سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

یا رسول اللہ! میں نے زمانۂ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں ایک رات -اور دوسری روایت کے مطابق ایک دن- مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی نذر کو پورا کرو۔

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: قلت: يا رسول الله، إني كنت نَذَرْتُ في الجَاهلية أن أعتكف ليلة -وفي رواية: يومًا- في المسجد الحرام ؟ قال: «فَأَوْفِ بِنَذْرِكَ».
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں نے زمانۂ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں ایک رات -اور دوسری روایت کے مطابق ایک دن- مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی نذر کو پورا کرو۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے زمانۂ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ وہ ایک رات مسجد حرام میں اعتکاف کریں گے۔ انںھوں نے نبی ﷺ سے اس نذر کے حکم کے بارے میں پوچھا، جو انھوں نے زمانۂ جاہلیت میں مانی تھی۔ آپ ﷺ نے انھیں اپنی نذر کو پورا کرنے کا حکم دیا۔

حوالہ

- صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام/محمد بن صالح العثيمين - مكتبة الصحابة-الشارقة -الإمارات العربية المتحدة -الطبعة الأولى 1426ه. - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام-عبد الله البسام-تحقيق محمد صبحي حسن حلاق- مكتبة الصحابة- الشارقة- الطبعة العاشرة- 1426ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اعتکاف

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com