سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

شرعی عذر والوں کا روزہ

3 احادیث

آج تو روزہ نہ رکھنے والے اجر وثواب لے گئے۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: كنَّا مع النبي صلى الله عليه وسلم في السفر فمنَّا الصائم، وَمِنَّا المُفطر، قال: فنزلنا مَنْزِلًا فِي يوم حارٍّ، وأكثرنا ظِلًّا صاحب الْكِسَاءِ، وَمِنَّا من يَتَّقِي الشمس بيده، قال: فَسقط الصُّوَّامُ، وقام المُفْطِرُونَ فَضربوا الْأَبْنِيَةِ، وَسَقَوْا الرِّكَاب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "ذهب المُفْطِرُونَ اليوم بالأجر".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۔ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کچھ روزے سے نہیں تھے۔ ہم نے ایک گرم دن میں ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ ہم میں سے سب سے زیادہ سایہ اسے میسر تھا جو چادر والا تھا۔ کچھ لوگ ہم میں سے ایسے بھی تھے جو اپنے ہاتھ سے سورج کی تپش سے بچ رہے تھے۔ انس بن مالک کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا وہ تو گر گئے اور جنہوں نے روزہ نہیں رکھا تھا وہ قائم رہے، انہوں نے خیمے لگائے اور سواریوں کو پانی پلایا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج تو روزہ نہ رکھنے والے اجر وثواب لے گئے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

صحابہ کرام ایک سفر میں نبی ﷺ کے ہمراہ تھے۔ ممکن ہے کہ یہ غزوہ فتح مکہ کا ہو، ان میں سے بعض نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا اور بعض روزہ دار تھے۔ نبی ﷺ نے ہر ایک کو اس کی حالت پر رہنے دیا۔ سخت گرمی کے دن میں انہوں نے ایک جگہ سفر کی مشقت اور دوپہر کی گرمی سے کچھ راحت پانے کے لئے پڑاؤ کیا۔ جب انہوں نے اس گرمی میں پڑاؤ کیا تو روزہ دار لوگ گرمی اور پیاس کی شدت سے نڈھال ہو کر گر پڑے اور کوئی کام نہ کر سکے،جب کہ جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا انہوں نے اٹھ کر خیمے نصب کر کے پڑاؤ کی جگہیں بنائیں،اونٹوں کو پانی پلایا اور اپنے روزہ دار بھائیوں کی خدمت کی۔ نبی ﷺ نے جب ان کے اس عمل کو اور جس طرح سے انہوں ںے اہل لشکر کی خدمت کی تھی اسے دیکھا تو آپ ﷺ نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور ان کی فضیلت اور اجر میں زیادتی کو بیان کیا اور فرمایا: ”آج تو جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا تھا وہ اجر و ثواب لے گئے“۔

حوالہ

تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426 هـ. تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

’’سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔‘‘

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُما قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟»، فَقَالُوا: صَائِمٌ، فَقَالَ: «لَيْسَ مِنَ البِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ»، وَفِي لَفْظٍ لِمُسلِمٍ: «عَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللهِ الَّذِي رَخَّصَ لَكُمْ».
جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے، تو آپ نے ایک جگہ لوگوں کا ہجوم دیکھا کہ ایک شخص پر لوگوں نے سایہ کر رکھا ہے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘، تو لوگوں نے کہا: روزہ دار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔‘‘، مسلم کی ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں: ’’اللہ نے جو تمہیں رخصت دی ہے اس پر عمل کرو۔‘‘
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے، تو آپ نے ایک شخص کو دیکھا جس کے گرد لوگ جمع تھے اور دھوپ کی شدت اور پیاس کی کثرت کی وجہ سے اس پر سایہ کیا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اسے کیا ہوا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”یہ روزہ دار ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے، اللہ نے جو تمہیں رخصت دی ہے اس پر عمل کرو“۔

فوائد
  1. شریعتِ اسلامیہ کی آسانی کا بیان۔
  2. سفر کے دوران روزہ رکھنے کا جواز، اور روزہ نہ رکھنے کی رخصت پر عمل کرنے کا جواز۔
  3. سفر میں اگر مشقت ہو تو روزہ رکھنا مکروہ ہے، لیکن اگر یہ ہلاکت کی حد تک پہنچ جائے تو حرام ہے۔
  4. نووی کہتے ہيں: ”سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تمہیں اس سے مشقت ہو اور ضرر کا اندیشہ ہو، حدیث کا سیاق اسی تاویل کا تقاضا کرتا ہے۔
  5. نبی ﷺ کا اپنے صحابہ کرام کا خیال رکھتے اور ان کی خبر گیری کرتے تھے۔
حوالہ

صحيح البخاري (3/ 34) (1946). صحيح مسلم (2/ 786) (1115). تيسير العلام، للبسام (ص327). تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، لابن عثيمين (3/ 433).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ہم رمضان کے مہینے میں سخت گرمی کے وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، ہم میں سے بعض نے اپنے سر پر سخت گرمی کی وجہ سے ہاتھ رکھ لیا تھا۔ ہمارے درمیان صرف اللہ کے رسول ﷺ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ روزے سے تھے۔

عن أَبِي الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه قال: «خَرَجْنَا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في شهر رمضان، في حَرٍّ شَدِيدٍ ، حتى إن كان أَحَدُنَا لَيَضَعُ يَدَهُ على رأسهِ من شِدَّةِ الْحَرِّ. وما فِينَا صائمٌ إلا رسولُ الله صلى الله عليه وسلم وعبد ُالله بن رَوَاحَةَ».
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رمضان کے مہینے میں سخت گرمی کے وقت رسول اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے، ہم میں سے بعض نے اپنے سر پر سخت گرمی کی وجہ سے ہاتھ رکھ لیا تھا۔ ہمارے درمیان صرف اللہ کے رسول ﷺ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ روزے سے تھے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمارہے ہیں کہ وہ رمضان کے مہینے میں سفر پر نکلے، یہ سخت گرمی کا زمانہ تھا، گرمی کی شدت کی وجہ سے کوئی شخص اپنے سر پر ہاتھ رکھا ہوا تھا تاکہ ہاتھ کے ذریعہ سر، گرمی کی شدت سے بچ جائے۔ ان میں صرف اللہ کے رسولﷺ اور عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ روزے سے تھے۔ انھوں نے گرمی کو برداشت کرکے روزہ رکھ لیا تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سفر میں اگر مشقت اس حد تک نہ ہو کہ بندہ اس سے ہلاک ہو جائے تو روزہ رکھنا جائز ہے۔

حوالہ

عمدة الأحكام، تأليف: عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي، تحقيق: محمود الأرناؤوط، دار الثقافة العربية ومؤسسة قرطبة، الطبعة الثانية، 1408هـ. تيسير العلام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق محمد صبحي بن حسن حلاق، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة العاشرة، 1426 هـ. تأسيس الأحكام شرح عمدة الأحكام، تأليف: أحمد بن يحي النجمي: نسخة إلكترونية لا يوجد بها بيانات نشر. تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة الأولى: 1426هـ. صحيح البخاري ، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري ، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ صحيح مسلم ، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com