سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

روزہ دار کے لئے کیا حرام ہے

4 احادیث

رسول اللہ ﷺ نے دو دن یعنی عید الفطر اور عید الاضحی کے دنوں میں روزہ رکھنے سے، ایک کپڑے کو سارے بدن پر لپیٹنے سے، ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے اور صبح اور عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صوم يومين: الفطر والنحر، وعن اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وأن يَحْتَبِيَ الرجل في الثوب الواحد، وعن الصلاة بعد الصبح والعصر».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو دن یعنی عید الفطر اور عید الاضحی کے دنوں میں روزہ رکھنے سے، ایک کپڑے کو سارے بدن پر لپیٹنے سے، ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے اور صبح اور عصر (کی نماز) کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں نبی ﷺ نے دو دن روزہ رکھنے، دو طرح سے لباس پہننے اور دو قسم کی نمازوں سے منع فرمایا ہے: دو دن جن میں روزہ رکھنا حرام ہے وہ عید الفطر اور عید الاضحی کے دن ہیں۔ ان دنوں میں روزہ رکھنے کی حرمت میں حکمت یہ ہے کہ کھانے پینے اور خوشی کے دن میں روزہ رکھنا مناسب نہیں۔ دو طرح سے پہناوے جو حرام ہیں وہ ’اِشتمالُ الصَمَّاء‘ اور ’احتباء‘ ہیں۔ ’احتباء‘ سے مراد یہ ہے کہ آدمی سرین پر بیٹھے دونوں زانوں کو کھڑا کرے بایں کور کہ انھیں ہاتھ سے پکڑا رکھے یا پھر کسی کپڑے سے باندھ لے۔ ’اِشتمالُ الصَمَّاء‘ سے مراد یہ ہے کہ آدمی ایک ہی کپڑے میں اپنے بدن پر اس طرح لپیٹ لے اور جسم کہیں سے کھلا نہ رہے، صحیح بخاری کی روایت میں یہ قید ہے: ”جب کہ اس شخص کی شرم گاہ پر کوئی شے نہ ہو“۔ دو قسم کی نمازیں جو ممنوع ہیں وہ صبح کی نماز کے بعد اور عصر کی نماز کے بعد کی نمازیں ہیں، یہ ممانعت کفار کی مشابہت سے بچنے کے لئے سد ذریعہ کے طور پر ہے جو سورج کے طلوع و غروب کے اوقات میں سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔تاہم ان اوقات میں فرض نماز پڑھنا جائز ہے اگر اس نے اسے نہ پڑھا ہو، اسی طرح وہ نمازیں بھی پڑھی جا سکتی ہیں جن کا کوئی سبب ہو۔

حوالہ

عمدة الأحكام، تأليف: عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي، تحقيق: محمود الأرناؤوط، دار الثقافة العربية ومؤسسة قرطبة، الطبعة الثانية، 1408هـ. تيسير العلام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق محمد صبحي بن حسن حلاق، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة العاشرة، 1426هـ. تأسيس الأحكام شرح عمدة الأحكام، تأليف: أحمد بن يحي النجمي: نسخة إلكترونية لا يوجد بها بيانات نشر. تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة الأولى: 1426هـ. صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

کیا نبی ﷺ نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔

عن محمد بن عباد بن جعفر قال: «سألت جابر بن عبد الله رضي الله عنهما : أَنَهَى النبي صلى الله عليه وسلم عن صوم يوم الجمعة ؟ قال: نعم». وفي رواية: «وَرَبِّ الْكَعْبَة».
محمد بن عباد بن جعفر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ کیا نبی ﷺ نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”رب کعبہ کی قسم“۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

چونکہ یوم جمعہ مسلمانوں کے لئے عید کا دن ہے اس لئے نبی ﷺ نے اس دن کو خاص کر کے اس میں روزہ رکھنے یا قیام اللیل کرنے سے منع فرمایا۔ الا یہ کہ وہ شخص اس کے ساتھ ہی اس سے پہلے یا اس کے بعد والے دن بھی روزہ رکھے، یا وہ اس کے معمول کے روزے کے ضمن میں یہ آ جائے۔ یہ ممانعت اس لئے بھی ہے تا کہ عام لوگ کہیں یہ نہ گمان کرنے لگ جائیں کہ جمعہ کے دن بطور خاص زیادہ عبادت کرنا واجب ہے۔

حوالہ

عمدة الأحكام، تأليف: عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي، تحقيق: محمود الأرناؤوط، دار الثقافة العربية ومؤسسة قرطبة، الطبعة الثانية، 1408هـ. تيسير العلام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق محمد صبحي بن حسن حلاق، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة العاشرة، 1426 هـ. تأسيس الأحكام شرح عمدة الأحكام، تأليف: أحمد بن يحي النجمي: نسخة إلكترونية لا يوجد بها بيانات نشر. تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة الأولى: 1426هـ. صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز عید ادا کی۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ دو دن ایسے ہیں، جن میں روزہ رکھنے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ ایک ( رمضان کے ) روزوں کے بعد افطار کا دن ( عید الفطرکا دن )، اور دوسرا وہ دن جس میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو (یعنی عید الاضحی کا دن)۔

عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، قَالَ: شَهِدْتُ العِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: هَذَانِ يَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا: يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَاليَوْمُ الآخَرُ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ.
ابن ازہر کے آزاد کردہ غلام ابو عبید سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز عید ادا کی۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ دو دن ایسے ہیں، جن میں روزہ رکھنے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ ایک ( رمضان کے ) روزوں کے بعد افطار کا دن ( عید الفطرکا دن )، اور دوسرا وہ دن جس میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو (یعنی عید الاضحی کا دن)۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عید الفطر اور عید الاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔ عیدالفطر کے دن منع اس لیے کیا ہے کہ وہ پورے ماہ رمضان کے روزے کے بعد روزہ توڑنے کا دن ہے۔ جب کہ عیدالاضحی کے دن اس لیے منع کیا ہے کہ وہ قربانی کا گوشت کھانے کا دن ہے۔

فوائد
  1. عیدالفطر کے دن اورعیدالاضحی کے دن روزہ رکھنا حرام ہے۔ اور ایام تشریق میں بھى روزہ رکھنا حرام ہے، کیوں کہ ایام تشریق عیدالاضحی کے دن کے تابع ہیں۔ البتہ کسی کے پاس ہدی کا جانور نہ ہو، تو وہ ایام تشریق میں روزہ رکھ سکتا ہے۔
  2. ابن حجر کہتے ہیں: کہا گیا ہے: دو دنوں کے ذکر کا مقصد دراصل ان دو دنوں میں روزے نہ رکھنے کے وجوب کی علت کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ پہلے دن روزہ رکھنے کى ممانعت کی وجہ یہ بیان کرنا ہے کہ اب روزہ نہیں رہنا ہے اور یہ کہ رمضان کے روزے پورے ہوچکے ہیں اور اس کى حد بندى اس کے بعد والے دن روزہ نہ رہنے سے ہوگى۔ جب کہ دوسرے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کی وجہ قربانی کرنا ہے، جو ایک عبادت ہے اور جس کا گوشت کھایا جاتا ہے۔
  3. خطیب کے لیے مناسب ہے کہ اپنے خطبہ میں وقت اور حالات کے مطابق احکام کو ذکر کرے اور مناسبت کا پاس و لحاظ رکھے۔
  4. قربانی کا گوشت کھانے کی مشروعیت۔
حوالہ

صحيح البخاري (3/ 42) (1990). صحيح مسلم (2/ 799) (1137). تيسير العلام، لعبد الله البسام (ص344). تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، لابن عثيمين (3/ 461). الإفهام في شرح عمدة الأحكام، لابن باز (ص426). خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص161).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میرے بھائی داؤد علیہ السلام کے روزے -آدھے سال کے روزے- سے زیادہ روزہ جائز نہیں۔ ایک دن کا روزہ رکھ اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کر۔

عن عبد الله بن عَمْرِو بن العاص رضي الله عنهما قال: «أُخبِر رسول الله صلى الله عليه وسلم أني أقول: والله لَأَصُومَنَّ النهار، وَلَأَقُومَنَّ الليل مَا عِشْتُ. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أنت الذي قلتَ ذلك؟ فقلتُ له: قد قُلتُه -بأبي أنت وأمي-. فقال: فإنك لا تستطيع ذلك، فصُم وأفطِر، وَقُمْ وَنَمْ ، الشَّهْرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ الحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وذلك مثل صيام الدَّهْرِ. قلت: فإني أُطِيقُ أفضل من ذلك. قال: فصم يوما وأَفطر يومين. قلت: أُطِيقُ أفضل من ذلك. قال: فصم يوما وأفطر يوما، فذلك مثل صيام داود، وهو أفضل الصيام. فقلت: إني أُطِيقُ أفضل من ذلك. قال: لا أفضل من ذلك»، وفي رواية: «لا صوم فوق صوم أخي داود -شَطْرَ الدَّهَرِ-، صم يوما وأفطر يوما».
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ تک میری یہ بات پہنچائی گئی کہ اللہ کی قسم! میں زندگی بھر دن میں روزے رکھوں گا اور ساری رات عبادت کروں گا، لہٰذا آپ ﷺ نے کہا: تم ہی ہو وہ شخص، جس نے یہ بات کہی ہے؟، میں نے آپ ﷺ کو جواب دیتے ہوئے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، ہاں میں نے یہ کہا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: لیکن تیرے اندر اس کی طاقت نہیں، اس لیے روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر۔ رات کو قیام بھی کر اور سو بھی جا اور مہینے میں تین دن کے روزے رکھا کر؛ کیوںکہ نیکیوں کا بدلہ دس گنا ملتا ہے۔ اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ :میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: پھر ایک دن روزہ رکھا کر اور دو دن کے لیے روزے چھوڑ دیا کر۔ میں نے پھر کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا، ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن افطار کر کہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ایسا ہی تھا اور روزے کا یہ سب سے افضل طریقہ ہے۔ میں نے اب بھی وہی کہا کہ میرے پاس اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے، لیکن اس مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: آپ نے فرمایا: داؤد علیہ السلام کے روزے -آدھے سال کے روزے رکھنا-سے زیادہ روزہ جائز نہیں۔ ایک دن کا روزہ رکھ اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کر۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ کو یہ اطلاع پہنچائی گئی کہ عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما نے اس بات کی قسم کھائی ہے کہ وہ ہمیشہ روزے سے رہیں گے؛ کبھی بے روزہ نہ رہیں گے اور ہمیشہ قیام اللیل ہی کریں گے؛ کبھی نہیں سوئیں گے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: کیا تم نے ہی یہ بات کہی ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ عمل تمھارے لیے باعث مشقت ہوجائے گا اور تم اس کو برداشت نہ کرسکو گے۔ آپ ﷺ نے انھیں آرام اور عبادت دونوں ہی کو اختیار کرنے کی نصیحت فرمائی کہ روزہ بھی رکھیں اور نہ بھی رکھیں، قیام اللیل بھی کریں اور سوئیں بھی اور ہر ماہ تین روزے ہی رکھیں؛ تاکہ انھیں سال بھر روز رہ کھنے کا اجر وثواب حاصل ہوجائے۔ لیکن انھوں نے عرض کیا کہ وہ اس سے زیادہ روزے رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں اور وہ آپ ﷺ سے مزید روزوں کی درخواست کرتے رہے، یہاں تک کہ روزہ رکھنے کے افضل ترین طریقے پر یہ بات موقوف ہوگئی۔ روزہ رکھنے کا افضل ترین طریقہ داؤد علیہ السلام کا تھا؛ کیوں کہ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور دوسرے دن کا روزہ چھوڑ دیتے تھے۔ تاہم خیر و بھلائی کی شدید خواہش کی بنا پر صحابی رسول ﷺ نے مزید روزوں کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے۔

حوالہ

عمدة الأحكام، تأليف: عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي، تحقيق: محمود الأرناؤوط، دار الثقافة العربية ومؤسسة قرطبة، الطبعة الثانية، 1408هـ. تيسير العلام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق محمد صبحي بن حسن حلاق، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة العاشرة، 1426 هـ. تأسيس الأحكام شرح عمدة الأحكام، تأليف: أحمد بن يحي النجمي: نسخة إلكترونية لا يوجد بها بيانات نشر. تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة الأولى: 1426هـ. الإفهام في شرح عمدة الأحكام، للشيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز، تحقيق: سعيد بن علي بن وهف القحطاني، الطبعة الأولى، 1435 هـ. خلاصة الكلام على عمدة الأحكام، تأليف: فيصل بن عبد العزيز آل مبارك، الطبعة الثانية، 1412 هـ . صحيح البخاري ، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري ، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم ، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com