اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر رہی ہیں کہ نبی ﷺ نے پانچ قسم کے جانوروں کو مارنے کا حکم دیا، جو سب کے سب موذی ہیں؛ چاہے وہ حرم میں ہوں یا غیر حرم میں۔ پھر آپ ﷺ نے ان پانچوں کے نام بتائے کہ یہ کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنےوالا کتا ہیں۔ یہ پانچ قسم کے جانور فسق کی صفت سے متصف ہیں جس سے مراد یہ ہے کہ اپنی طبیعت کے اعتبار سے یہ باقی تمام جانوروں سے الگ ہیں؛ کیوں کہ یہ حملہ آور ہوتے ہیں اور موذی ہیں۔ آپ ﷺ نے چند کے نام گنوائے؛ کیوں کہ ان کی اذیت ناکی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ باقی تمام جانوروں میں جو بھی اذیت ناکی میں ان سے مشابہہ ہوں گے، ان کا حکم بھی یہی ہو گا، انھیں بھی ان کے موذی پن اور نقصان دہ ہونے کی وجہ سے قتل کر دیا جائے گا۔ نہ حرم انھیں بچائے گا اور نہ احرام انھیں پناہ دے گا۔
عمدة الأحكام، تأليف: عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي، تحقيق: محمود الأرناؤوط، دار الثقافة العربية ومؤسسة قرطبة، الطبعة الثانية، 1408هـ. تيسير العلام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق محمد صبحي بن حسن حلاق، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة العاشرة، 1426هـ. تأسيس الأحكام شرح عمدة الأحكام، تأليف: أحمد بن يحي النجمي: نسخة إلكترونية لا يوجد بها بيانات نشر. تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة الأولى: 1426هـ. صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت.