سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

نماز جنازہ کا طریقہ:

7 احادیث

رسول اللہ ﷺ نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی جبکہ میں دوسری یا تیسری صف میں تھا۔

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما «أن النبي صلى الله عليه وسلم صَلَّى على النَّجَاشِيِّ، فكنت في الصفّ الثاني، أو الثالث».
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نجاشی کی نمازِ جنازہ پڑھی تو میں دوسری یا تیسری صف میں تھا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے نجاشی کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی اور وہ خود ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے نمازہ جنازہ پڑھی تھی لیکن ان کو یہ یاد نہیں کہ وہ دوسری صف میں تھے یا تیسری میں۔اور یہ شک ان (جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ) کا ہے راوی کا نہیں۔

حوالہ

تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ، 2006م. تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م. الإفهام في شرح عمدة الأحكام لابن باز، تحقيق: سعيد القحطاني، مؤسسة عبد العزيز بن باز الخيرية، الرياض، الطبعة: الأولى 1435هـ. خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، فيصل بن عبد العزيز المبارك، الطبعة: الثانية 1412هـ، 1992م. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار المنهاج، القاهرة، الطبعة: الأولى 1427هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اے اللہ! ہمارے زندہ اور مردہ کو، ہمارے چھوٹے اور بڑے کو، ہمارے مردوں اور عورتوں کو، ہمارے حاضر اور غائب سب کو بخش دے۔ اے اللہ! ہم میں سے جس کو تو زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور ہم میں سے جسے موت دے اسے ایمان پر موت دے۔ اے اللہ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کر اور ہمیں اس کے بعد کسی فتنے میں مبتلا نہ کر۔

عن أَبي هريرة وأبي قتادة وَأبي إبراهيم الأشهلي عن أبيه -وأبوه صَحَابيٌّ- رضي الله عنهم عن النبيِّ صلى الله عليه وسلم أنه صلى على جِنَازَةٍ، فقال: «اللهم اغفر لِحَيِّنَا ومَيِّتِنَا، وصغيرنا وكبيرنا، وذَكرنا وأُنثانا، وشَاهِدِنَا وغَائِبِنَا، اللهم مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ على الإسلامِ، ومَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفِّهِ على الإيمانِ، اللهم لا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، ولا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ».
ابوہریرہ، ابو قتادہ اور ابو ابراہیم اشھلی اپنے والد ‘جو کہ صحابی ہیں رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک جنازے کی نماز پڑھائی اور آپ نے یہ دعا پڑھی: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَصَغِيرنَا وَكَبيرنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، وشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الإسْلاَمِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوفَّهُ عَلَى الإيمَان، اللَّهُمَّ لاَ تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلاَ تَفْتِنَّا بَعدَهُ“ اے اللہ! ہمارے زندہ اور مردہ کو، ہمارے چھوٹے اور بڑے کو، ہمارے مردوں اور عورتوں کو، ہمارے حاضر اور غائب سب کو بخش دے۔ اے اللہ! ہم میں سے جس کو تو زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور ہم میں سے جسے موت دے اسے ایمان پر موت دے۔ اے اللہ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کر اور ہمیں اس کے بعد کسی فتنے میں مبتلا نہ کر۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ جب جنازہ پڑھاتے تو اِس مفہوم کی دعا فرماتے: اے اللہ! مسلمان معاشرے میں ہمارے تمام زندوں اور مُردوں، ہمارے چھوٹوں اور بڑوں، ہمارے مردوں اور عورتوں اور حاضرین و غائبین کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے اسے اسلامی احکام پر عمل کرتے ہوئے زندہ رکھ اور جسے تو موت دے اسے ایمان کی حالت میں موت دے۔ یا اللہ! ہمیں مصیبت کے اجر سے محروم نہ فرما اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر۔

حوالہ

سنن أبي داود - سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت سنن الترمذي - محمد بن عيسى ، الترمذي، تحقيق وتعليق:أحمد محمد شاكر ومحمد فؤاد عبد الباقي وإبراهيم عطوة عوض -شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر الطبعة: الثانية، 1395 هـ - 1975 م سنن أبي داود، بتحقيق الألباني، مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الطبعة الثانية 1427ه نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين, مؤسسة الرسالة, الطبعة الرابعة عشر, 1407ه . دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد بن علان الصديقي, دار الكتاب العربي. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، المؤلف : الملا على القاري. المصدر : موقع المشكاة الإسلامية بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي, دار ابن الجوزي. شرح رياض الصالحين لابن عثيمين , دار مدار الوطن للنشر، الرياض, الطبعة : 1426 هـ. تطريز رياض الصالحين لفيصل بن عبد العزيز المبارك النجدي, تحقيق: عبد العزيز آل حمد, دار العاصمة , الطبعة: الأولى، 1423 هـ

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اے اللہ! فلاں بن فلاں تیری امان میں اور تیری حفاظت کی پناہ میں ہے، تو اسے قبر کی آزمائش اور جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما، تو وعدے کو پورا کرنے والا اور لائق ستائش ہے۔ اے اللہ! تو اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرما، بے شک تو بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

عن واثلة بن الأسقع رضي الله عنه مرفوعاً: « صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم على رجل من المسلمين، فسمعته يقول: «اللهم إن فلان ابن فلان في ذمتك وحبل جِوَارِكَ، فَقِهِ فِتْنَةَ القبر، وعذاب النار، وأنت أهل الوفاء والحمد؛ اللهم فاغفر له وارحمه، إنك أنت الغفور الرحيم».
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک مسلمان شخص کی نماز جنازہ پڑھائی۔ میں نے آپ ﷺ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا: ”اللَّهُمَّ إنَّ فُلانَ ابْنَ فُلانٍ في ذِمَتِّكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ فِتْنَةَ القَبْرِ، وَعذَابَ النَّار، وَأَنْتَ أهْلُ الوَفَاءِ وَالحَمْدِ؛ اللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، إنَّكَ أنْتَ الغَفُورُ الرَّحيمُ“ اے اللہ! فلاں بن فلاں تیری امان میں اور تیری حفاظت کی پناہ میں ہے، تو اسے قبر کی آزمائش اور جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما، تو وعدے کو پورا کرنے والا اور لائق ستائش ہے۔ اے اللہ! تو اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرما، بے شک تو بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

رسول اللہ ﷺ نے ایک مسلمان شخص کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں دعا فرمائی جس کا مفہوم یہ ہے: اے اللہ! فلاں بن فلاں تیرے حفظ و امان میں ہے اور تیری مغفرت کا طلب گار ہے۔ لہٰذا قبر میں بطور امتحان پوچھے جانے والے سوال پر اسے ثابت قدم رکھ اور اسے آگ کے عذاب سے نجات دے، بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا اور تو حق والا ہے۔ اے اللہ! پس تو اسے بخش دے، اور اس پر رحم فرما، یقیناً تو گناہوں کو بہت زیادہ معاف کرنے والا، اور نیکیوں کو قبول کر کے اور انہیں کئی چند کرکے بہت ہی رحمت کرنے والا ہے۔

حوالہ

سنن أبي داود، تحقيق محمد محي الدين صيدا -بيروت سنن أبي داود، بتحقيق الألباني، مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الطبعة الثانية 1427ه نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين, مؤسسة الرسالة, الطبعة الرابعة عشر, 1407ه . دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد بن علان الصديقي, دار الكتاب العربي. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي, دار ابن الجوزي. كنوز رياض الصالحين بإشراف حمد العمار, دار كنوز إشبيليا, الطبعة الأولى, 1430ه .

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میں نے نبی ﷺ کے پیچھے ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھی جو بحالت نفاس انتقال کر گئی تھی۔ رسول اللہ ﷺ اس کی کمر کے مقابل کھڑے ہوئے۔

عن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رضي الله عنه قال: «صَلَّيْت وراء النبي صلى الله عليه وسلم على امرأة ماتت في نِفَاسِهَا فقام في وَسْطِهَا».
سمره بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے پیچھے ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھی، جو بحالت نفاس انتقال کر گئی تھی۔ رسول اللہ ﷺ اس کی کمر کے مقابل کھڑے ہوئے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

میت پر نماز جنازہ پڑھنا مسلمانوں میں سے ہر مرنے والے کا لازمی حق ہے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت اور چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے پیچھے ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھی، جو حالت نفاس میں فوت ہو گئی تھی۔ رسول اللہ ﷺ اس کی کمر کے مقابل کھڑے ہوئے۔

حوالہ

تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ. تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ. الإفهام في شرح عمدة الأحكام لابن باز، تحقيق: سعيد القحطاني، مؤسسة عبد العزيز بن باز الخيرية، الرياض، الطبعة: الأولى 1435هـ. خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، فيصل بن عبد العزيز المبارك، الطبعة: الثانية 1412هـ، 1992م. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نجاشی (بادشاہ) کے فوت ہونے کے دن نبیﷺ نے اس کے وفات کی خبر دی۔ آپ ﷺ باہر جناہ گاہ کی طرف گئے، لوگوں کے ساتھ صف بندی کی اور چار تکبیرات (نماز جنازہ میں) کہیں۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: «نَعَى النبيُّ صلى الله عليه وسلم النَّجَاشِيَّ في اليوم الذي مات فيه، خرج بهم إلى المصلَّى، فصفَّ بهم، وكَبَّرَ أَرْبَعاً».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نجاشی (بادشاہ) کے فوت ہونے کے دن نبی ﷺ نے اُن کی موت کی خبر دی۔ آپ ﷺ باہر جناہ گاہ کی طرف گئے، لوگوں کے ساتھ صف بندی کی اور چار تکبیرات (نماز جنازہ میں) کہیں۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نجاشی حبشہ کا بادشاہ تھا جس نے مہاجرین صحابہ کے ساتھ اس وقت بہت نیک سلوک کیا تھا جب انہیں مکہ میں قریش نے بہت تنگ کیا اور بالآخر انہوں نے اہل مدینہ کے اسلام قبول کرنے سے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کر لی۔ پھر اپنی حسنِ نیت، حق کی پیروی اور تکبر سے پرہیز کی وجہ سے اُس نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کی موت اپنی سرزمین پر ہی واقع ہوئی اور اس نے نبی ﷺ کو نہیں دیکھا تھا۔ مسلمانوں کے ساتھ اس کے نیک سلوک اور اس کے مرتبے کی بلندی کی وجہ سے اور ایسی جگہ ہونے کی وجہ سے جہاں اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی گئی تھی آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو اس کی وفات کے دن اس کی موت کی خبر دی۔ آپ ﷺ صحابہ کو لے کر جنازہ گاہ کی طرف آئے۔ ایسا نجاشی کی عظمتِ شان کے بیان، اس کے اسلام لانے کے اعلان، اس کی فضیلت کے اظہار، مہاجرین کے ساتھ اس نے جو کچھ کیا تھا اس کے بدلے میں اور اس کی نماز جنازہ کے مجمع کو بڑھانے کے لیے کیا گیا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کے ساتھ صف بندی کی اور اس پر نماز جنازہ ادا کی۔ آپ ﷺ نے اس نماز میں چار تکبیرات کہیں۔ یہ آپ ﷺ کی طرف سے نجاشی کے لیے اللہ کے حضور شفاعت تھی۔

حوالہ

تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ، 2006م. تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

رسول اللہ ﷺ شہدائے احد کی جانب گئے اور آٹھ سال بعد ان کے حق میں دعا فرمائی۔ (ایسا لگ رہا تھا،) جیسے آپ ﷺ زندوں اور مردوں، سب سے رخصت ہو رہے ہوں۔

عن عقبة بن عامر رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج إلى قتلى أحد، فصلى عليهم بعد ثمان سنين كالمُوَدِّعِ للأحياء والأموات، ثم طلع إلى المنبر، فقال: «إني بين أيديكم فَرَط ٌوأنا شهيد عليكم وإن مَوْعِدَكُمُ الحَوْضُ، وإني لأنظر إليه من مقامي هذا، ألَا وإني لست أخشى عليكم أن تُشركوا، ولكن أخشى عليكم الدنيا أن تَنَافَسُوهَا» قال: فكانت آخر نظرة نَظَرْتُها إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم . وفي رواية: «ولكني أخشى عليكم الدنيا أن تنافسوا فيها، وتَقْتَتِلوا فتَهْلِكوا كما هلك من كان قبلكم». قال عقبة: فكان آخر ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر. وفي رواية قال: «إني فَرَطٌ لكم وأنا شهيد عليكم وإني والله لأنظر إلى حوضي الآن، وإني أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الأرض، أو مَفَاتِيحَ الأرض، وإني والله ما أخاف عليكم أن تشركوا بعدي، ولكن أخاف عليكم أن تَنَافَسُوا فيها».
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ شہدائے احد کی جانب گئے اور آٹھ سال بعد ان کے حق میں دعا فرمائی۔ (ایسا لگ رہا تھا،) جیسے آپ ﷺ زندوں اور مردوں، سب سے رخصت ہو رہے ہوں۔ اس کے بعد آپ ﷺ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: ”میں تم سے سبقت کرنے والا ہوں، میں تم پر گواہ رہوں گا اور مجھ سے (قیامت کے دن) تمھاری ملاقات حوض (کوثر) پر ہو گی۔ میں اپنی اس جگہ سے حوض (کوثر) کو دیکھ رہا ہوں۔ ذرا غور سے سنو! مجھے تمھارے بارے میں اس بات کا خطرہ نہیں ہے کہ تم شرک کرو گے۔ ہاں! میں تمھارے بارے میں دنیا سے ڈرتا ہوں کہ تم کہیں دنیا کے لیے آپس میں مقابلہ نہ کرنے لگو“۔ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے لیے رسول اللہ ﷺ کا یہ آخری دیدار تھا، جو مجھ کو نصیب ہوا متفق علیہ۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ وارد ہوئے: ”لیکن میں تمھارے بارے میں دنیا سے ڈرتا ہوں کہ تم کہیں دنیا کے لیے آپس میں مقابلہ نہ کرنے لگو اور ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہوکر باہم قتل کرنے لگ جاؤ۔ پھر تم بھی اسی طرح ہلاک ہو جاؤ، جس طرح تم سے پہلے لوگ ہلاک ہو گئے“۔ عقبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ منبر پر یہی آخری مرتبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”میں تم سے سبقت کرنے والا ہوں۔ میں تم پر گواہ رہوں گا۔ اللہ کی قسم! اس وقت بھی میں اپنے حوض (کوثر) کو دیکھ رہا ہوں۔ اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا (فرمایا کہ) زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ اور اللہ کی قسم! میں تمھارے متعلق اس سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، بلکہ مجھے تمھارے متعلق یہ خوف ہے کہ تم دنیا کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگو گے“۔۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ایک دن رسول اللہ ﷺ غزوۂ احد کے شہدا کی جانب ان کے حق میں دعا کے لیے نکلے۔ یہ واقعہ غزوہ احد کے آٹھ سال بعد کا ہے۔ پھر آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور لوگوں سے اس انداز میں خطاب فرمایا، جیسے ان سے وداعی و رخصتی خطاب فرما رہے ہوں اور اس بات کی بھی خبر دی کہ آپ ﷺ (دنیا ہی میں اس وقت) اپنے حوض (کوثر) کو دیکھ رہے ہیں اور بہت جلد اس حوض کے پاس ان سے قبل پہنچنے والے ہیں، اور یہ کہ آپ ﷺ ان کے گواہ ہوں گے، اور آپ ﷺ نے اپنی امت کو اس بات سے بھی مطلع فرمایا کہ اس امت کو بہت جلد زمین کے خزانوں کا مالک بنایا جائے گا۔ نیز آپ ﷺ نے اس بات سے بھی آگاہ فرما دیا کہ آپ ﷺ کو اپنی امت پر شرک کا خدشہ نہیں، لیکن کسی اور امر کا خوف لاحق ہے، جس کی طرف لوگ بہت تیزی کے ساتھ لپک کر جانے والے ہیں اور وہ یہ کہ اس امت پر دنیوی مال و متاع کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور وہ اس میں ایک دوسرے سے مقابلہ آرائی کرتے ہوئے، اس کے حصول کے لیے ایک دوسرے کی جان کے درپے ہو جائیں گے اور اس طرح یہ امت بھی ہلاکت و تباہی کا شکار ہوگی، جس طرح ان سے قبل لوگ ہلاک و برباد ہوئے۔ عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے منبر پر رسول اللہ ﷺ کو یہی آخری مرتبہ دیکھا۔

حوالہ

صحيح البخاري، أبو عبد الله محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة الجعفي البخاري، تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي. رياض الصالحين، تأليف محيي الدين النووي، تحقيق عصام موسى هادي، ط: وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية بدولة قطر. شرح رياض الصالحين، المؤلف : محمد بن صالح بن محمد العثيمين. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د/ مصطفى الخن، د/ مصطفى البغا، محيي الدين مستو، علي الشربجي، محمد أمين لطفي، مؤسسة الرسالة، ط:الرابعة عشر1407. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، تأليف محمد علي بن محمد علان. تطريز رياض الصالحين، تأليف فَيْصَلْ بنِ عَبْدِ العَزِيْزِ آل مُبَارَك.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی کے جنازے پر چار تکبیرات کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد اتنی دیر کھڑے رہے جتنا دو تکبیروں کے درمیان وقفہ ہوتا ہے، اس میں فوت شدہ بیٹی کے لیے مغفرت طلب کرتے اور دعا کرتے رہے، پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اسی طرح کیا کرتے تھے۔

عن عبد الله بن أبي أَوفَى رضي الله عنهما : أنه كَبَّرَ على جَنَازة ابْنَةٍ له أرْبَعَ تكبيرات، فقام بعد الرابعة كَقَدْرِ ما بَين التَّكْبِيرَتَيْنِ يَسْتَغْفِرُ لها ويَدْعُو، ثم قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ هكذا. وفي رواية: كَبَّر أربَعاً فَمَكَثَ سَاعة حتى ظَنَنْتُ أنه سَيُكَبِّرُ خَمْساً، ثم سلَّم عن يمينه وعن شماله. فلما انْصَرف قلنا له: ما هذا؟ فقال: إني لا أزِيدُكُم على ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يَصْنَع، أو: هكذا صَنَع رسول الله صلى الله عليه وسلم .
عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹی کے جنازے پر چار تکبیرات کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد اتنی دیر کھڑے رہے جتنا دو تکبیروں کے درمیان وقفہ ہوتا ہے، اس میں فوت شدہ بیٹی کے لیے مغفرت طلب کرتے اور دعا کرتے رہے، پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اسی طرح کیا کرتے تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ انہوں نے چار تکبیریں کہیں، پھر کچھ دیر ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ پانچویں تکبیر کہیں گے، پھر انہوں نے دائیں اور بائیں سلام پھیر دیا۔ جب وہ فارغ ہوئے تو ہم نے ان سے کہا: یہ کیا بات ہے؟ تو عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہارے سامنے اس سے زیادہ نہیں کروں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا۔ یا (یہ فرمایا) رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح کیا۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیٹی کی نمازِ جنازہ پڑھائی، چنانچہ آپ نے چار تکبیریں کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد اپنی بیٹی کے حق مین دعا واستغفار کرتے ہوئے تھوڑی دیر کھڑے رہے؛ اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ نے پہلی تکبیر نماز میں داخل ہونے کے لیے کہی پھر آپ نے سورہ فاتحہ پڑھی، پھر دوسری تکبیر کی اور درود شریف پڑھا، اُس کے بعد آپ نے تیسری تکبیر کہی اور میت کے لیے دعا کی، پھر چوتھی تکبیر کہی۔ پھر آپ نے سلام پھیرنے کے بعد ان لوگوں سے جنھوں نے ان کے ساتھ نماز جنازہ پڑھا تھا کہا، اسی طرح رسول ﷺ بھی کرتے تھے یعنی چار تکبیریں کہتے تھے اور چوتھی تکبیر کے بعد میت کے لیے دعا کرتے تھے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے حسبِ سابق چار تکبیریں کہیں اور چوتھی تکبیر کے بعد ٹھہر کر دعا واستغفار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کے پیچھے لوگوں کو گمان ہوا کہ آپ پانچویں تکبیر کہیں گے، پھر آپ نے پہلا سلام اپنی داہنی اور دوسرا سلام اپنی بائیں جانب پھیرا، جس طرح نماز میں ہوتا ہے، چنانچہ نماز کے اختتام کے بعد ان کے ساتھ نماز پڑھنے والے لوگوں نے ان سے چوتھی تکبیر کے بعد تاخیر کرنے اور فورًا سلام نہ پھیرنے کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: نبی ﷺ جو کیا کرتے تھے، میں نے اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ سلام پھیرنے کے متعلق علماء کے درمیان اختلاف ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سب سے زیادہ اور سب سے صحیح جو بات ثابت شدہ ہے وہ صرف داہنی جانب ایک سلام پھیرنا ہے۔ یہاں تک کہ اس پر اجماع بھی نقل کیا گیا جیسا کہ ابن قدامہ رحمہ اللہ نے مغنی میں نقل کیا ہے۔ اس حدیث کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے حسن قرار دیا ہے لیکن اس حدیث کے حسن ہونے میں علماء کا اختلاف ہے کیوں کہ اس کی سند میں ابراھیم الہجری ہے جو کہ ضعیف ہے۔ صرف ایک سلام پھیرنے کے متعلق ایک مرفوع حدیث بھی آتی ہے لیکن وہ مرسل ہے۔

حوالہ

نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397هـ الطبعة الرابعة عشر 1407هـ. بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م. رياض الصالحين، تأليف: أبو زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي، تحقيق: محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي – بيروت. رياض الصالحين، تأليف : محيي الدين يحيى بن شرف النووي، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428هـ. سنن ابن ماجه، تأليف: محمد بن يزيد ابن ماجه القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: الناشر: دار إحياء الكتب العربية. المستدرك على الصحيحين، تأليف: أبو عبد الله الحاكم محمد بن عبد الله بن محمد النيسابوري، تحقيق: مصطفى عبد القادر عطا، الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com