”جب تم (رمضان کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب (شوال کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو۔ (اور) اگر مطلع ابر آلود ہو تو اس کا اندازہ لگالو۔ (یعنی مہینے کے تیس دن پورے کر لو)“۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے رمضان مہینہ داخل ہونے اور اس کے نکلنے کی علامت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے : جب تم رمضان مہینے کا چاند دیکھ لو، تو روزہ رکھو۔ اگر بادل چھائے رہنے یا کوئی چيز حائل ہونے کی وجہ سے چاند نظر نہ آ سکے، تو شعبان مہینے کے تیس دن پورے کر لو۔ اسی طرح جب شوال کا چاند دیکھو، تو روزہ رکھنا بند کر دو۔ اگر بادل چھائے رہنے یا کوئی چيز حائل ہونے کی وجہ سے چاند نظر نہ آ سکے، تو رمضان مہینے کے تیس دن پورے کر لو۔
- مہینہ کی شروعات ثابت کرنے کے لیے اعتماد چاند دیکھنے پر کیا جائے گا، حساب پر نہیں۔
- ابن منذر نے اجماع نقل کیا ہے کہ اگر چاند نہ دکھے تو رویت کو پرے رکھ کر صرف حساب کی بنا پرروزہ رکھنا واجب نہیں ہوگا۔
- بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے پر شعبان کے تیس دن پورے کرنا ضروری ہے۔
- قمری مہینہ 29 یا 30 دن کا ہی ہوتا ہے۔
- اگر بدلی وغیرہ کی وجہ سے شوال کا چاند نہ دیکھا جا سکے تو رمضان کے تیس روزے مکمل کرنا واجب ہے۔
- کسی ایسی جگہ میں موجود شخص، جہاں روزے کے سلسلے میں مسلمانوں کی خبر گیری کرنے والا کوئی نہ ہو، یا ایسے لوگ ہوں، جنھیں اس بات کی کوئی پرواہ نہ ہو، تو اسے بیدار رہنا چاہیے اور خود اپنی رویت یا کسی معتبر شخص کی رویت پر بھروسہ کرکے روزہ رکھنا اور توڑنا چاہیے۔
صحيح البخاري (3/ 25) (1900). صحيح مسلم (2/ 760) (1080). تيسير العلام، لعبد الله البسام (ص314). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (3/ 414). الإفهام في شرح عمدة الأحكام، لابن باز (ص385). خلاصة الكلام على عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص146). الموسوعة الفقهية الكويتية (23/ 142).