سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری دس دنوں میں عبادت میں جنتی محنت کرتے تھے، اتنی دوسرے دنوں میں نہيں کرتے تھے۔

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المؤْمِنينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ.
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری دس دنوں میں عبادت میں جنتی محنت کرتے تھے، اتنی دوسرے دنوں میں نہيں کرتے تھے۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب رمضان کا آخری عشرہ داخل ہوتا تو اس میں دوسرے دنوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ عبادت اور طرح طرح کے نیکی کے کاموں میں مشغول ہو جایا کرتے تھے۔ آپ ایسا ان راتوں کی عظمت وفضیلت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور لیلۃ القدر کی طلب میں کیا کرتے تھے۔

فوائد
  1. ماہ رمضان میں بالعموم اوراس کے آخری عشرہ میں خاص طور سے کثرت سے نیکی اور طرح طرح کے اچھے کام کرنے کی ترغیب۔
  2. رمضان کا آخری عشرہ اکیسویں رات سے شروع ہوکر مہینے کے آخر تک رہتا ہے۔
  3. فضیلت والے اوقات کو نیکی کے کاموں میں لگانا مستحب ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (2/ 832) (1175). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (14/ 463). نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (2/ 848). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 339).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
رمضان کا آخری عشرہ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com