سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَحَرَّوْا لَيْلَةَ القَدْرِ فِي الوِتْرِ مِنَ العَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے زیادہ سے زیادہ نیکی کے کاموں کے ذریعہ لیلۃ القدر تلاش کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اس بات کى زیادہ امید ہوتی ہے کہ لیلۃ القدر ہر سال رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کسى ایک میں ہو اور یہ طاق راتیں اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسويں اور انتیسویں راتیں ہیں۔

فوائد
  1. شب قدر کی فضیلت اور اسے تلاش کرنے کی ترغیب۔
  2. اللہ کی حکمت اور رحمت کا تقاضا یہ ہوا کہ اس رات کو پوشیدہ رکھا جائے، تاکہ اس کی طلب میں لوگ خوب عبادت کیا کریں اور انھیں بڑا اجر وثواب مل سکے۔
  3. شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کوئی ایک رات ہوا کرتی ہے۔ اس بات کی امید زیادہ ہے کہ آخری عشرے کی کوئی طاق رات ہو۔
  4. شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں سے ایک رات ہے۔ اسی رات میں اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر قرآن اتارا اور اسے برکت، قدر ومنزلت اور اس میں کیے گئے عمل صالح کے اثرات کے اعتبار سے ایک ہزار راتوں سے بہتر قرار دیا۔
  5. اس رات کو لیلۃ القدر (دال کے سکون کے ساتھ) یا تو اس کے فضل وشرف کی بنا پر کہا گیا ہے۔ عربی میں کہا جاتا ہے: "فلان عظيم القدر" یعنی فلاں بڑی قدر ومنزلت والا انسان ہے۔ اس صورت میں لیلۃ (رات) کی اضافت کسی چیز کی اضافت اس کی صفت کی جانب کرنے کے قبیل سے ہے۔ یعنی یہ رات بڑی قدر ومنزلت اور مقام ومرتبہ والی رات ہے، "ہم نے اسے (قرآن کو) ایک مبارک رات میں اتارا"۔ [سورہ دخان : 3]۔ یا پھر قدر لفظ تقدیر سے ہے۔ اس صورت میں لیلۃ (رات) کى اضافت قدر کى طرف ظرف کی اضافت اس کے مشتملات کی جانب کرنے کے قبیل سے ہے۔ یعنی یہ ایک ایسی رات ہے، جس میں سال بھر میں رونما ہونے والے تمام امور کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے، "اس رات میں ہر مضبوط کام کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے" [سورہ دخان : 4]۔
حوالہ

صحيح البخاري (3/ 46) (2017). صحيح مسلم (2/ 828) (1169). تيسير العلام، لعبد الله البسام (ص347). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (3/ 470).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
رمضان کا آخری عشرہ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com