سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

Doing Good Deeds on behalf of the Deceased and Gifting them the Reward

1 احادیث

”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل بھی منقطع ہو جاتا ہے، مگر تین قسم کے عمل (کا ثواب) جاری رہتا ہے۔ صدقۂ جاریہ، یا ایسا علم جس سے اس کے بعد بھی فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔“

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل بھی منقطع ہو جاتا ہے، مگر تین قسم کے عمل (کا ثواب) جاری رہتا ہے۔ صدقۂ جاریہ، یا ایسا علم جس سے اس کے بعد بھی فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔“
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ انسان کی موت کے ساتھ اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔ اسے موت کے بعد ثواب بس تین چیزوں کا ملتا ہے، کیوں کہ ان کا سبب وہ خود ہوتا ہے۔ یہ تین چيزیں درج ذیل ہيں: 1- ایسا صدقہ جس کا ثواب مسلسل اور ہمیشہ جارى رہے کبھی بند نہ ہو۔ جیسے وقف، مسجد کی تعمیر اور کنواں کھدوانا وغیرہ۔ 2- ایسا علم جس سے لوگ بہرہ ور ہوتے رہیں۔ جیسے علمی کتابوں کی تصنیف اور کسی شخص کو تعلیم سے آراستہ کرنا، جو اس کی موت کے بعد بھی علم کی نشر و اشاعت کا کام کرتا رہے۔ 3- مومن اور صالح اولاد، جو اپنے والدین کے لیے دعا کرتے رہیں۔

فوائد
  1. اہل علم کا اجماع ہے کہ انسان کو موت کے بعد جن چیزوں کا ثواب ملتا رہتا ہے، ان میں صدقۂ جاریہ، لوگوں کے لیے مفید علم اور دعا شامل ہیں۔ کچھ حدیثوں میں حج کا ذکر بھی ہوا ہے۔
  2. ان تین چیزوں کا ذکر بطور خاص اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ چیزیں خیر کے کاموں میں اساس کی حیثیت رکھتی ہیں اور عام طور پر اہل فضل چاہتے ہيں کہ یہ چيزیں ان کے بعد باقی رہیں۔
  3. ویسے تو ہر نفع بخش علم کا اجر و ثواب ملتا ہے، لیکن اس معاملے میں شرعی علم اور اس کے حصول میں مدد گار علوم سرفہرست ہیں۔
  4. ان تین چيزوں میں بھی سب سے زیادہ نفع بخش چیز شرعی علم ہے۔ کیوں کہ اسے سیکھنے والا اس علم سے تو مستفید ہوتا ہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ شریعت کی حفاظت بھی ہوتی ہے اور اللہ کی ساری مخلوق فیض یاب ہوتی ہے۔ علم کے اندر ایک جامعیت یہ ہے کہ اس سے آپ کے دور کے لوگوں کے ساتھ ساتھ آپ کے بعد کے لوگ بھی فیض یاب ہوں گے۔
  5. اولاد کی صالح تربیت کی ترغیب۔ کیوں کہ صالح اولاد اپنے والدین کو آخرت میں نفع پہنچاتی ہے۔ اس نفع رسانی کی ایک صورت یہ ہے کہ صالح اولاد اپنے والدین کے لیے دعا کرتی ہے۔
  6. والدین کی وفات کے بعد بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کی ترغیب۔ یہ بھی والدین کے ساتھ اس حسن سلوک میں شامل ہے جس سے اولاد مستفید ہوتی ہے۔
  7. ویسے تو دعا اولاد کے علاوہ کوئی اور کرے، تب بھی میت کو فائدہ ہوتا ہے، لیکن آپ نے بطور خاص اولاد کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ کیوں کہ کسی بھی انسان کے لیے اس کی اولاد ہی تا دم حیات دعا کرتی رہتی ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (3/ 1255) (1631)، البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (28/ 413).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com