سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

احرام کے احکام

2 احادیث

ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آئے تو ہم حج کے لیے تلبیہ کہہ رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا تو ہم نے اسے عمرہ بنا لیا۔

عن جابرٍ رضي الله عنه قال: قدِمنا مع رسولِ الله صلى الله عليه وسلم ، ونحنُ نقولُ: لبيك بالحجِّ، فأمرَنا رسولُ الله صلى الله عليه وسلم فجعلناها عُمرةً.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آئے تو ہم حج کے لیے تلبیہ پُکار رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا تو ہم نے اسے عمرہ بنا لیا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

جابر رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃُ الوداع کے موقع پر آئے اور ان میں سے بہت سے لوگ ”لَبَّيْكَ حجًّا“ کہہ رہے تھے یعنی وہ حجِ افراد کے لیے تلبیہ کہہ رہے تھے۔ تاہم ان میں سے جو اپنی ہدی کے جانور کو ساتھ نہیں لائے تھے انہیں آپ ﷺ نے حکم دیا کہ وہ اپنے حج کو فسخ کر کے اسے عمرہ بنا دیں تاکہ حج کا وقت آنے تک وہ عمرہ کر سکیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل میں ایسے ہی کیا۔

حوالہ

عمدة الأحكام، تأليف: عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي، تحقيق: محمود الأرناؤوط، دار الثقافة العربية ومؤسسة قرطبة، الطبعة الثانية، 1408هـ. تيسير العلام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق محمد صبحي بن حسن حلاق، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة العاشرة، 1426 هـ. تأسيس الأحكام شرح عمدة الأحكام، تأليف: أحمد بن يحي النجمي: نسخة إلكترونية لا يوجد بها بيانات نشر. تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة الأولى: 1426هـ. الإفهام في شرح عمدة الأحكام، للشيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز، تحقيق: سعيد بن علي بن وهف القحطاني، الطبعة الأولى، 1435 هـ خلاصة الكلام على عمدة الأحكام، تأليف: فيصل بن عبد العزيز آل مبارك، الطبعة الثانية، 1412 هـ الإلمام بشرح عمدة الأحكام، تأليف: إسماعيل الأنصاري، مطابع دار الفكر، الطبعة الأولى: 1381 هـ صحيح البخاري ، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ صحيح مسلم ، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

رسول اللہ ﷺ کے تلبیہ کے الفاظ یہ ہوا کرتے تھے: ’’اے اللہ ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بلاشبہ ہر تعریف اور نعمت تیری ہے اور تیری ہی بادشاہت ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔‘‘

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَبَّيْكَ اللهُمَّ، لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَزِيدُ فِيهَا: لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: رسول اللہ ﷺ کے تلبیہ کے الفاظ یہ ہوا کرتے تھے: ’’اے اللہ ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بلاشبہ ہر تعریف اور نعمت تیری ہے اور تیری ہی بادشاہت ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس میں ان الفاظ کا اضافہ کرلیا کرتے تھے:’’میں حاضر ہوں، میں تیری خدمت میں موجود ہوں، میری سعادت ہے تیرے پاس آنے میں، بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، میں حاضر ہوں اور رغبت تیری ہی طرف ہے اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے۔‘‘
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب حج یا عمرہ میں داخل ہونا چاہتے، تو یہ تلبیہ کہتے: (لبيك اللهم لبيك) اے اللہ! میں اخلاص، توحید اور حج وغیرہ کی طرف تیرى ہر دعوت کو قبول کرنے کے بعد پھر لازمی طور پر اس کو قبول کرتا ہوں۔ (لبيك لا شريك لك لبيك) کیوں کہ تنہا تو ہی عبادت کا حق دار ہے۔ تیری ربوبیت، الوہیت اور اسما وصفات میں تیرا کوئی شریک نہيں ہے۔ (إن الحمد) بلاشبہ حمد، شکر اور ثنا تیرے ہی لیے ہے (والنعمة) اور نعمت تیری ہی جانب سے ہے اور تو ہى اس کو عطا کرنے والا ہے (لك) ان تمام چیزوں کو ہر حال میں تیرے ہی لیے صرف کیا جائے گا۔ (والملك) بادشاہت بھی تیری ہی ہے۔ (لا شريك لك) تیرا کوئی شریک نہیں ہے، لہذا یہ ساری چيزیں تیرے ہی لیے صرف ہوں گی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنمہا اس میں ان الفاظ کا اضافہ فرماتے تھے: (لبيك لبيك وسعديك) میں حاضر ہوں تیری خدمت میں۔ میں حاضر ہوں تیری خدمت میں۔ مجھے بار بار سعادت سے بہرہ ور کر۔ (والخير بيديك) ساری کی ساری خیر تیرے ہاتھ میں ہے اور تیرے فضل سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ (لبيك والرغباء إليك) میں حاضر ہوں تیری خدمت میں۔ طلب اور سوال اسی سے کیا جائے گا، جس کے ہاتھ میں خیر ہوتی ہے۔ (والعمل) اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے۔ کیوں کہ تو ہی عبادت کا حق دار ہے۔

فوائد
  1. حج و عمرہ میں تلبیہ پکارنا مشروع ہے۔ اس کی تاکید اس لیے آئی ہے کہ یہ حج و عمرہ کی خاص پہچان ہے، جس طرح تکبیر نماز کی خاص پہچان ہے۔
  2. ابن منیر کہتے ہیں: تلبیہ کی مشروعیت اس بات کى طرف اشارہ ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں کو عزت بخشى ہے اور وہ اس طور پر کہ بندوں کا اس کے گھر تک پہونچنا دراصل اس کے بلاوے پر ہے۔
  3. بہتر یہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سکھائے ہوئے تلبیہ ہی کا اہتمام کیا جائے۔ لیکن کچھ اضافہ کر لینے میں کوئی حرج نہيں ہے، کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پر خاموشی برتی۔ ابن حجر کہتے ہیں: یہ تطبیق کی سب سے بہتر صورت ہے۔ مرفوع الفاظ کو الگ سے پڑھا جائے گا۔ اس کے بعد اگر موقوف طور پر وارد الفاظ کو پڑھنا چاہے یا اپنی جانب سے کچھ مناسب الفاظ چن لے، تو انھیں الگ سے پڑھے گا، تاکہ یہ مرفوع الفاظ کے ساتھ خلط ملط نہ ہوں۔ اس کا حال دراصل تشہد کی دعا جیسا ہے۔ کیوں اس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: پھر اس کے بعد سوال ومانگنے اور حمد و ثنا کے جو الفاظ چاہے، چن لے۔ یعنی مرفوع الفاظ سے فارغ ہونے کے بعد۔
  4. بلند آواز سے تلبیہ پکارنا مردوں کے حق میں مستحب ہے۔ البتہ عورت پست آواز سے تلبیہ پڑھے گی، تاکہ فتنہ کا باعث نہ ہو۔
حوالہ

صحيح البخاري (2/ 138) (1549). صحيح مسلم (2/ 841) (1184). تيسير العلام، لعبد الله البسام (ص370). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (3/ 498).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com