریم یا کتاب و سنت پرعمل کو ترک کرتے ہوئے نہیں تھا بلکہ عمومی مصلحت کا خیال کرتے ہوئے عارضی طور پر منع کردیا تھا۔
حوالہ
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ، 2006م.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ، 1988م.
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com