عائشہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی ہدی کے بارے میں بتا رہی ہیں۔ ہدی سے مراد وہ جانور ہے، جو مکہ کی طرف اللہ کی خوش نودی کے حصول کے لیے بھیجا جاتا ہے؛ تاکہ اسے حرم میں ذبح کیا جائے۔ مکہ مکرمہ کی طرف ہدی کا جانور بھیجنا سنت اور نیکی کا کام ہے۔ نبی ﷺ نے بطور ہدی بھیڑ بکریاں بھی بھیجیں اور اونٹ بھی۔ سنت یہ ہے کہ اللہ کی خوش نودی کی غرض سے ان جانوروں کو حرم میں ذبح کیا جائے اور فقرا اور مساکین حرم میں تقسیم کر دیا جائے۔ وہ ہدی جو حج تمتع یا حج قران یا پھر واجبات میں سے کسی واجب کو ترک کرنے یا پھر کسی حرام کا ارتکاب کرنے لینے کی وجہ سے لازم ہوتی ہے، اسے فدیہ کہا جاتا ہے۔ یہ ہدی واجب ہوتی ہے۔ جب کہ وہ ہدی جس کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا ہے، اسے مؤمن اپنے علاقے سے بطور نفل پیش کرتا ہے یا پھر راستے میں اسے خریدتا ہے اور حرم کعبہ تک پہنچا دیتا ہے اور اس سے اس کی نیت اللہ عز و وجل کی خوش نودی ہوتی ہے۔
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426 هـ تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426ه عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ. الإفهام في شرح عمدة الأحكام (شرح على متن عمدة الأحكام لشيخ الإسلام الإمام عبد الغني المقدسي - رحمه الله - (541 - 600هـ))، المؤلف: عبد العزيز بن عبد الله بن باز، حققه واعتنى به وخرج أحاديثه: د. سعيد بن علي بن وهف القحطاني، الناشر: توزيع مؤسسة الجريسي. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423 هـ.