نبی ﷺ نے اونٹ کی پیٹھ پر بغیر کجاوے کے حج کیا۔ کجاوے سے مراد وہ شے ہے جو اونٹ پر رکھی جاتی ہے۔ چوں کہ آپ ﷺ کے پاس کوئی اور اونٹ نہیں تھا، جس پر آپ ﷺ اپنی خوراک اور سامان وغیرہ رکھتے، اس لیے آپ ﷺ جس اونٹ پر سوار تھے، اسی پر اپنے ساتھ سامان رکھ لیا تھا۔ آپ ﷺ کا یہ عمل بذات خود آپ کے زہد اور دنیاوی ساز و سامان بے توجہی پو دلالت کرتا ہے۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ دوران حج آرادم دہ اور عمدہ سواریوں پر سوار ہونا حرام ہے، اگرچہ دوران حج رسول اللہ ﷺ کی پیروی میں کم سے کم آسائشوں اور نعمتوں کو اختیار کرنا ہی افضل ہے۔
- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى 1418ه. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. - صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا، الطبعة الأولى 1430هـ.