سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

روزے کی قضاء

3 احادیث

کیا وجہ ہے کہ حائضہ روزوں کی قضا تو کرتی ہے، لیکن نماز کی قضا نہیں کرتی؟ وہ کہنے لگیں کہ کیا تو حروریہ ہے؟ میں نے کہا کہ میں حروریہ نہیں ہوں، بلکہ صرف پوچھ رہی ہوں۔ اس پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ہمیں حیض آتا، تو ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیا جاتا البتہ نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔

عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِي الصَّوْمَ، وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ؟ فَقَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ قُلْتُ: لَسْتُ بِحَرُورِيَّةٍ، وَلَكِنِّي أَسْأَلُ. قَالَتْ: كَانَ يُصِيبُنَا ذَلِكَ، فَنُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ، وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ.
معاذۃ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کیا وجہ ہے کہ حائضہ روزوں کی قضا تو کرتی ہے، لیکن نماز کی قضا نہیں کرتی؟ وہ کہنے لگیں کہ کیا تو حروریہ ہے؟ میں نے کہا کہ میں حروریہ نہیں ہوں بلکہ صرف پوچھ رہی ہوں۔ اس پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ہمیں حیض آتا، تو ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیا جاتا البتہ نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

معاذۃ رضی اللہ عنہا نےعائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ کس وجہ سے شارع علیہ السلا نے حائضہ عورت کے لیے ان روزوں کی قضا فرض کی، جنھیں وہ نہ رکھ سکے؛ تاہم حیض کے دوران چھوٹ جانے والی نمازوں کی قضا اس پر واجب نہیں کی، حالاں کہ دونوں ہی عبادتیں فرض ہیں۔ بلکہ نماز، روزے سے زیادہ بڑی عبادت ہے۔ قضا کے اعتبار سے ان دونوں کے مابین فرق نہ کرنا خوارج کا مذہب تھا، جس میں بے جا سختی اور تنگی تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تو حروریہ ہے کہ تو بھی وہی عقیدہ رکھتی ہے، جو ان کا ہے اورتو بھی اسی طرح سختی چاہتی ہے، جیسے وہ کرتے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ میں حروریہ نہیں ہوں، بلکہ میرا سوال علم اور راہ نمائی کے حصول کے لیے ہے۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نبی ﷺ کے زمانے میں ہمیں حیض آتا تھا۔ ہم حیض کے دنوں میں روزے اور نماز چھوڑ دیتے تھے۔ نبی ﷺ ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیتے، لیکن نماز کی قضا کا حکم نہیں دیتے تھے۔ اگر نماز کی قضا واجب ہوتی، تو آپ ﷺ اس پر سکوت نہ فرماتے۔ گویا کہ وہ یہ کہنا چاہ رہی تھیں کہ شارع علیہ السلام کے احکامات کو بجا لانے پراکتفا کرنا چاہیے اور آپ کی وضع کردہ حدود پر رک جانا ہی حکمت و دانائی ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري (1/ 71) (321). صحيح مسلم (1/ 265) (335). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 68). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص81).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے ہوں تو اس کا وارث اس کی طرف سے روزے رکھے۔

عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من مات وعليه صِيَامٌ صَامَ عنه وَلِيُّهُ».
ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے ہوں تو اس کا وارث اس کی طرف سے روزے رکھے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے ذمہ کوئی فرض روزہ جیسے نذر، کفارے یا رمضان کی قضا کا روزہ ہو تو اس کا وارث اس کی طرف سے روزہ رکھے۔ کیونکہ یہ اس پر قرض ہے اور اس کی طرف سے ادائیگی کی سب سے زیادہ ذمہ داری اس کے قریب ترین رشتہ دار پر آتی ہے۔کیونکہ یہ اس کے ساتھ حسن سلوک، نیکی اور صلہ رحمی میں آتا ہے۔ یہ حکم مستحب ہے نہ کہ واجب۔

حوالہ

عمدة الأحكام، تأليف: عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي، تحقيق: محمود الأرناؤوط، دار الثقافة العربية ومؤسسة قرطبة، الطبعة الثانية، 1408هـ. تيسير العلام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق محمد صبحي بن حسن حلاق، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة العاشرة، 1426 هـ. تأسيس الأحكام شرح عمدة الأحكام، تأليف: أحمد بن يحي النجمي: نسخة إلكترونية لا يوجد بها بيانات نشر. تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة الأولى: 1426هـ. صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت. الموسوعة الفقهية الكويتية، صادر عن: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية - الكويت، الطبعة: (من 1404 - 1427هـ). إحكام الإحكام شرح عمدة الأحكام، تأليف: ابن دقيق العيد -مطبعة السنة المحمدية- بدون طبعة وبدون تاريخ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میری ماں وفات پا گئی ہے اور اس کے ایک مہینے کے روزے رہ گئے ہیں۔ کیا میں اس کی طرف سے ان کی ادائیگی کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہاری ماں پر کوئی قرض واجب الادا ہوتا تو کیا تم اس کی طرف سے اسے ادا کرتے؟ اس نے جواب دیا کہ: ہاں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا قرض ادائیگی کا زیادہ حق دار ہے۔

عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: «جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، إن أمي ماتت وعليها صوم شهر. أَفَأَقْضِيهِ عنها؟ فقال: لو كان على أمك دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عنها؟ قال: نعم. قال: فَدَيْنُ اللهِ أَحَقُّ أن يُقْضَى ». وفي رواية: «جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، إن أمي ماتت وعليها صوم نذر. أفأصوم عنها؟ فقال: أرأيت لو كان على أمك دَيْنٌ فَقَضَيْتِيهِ ، أكان ذلك يُؤَدِّي عنها؟ فقالت: نعم. قال: فَصُومِي عن أمك».
عبد الله بن عباس رضي الله عنهما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میری ماں وفات پا گئی ہے اور اس کے ایک مہینے کے روزے رہ گئے ہیں۔ کیا میں اس کی طرف سے ان کی ادائیگی کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہاری ماں پر کوئی قرض واجب الادا ہوتا تو کیا تم اس کی طرف سے اسے ادا کرتے؟ اس نے جواب دیا کہ: ہاں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کا قرض ادائیگی کا زیادہ حق دار ہے“۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! میری ماں کا انتقال ہو گیا اور اس کے ذمہ نذر کا ایک روزہ واجب الادا تھا۔ کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھ سکتی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے بتاؤ کہ اگر تمہاری ماں پر کچھ قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتی؟ اس نے جواب دیا کہ: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر اپنی ماں کی طرف سے روزہ رکھو۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حدیث کی دو روایات ہیں اور سیاق سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں نہ کہ ایک ہی واقعہ: پہلی روایت: یہ ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے آپ ﷺ کو بتایا کہ اس کی ماں وفات پا گئی ہے اور اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے تھے۔ کیا اسے چاہیے کہ وہ اپنی ماں کی طرف سے ان کی ادائیگی کرے؟ دوسری روایت: ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس کی ماں وفات پا گئی ہے اور اس کے ذمہ نذر کا ایک روزہ واجب الادا تھا۔ کیا وہ اس کے طرف سے روزہ رکھ سکتی ہے؟ نبی ﷺ نے دونوں کو فتویٰ دیا کہ وہ اپنے والدین کے ذمہ واجب الاداء روزے رکھیں۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں یہ بات سمجھانے کے لیے اور مزید وضاحت کے لیے ایک مثال دی کہ اگر ان کے والدین کے ذمے کسی آدمی کا کوئی قرض ہوتا تو کیا وہ ان کی طرف سے اسے ادا کرتیں؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ: ہاں۔ اس پر آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ: یہ روزہ اللہ کا ان کے والدین پر قرض ہے۔ اورجب آدمی کا قرض ادا کیا جاتا ہے تو اللہ کا قرض بدرجۂ اولیٰ ادا کرنا چاہیے۔

حوالہ

عمدة الأحكام، تأليف: عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي، تحقيق: محمود الأرناؤوط، دار الثقافة العربية ومؤسسة قرطبة، الطبعة الثانية، 1408هـ. تيسير العلام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق محمد صبحي بن حسن حلاق، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة العاشرة، 1426 هـ. تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة الأولى: 1426هـ. صحيح البخاري ، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري ، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ صحيح مسلم ، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com