اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! اور بال کٹوانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! اور بال کٹوانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا اور بال کٹوانے والوں پر۔
بال مونڈنا اور انہیں چھوٹا کرنا حج اور عمرہ کے مناسک میں سے ہے۔ بال چھوٹے کرنے کی بنسبت مونڈنا زیادہ افضل ہے کیوں کہ اس میں اللہ کے سامنے بندگی اور فروتنی کا زیادہ اظہار ہوتا ہے کہ بندہ اللہ کی اطاعت میں سر کے بالوں کو جڑ ہی سے کاٹ دیتا ہے۔ اسی لئے نبی ﷺ نے بال مونڈنے والوں کے لیے تین دفعہ دعائے رحمت کی حالانکہ وہاں موجود لوگ آپ ﷺ کو بالوں کو چھوٹا کرنے والوں کی بھی یاد دہانی کرا رہے تھے لیکن آپ ﷺ ان کی بات سنی ان سنی کر دیتے۔ تیسری یا چوتھی دفعہ آپ ﷺ نے ان کے ساتھ ساتھ بالوں کو چھوٹا کرانے والوں کو شامل فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے مردوں کے حق میں بال مونڈنا زیادہ افضل ہے۔ یہ اس وقت ہے جب وہ بندہ عمرہ تمتع نہ کر رہا ہو اور وقت اتنا کم ہو کہ بال دوبارہ حج کی مناسبت سے مونڈنے کے لیے نہ اگیں، اس صورت حال میں اس کے لیے بالوں کو کٹوا کر چھوٹا کرانا زیادہ بہتر ہے کیوں کہ وہ اس کے بعد (حج میں) بالوں کو منڈا سکے گا۔
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ، 2006م. تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م. الإفهام في شرح عمدة الأحكام لابن باز، تحقيق: سعيد القحطاني، مؤسسة عبد العزيز بن باز الخيرية، الرياض، الطبعة: الأولى 1435هـ. خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، فيصل بن عبد العزيز المبارك، الطبعة: الثانية 1412هـ، 1992م. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار المنهاج، القاهرة، الطبعة: الأولى 1427هـ.