سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

رسول اللہ ﷺ (مدینے سے) شجرہ کے راستے سے نکلتے اور معرس کے راستے سے داخل ہو تے تھے۔ جب مکہ میں داخل ہو تے تو ثنیہ علیا سے داخل ہو تے اور ثنیہ سفلیٰ سے باہر نکلتے تھے۔

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما "أَنَّ رسُول الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- كَانَ يَخرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ، وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّس، وَإِذَا دَخَلَ مَكَّةَ دَخَلَ مِنَ الثَنِيَّةِ العُلْيَا، وَيَخْرُجُ مِنَ الثَنِيَّةِ السُّفْلَى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (مدینے سے) شجرہ کے راستے سے نکلتے اور معرس کے راستے سے داخل ہو تے تھے۔ اور جب مکے میں داخل ہو تے، تو ثنیہ علیا سے داخل ہو تے اور ثنیہ سفلیٰ سے باہر نکلتے تھے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث عید، جمعہ اور دیگر عبادات میں راستہ بدل کر آنے جانے کے استحباب کے موضوع پر ہے۔ راستہ بدلنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان ایک راستے سے عبادت کے لیے جائے اور دوسرے راستے سے واپس آئے۔ مثال کے طور پر وہ دائیں جانب سے جائے اور بائیں جانب سے واپس آئے۔ یہ رسول اللہ ﷺ سے عیدین میں ثابت ہے۔ جیسا کہ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ عید کے دن راستہ تبدیل کرتےتھے۔ یعنی ایک راستے سے جاتے اور دوسرے سے واپس آتے۔ اس حدیث میں بھی یہی بیان ہوا ہے۔ علما نے راستہ تبدیل کرنے کی بہت ساری حکمتیں بیان کی ہیں، جن میں چند ایک مشہور یہ ہیں: 1۔ دونوں راستے قیامت کے دن اس کے لیے گواہ بنیں گے؛ کیوں کہ قیامت کے دن زمین انسان کے اچھے برے اعمال کی گواہی دے گی۔ اس لیے جب وہ ایک راستے سے جائےگا اور دوسرے سے واپس آ ئے گا، تودونوں راستے اس بات کے گواہ بن جائیں گے کہ اس نے نمازعید ادا کی تھی۔ 2۔ عید جیسے اہم ترین اسلامی شعار کے اظہار کے لیے۔ جب ہر طرف بازار بھرجائیں گے اور لوگ شہر کے راستوں میں پھیل جائيں گے، تو اس اسلامی شعار کا اظہار ہوگا۔ عید اسلامی شعار ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے اظہار اور اعلان کے لیے لوگوں کو صحرا میں نکلنے کا حکم دیا گیا ہے۔ 3۔ اس کی ایک وجہ مساکین بھی ہیں، جو بازاروں میں کبھی اس راستے پر ہوتے ہیں، تو کبھی اس راستے پر۔ ایسے راستہ بدل لیا جائے، تاکہ سب پر صدقہ کیا جا سکے۔ لیکن قریب تر بات یہ ہے کہ اصل وجہ اس شعار کا اظہار ہے؛ تاکہ نماز عید کے لیے نکلنے سے شہر کی تمام سڑکوں سے نماز عید کے شعار کا اظہار ہو۔ جہاں تک حج کی بات ہے، تو جیساکہ اس حدیث میں مذکور ہے، رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں داخل ہوتے وقت راستہ تبدیل کیا؛ مکہ کی اوپری جانب سے داخل ہوئے اور نچلی جانب سے نکلے۔ اسی طرح عرفہ جاتے وقت آپ ایک راستے سے گئے اور دوسرے راستے سے واپس ہوئے۔ علما کا اس مسئلے میں بھی اختلاف ہے کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ بطور عبادت کیا تھا یا اپنے داخل ہونے اور نکلنے کی سہولت کے مدنظر؟ کیوں کہ ممکن ہے کہ اوپری جانب سے داخل ہونا آسان ہو اور نچلی جانب سے نکلنا۔ پہلے موقف کے قائلین کا کہنا ہے کہ یہ سنت ہے کہ مکہ کی اوپری جانب سے داخل ہوا جائے اور نچلی جانب سے نکلا جائے اور یہ بھی سنت ہے کہ عرفہ میں ایک راستہ سے آیا جائے اور دوسرے سے واپس جایا جائے۔ جب کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ معاملہ راستے کی فراہمی اور آسان ہونے کا ہے۔ جو راستہ سہل لگے، اسے اختیار کیا جائے، بالائی والا ہو یا زیریں والا۔ بہرحال اگر حاجی بالائی حصے سے داخل ہونے اور زیریں حصے سے نکلنے کا اہتمام کر سکے، تو یہ بہتر ہے؛ کیوں کہ اگر یہ عبادت ہے، تو ادا ہو گئی اور اگر عبادت نہیں ہے تو کوئی نقصان بھی نہیں ہوا۔ اور اگر ایسا ممکن نہ ہو سکا، تو اسے اس کا مکلف نہیں کیا جائے گا۔ جیسا کہ موجودہ صورت حال ہے۔ آج راستے یک رخی بنا دیے گئے ہیں اور اولیاء الامور کی مخالفت بھی ممکن نہیں ہے۔ اور الحمد للہ مسئلے میں بڑی گنجائش بھی ہے۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الدمام، الطبعة: الأولى 1415هـ. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، الطبعة: الرابعة 1428هـ. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، كنوز إشبيليا، الرياض، الطبعة: الأولى1430هـ، 2009م. شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
حج اور عمرہ کے احکام اور مسائل

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com