سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

حج کے اقسام

2 احادیث

رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ چوتھے (ذی الحجہ) کی صبح کو تشریف لائے تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسے (حج کو) عمرہ بنالیں۔ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! (عمرہ کر کے ) ہمارے لیے کیا چیز حلال ہو جائے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمام چیزیں حلال ہو جائیں گی۔

عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: «قَدِمَ رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ، فأمرهم أن يجعلوها عمرة، فقالوا: يا رسول الله، أَيُّ الحِلِّ؟ قال: الحِلُّ كُلُّهُ».
عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ چوتھے (ذی الحجہ) کی صبح کو تشریف لائے تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسے (حج کو) عمرہ بنالیں۔انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! (عمرہ کر کے ) ہمارے لیے کیا چیز حلال ہو جائے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمام چیزیں حلال ہو جائیں گی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ابن عباس رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ میں ذی الحجہ کے چوتھے دن صبح کو تشریف لائے۔ ان میں سے بعض نے صرف حج کی نیت سے احرام باندھ رکھا تھا اور بعض نے حج و عمرہ دونوں کی نیت سے احرام باندھا تھا۔ آپ ﷺ ان دونوں گروہوں میں سے جو افراد اپنی ہدی کا جانور ساتھ نہیں لائے تھے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے حج کے احرام کو کھول دیں اور احرام کو عمرہ کے لیے باندھ لیں۔ یہ کرنا ان پر گراں گزرا اور انہیں یہ بہت بڑی بات لگی کہ مکمل طور پر حلال ہو جائیں جس سے جماع بھی جائز ہو جاتا ہے اور پھر حج کے لیے احرام باندھیں۔ اسی لیے انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم کون سا تحلل کریں؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ پورا تحلل۔ احرام باندھنے سے پہلے پہلے تم پر جو کچھ حرام ہوا تھا وہ سب تمہارے لیے جائز ہے۔ چنانچہ وہ آپ ﷺ کا حکم بجا لائے۔

حوالہ

عمدة الأحكام، تأليف: عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي، تحقيق: محمود الأرناؤوط، دار الثقافة العربية ومؤسسة قرطبة، الطبعة الثانية، 1408هـ. تيسير العلام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق محمد صبحي بن حسن حلاق، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة العاشرة، 1426هـ. تأسيس الأحكام شرح عمدة الأحكام، تأليف: أحمد بن يحي النجمي، نسخة إلكترونية لا يوجد بها بيانات نشر. تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة الأولى: 1426هـ. صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اگر يہ بات جس كا علم مجھے بعد ميں ہوا، پہلے سے معلوم ہوتی تو میں اپنے ساتھ ہدی نہ لاتا، اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی (عمرہ کے بعد) حلال ہو جاتا۔

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: «أَهَلَّ النبيُّ صلى الله عليه وسلم وأصحابُه بالحج، وليس مع أحد منهم هَدْيٌ غير النبي صلى الله عليه وسلم وطلحة، وقدم علي رضي الله عنه من اليمن. فقال: أَهْلَلْتُ بما أَهَلَّ به النبي صلى الله عليه وسلم فأمر النبي صلى الله عليه وسلم أصحابه: أن يجعلوها عمرة، فيطوفوا ثم يُقَصِّرُوا ويَحِلُّوا، إلا من كان معه الهَدْي، فقالوا: ننطلق إلى مِنًى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ؟ فبلغ ذلك النبي - صلى الله عليه وسلم- فقال: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ من أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ ؛ ما أَهْدَيْتُ ، ولولا أن معي الهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ. وحاضت عائشة. فَنَسَكَتْ المنَاسِك كلها، غير أنها لم تَطُفْ بالبيت. فلما طَهُرت وطافت بالبيت قالت: يا رسول الله، تَنْطَلِقُونَ بحج وعمرة، وأنطلق بحج؟ فأمر عبد الرحمن بن أبي بكر: أن يخرج معها إلى التَّنْعِيمِ ، فاعتمرت بعد الحج».
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کريم ﷺ اور آپ کے صحابہ نے حج کا احرام باندھا۔ نبی ﷺ اور طلحہ رضی اللہ عنہ کے سوا کسی کے ساتھ بھی قربانی کا جانور نہیں تھا۔ علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تو انہوں نے کہا کہ جس چیز کا احرام رسول اللہ ﷺ نے باندھا ہے میرا بھی احرام وہی ہے۔ نبی ﷺ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ اپنے حج کو عمرہ میں تبدیل کردیں اور بیت اللہ کا طواف کر کے بال کٹوا لیں اور حلال ہوجائيں سوائے ان کے جن کے پاس ہدی کا جانور ہو۔ اس پر لوگ کہنے لگے کہ کیا ہم مِنی کی طرف اس طرح جائیں گے کہ ہمارے آلۂ تناسل سے (مَنی) ٹپک رہی ہوگی؟! یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر يہ بات جس كا علم مجھے بعد ميں ہوا، پہلے سے معلوم ہوتی تو میں اپنے ساتھ ہدی نہ لاتا، اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی (عمرہ کے بعد) حلال ہو جاتا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئی تھیں۔ اس لیے انہوں نے تمام اعمالِ حج ادا کئے لیکن بیت اللہ کا طواف نہیں کیا۔ پھر جب وہ پاک ہو گئیں اور بيت اللہ کا طواف کر لیا تو عرض کيا: اے اللہ کے رسول ! آپ لوگ حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس ہو رہے ہیں اور میں صرف حج ہی کرکے واپس ہوجاؤں؟، تو آپ ﷺ نے عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو حکم ديا کہ انہیں ساتھ لے کر تنعیم جائیں۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کرنے کے بعد عمرہ کیا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کے حج کے بارے ميں بتلا رہے ہیں کہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ نے حج كا احرام باندھا، تاہم نبی ﷺ اور طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے سوا ان میں سے کسی کے پاس بھی ہدی کا جانور نہیں تھا۔ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس وقت یمن میں تھے۔ چنانچہ وہ آئے، اور ان کی فقاہت دیکھیے کہ انہوں نے احرام باندھا اور اپنے احرام کو نبی ﷺ کے احرام کے ساتھ معلق کردیا۔ جب وہ لوگ مکہ آئے تو نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے حج کا احرام ختم کر کے اسے عمرہ کے لئے کر دیں اور عمرہ کے لیے طواف اور سعی کریں اور پھر بال کتروا کر مکمل طور پر حلال ہوجائيں۔ یہ حکم اس شخص کے بارے میں تھا جو اپنے ساتھ ہدی نہیں لایا تھا۔ البتہ جو لوگ ہدی لے کر آئے تھے بشمول نبی ﷺ کے وہ طواف او ر سعی کرنے کے بعد اپنے احرام ہی ميں رہے۔ جن لوگوں کو حج کو عمرہ ميں تبديل کرنے کے ليے کہا گیا تھا وہ حيرت واستعجاب سے کہنے لگے: ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم حلال ہوکر اپنی بیویوں سے صحبت کریں اور پھر حج کا احرام باندھ کر منی کی طرف روانہ ہوں حالانکہ ہم نے ابھی ابھی اپنی بیویوں سے ہم بستری کی ہو؟ نبی ﷺ تک جب ان کی یہ بات پہنچی اور آپ ﷺ کو علم ہوا کہ ان پر یہ بات بڑی گراں گزر رہی ہے تو آپ ﷺ نے انہیں حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے دلاسہ دیا کہ: اگر مجھے یہ بات پہلے معلوم ہوتی جو بعد میں معلوم ہوئی ہے تو میں اپنے ساتھ یہ ہدی کا جانور نہ لاتا جس نے مجھے حلال ہونے سے روک دیا اور میں بھی تمہارے ساتھ حلال ہو جاتا۔ اس پر ان کے دل راضی اور مطمئن ہو گئے۔ جب وہ مکہ میں داخل ہونے والے تھے تو عائشہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہوگئيں۔ چنانچہ وہ حج قران کرنے والی ہو گئیں کیونکہ حیض آنے کی وجہ سے وہ بیت اللہ کا طواف نہ کر سکیں۔ تاہم طواف اور سعی کے علاوہ انہوں نے تمام مناسک ادا کئے۔ جب وہ حیض سے پاک ہو گئیں اور اپنے حج کے لیے بیت اللہ کا طواف کیا تو ان کے دل میں گرہ پڑ گئی کہ اکثر صحابہ بشمول نبی ﷺ کی ازواج نےتو الگ سے عمرہ بھی کیا اور حج بھی، جب کہ ان کا عمرہ، حج کے اندر شامل ہو گیا۔ اس پر وہ رسول اللہ ﷺ سے کہنے لگیں: آپ لوگ حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس ہو رہے ہیں اور میں صرف حج کرکے واپس ہوجاؤں؟ آپ ﷺ نے ان کی دل جوئی کے لیے ان کے بھائی عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کو حکم ديا کہ وہ انہیں مقام تنعیم لے کر جائیں (تا کہ وہ وہاں سے احرام باندھ لیں)۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کے بعد عمرہ کی ادائیگی کی۔

حوالہ

عمدة الأحكام، تأليف: عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي، تحقيق: محمود الأرناؤوط، دار الثقافة العربية ومؤسسة قرطبة، الطبعة الثانية، 1408هـ. تيسير العلام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق محمد صبحي بن حسن حلاق، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة العاشرة، 1426 هـ. تأسيس الأحكام شرح عمدة الأحكام، تأليف: أحمد بن يحي النجمي: نسخة إلكترونية لا يوجد بها بيانات نشر. تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة الأولى: 1426هـ. الإفهام في شرح عمدة الأحكام، للشيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز، تحقيق: سعيد بن علي بن وهف القحطاني، الطبعة الأولى، 1435 هـ خلاصة الكلام على عمدة الأحكام، تأليف: فيصل بن عبد العزيز آل مبارك، الطبعة الثانية، 1412 هـ صحيح البخاري ، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ صحيح مسلم ، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت..

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com