سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

نبیﷺ حجۃُ الوداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا اور آپ ﷺ رکن کو چھڑی کے ذریعے بوسہ دے رہے تھے۔

عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: «طَافَ النبيُّ -صلَّى الله عليه وسلَّم- فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ على بَعِير، يَستَلِم الرُّكنَ بِمِحجَن».
عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”نبیﷺ حجۃُ الوداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا اور آپ ﷺ رکن کا ایک چھڑی کے ذریعے بوسہ دے رہے تھے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے حجۃُ الوداع کے موقع پر طواف فرمایا۔ آپ ﷺ کے پاس بہت زیادہ لوگ جمع تھے۔ ان میں سے کچھ تو یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ آپﷺ کیسے طواف کر رہے ہیں اور کچھ آپ ﷺ کی کریم ذات کو دیکھنا چاہتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے آپ ﷺ کے پاس بھیڑ لگا دیا۔ اپنی امت پر کمالِ شفقت اور ان کے ساتھ مساویانہ سلوک رکھنے کے لیے آپ ﷺ ایک اونٹ پر سوار ہو گیے اور اس پر طواف کرنے لگے تاکہ لوگ یکساں طور پر آپ ﷺ کو دیکھ سکیں۔ آپ ﷺ کے پاس ایک عصا تھا جس کا سرا مڑا ہوا تھا اور آپ ﷺ اس کے ساتھ رکن کو چھو رہے تھے اور عصا ہی کا بوسہ لے رہے تھے جیسا کہ اس حدیث کی مسلم شریف والی روایت میں ہے۔

حوالہ

تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ. تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
حج اور عمرہ کے احکام اور مسائل

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com