سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جس روزہ دار نے بھول کر کھا پی لیا وہ اپنا روزہ مکمل کرے۔ کیوں کہ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللهُ وَسَقَاهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جس روزہ دار نے بھول کر کھا پی لیا وہ اپنا روزہ مکمل کرے۔ کیوں کہ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس نے فرض یا نفل روزے کی حالت میں بھول کر کچھ کھا یا پی لیا، وہ اپنا روزہ پورا کرے۔ اسے توڑ نہ دے۔ کیوں کہ اس نے جان بوجھ کر کھایا یا پیا نہيں ہے۔ بلکہ خود اللہ نے اسے کھلایا اور پلایا ہے۔

فوائد
  1. جو شخص بھول کر کھا یا پی لے، تو اس کا روزہ درست ہے۔
  2. بھول کر کھا یا پی لینے پر کوئی گناہ نہیں ہے، کیوں کہ اس میں اس کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
  3. بندوں پر اللہ کے لطف و کرم، ان کے لیے اللہ کی جانب سے فراہم کردہ آسانی اور انھیں مشقت اور پریشانی سے بچانے کا بیان۔
  4. روزہ توڑنے والی چیزوں کی وجہ سے کسی بھی روزے دار کا روزہ اسی وقت ٹوٹے گا، جب اس کے اندر تین شرطیں پائی جائيں: 1- اس نے روزہ توڑنے والا کام علم رکھنے کے باوجود کیا ہو۔ اگر علم نہ رکھتا ہو، تو روزہ نہيں ٹوٹے گا۔ 2- اس نے یاد رہتے ہوئے کیا ہو۔ اگر بھول کر کیا ہو، تو اس کا روزہ درست ہوگا اور اسے قضا بھی نہيں کرنی ہوگی۔ 3- اس نے روزہ توڑنے والا کام اپنے اختیار سے کیا ہو۔ اس پر کوئی زبردستی نہ ہوئی ہو۔
حوالہ

صحيح البخاري (3/ 31) (1933). صحيح مسلم (2/ 809) (1155). تيسير العلام، لعبد الله البسام (ص319). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (3/ 422). خلاصة الكلام على عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص148).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
روزے کو فاسد کرنے والی اشیاء

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com